Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

المقتدی میں لکھا ہے حضرت سہل التستریؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ وضو کرکے جمعہ کی نماز پڑھنے جامع مسجد گیا۔ جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے۔ خطیب منبر پر بیٹھنے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ مجھ سے یہ گستاخی ہوگئی کہ میں صفیں چیرتا ہوا اور لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا اگلی صف میں جا بیٹھا۔ میری نظر داہنی جانب ایک نوجوان پر پڑی جو خوش لباس اور ادنیٰ جامہ زیب تن کئے ہوئے تھے۔ اس کے بدن سے خوشبو مہک رہی تھی۔ جب اس نے میری طرف نگاہ کی تو مجھ سے دریافت کیا کہ سہل! آپ کے کیسے مزاج ہیں؟ میں نے جواب دیا عافیت سے ہوں۔ میں یہ سن کر تعجب سے دل میں سوچنے لگا کہ میںاس شخص کو جانتا تک نہیں اور اس کو میرا نام معلوم ہے۔ میںاس سوچ و فکر میںتھا کہ دفعتاً مجھ کو شدت سے حاجت محسوس ہوئی اور اس سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی اور میری حالت غیر ہوگئی۔ اگر بیٹھتا ہوں تو میری نماز نہیں ہوتی اور اگر باہر جاتا ہوں تو نمازیوں کے سر سے کودتا ہوا جانا پڑے گا۔ میں اس سوچ میں تھا کہ اسی نوجوان نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور پوچھا کہ سہل کیا حاجت محسوس ہو رہی ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ یہ سن کر اس نے اپنے گھٹنوں کے نیچے سے کمبل نکالا اور میرے اوپر ڈال دیا اور کہاکہ جلدی سے فارغ ہوجائو تاکہ نماز مل جائے۔ ادھر نوجوان نے کمبل ڈالا اور ادھر میرے اوپر بے ہوشی طاری ہوگئی اور جب میری آنکھ کھلی تو ایک دروازے پر نظر پڑی۔ کسی کہنے والے نے کہا اندر چلے جائیے‘ خدا آپ پر رحم فرمائے۔ چنانچہ میں اندر داخل ہوگیا۔ دیکھا تو ایک بہت عالی شان محل ہے‘ اس میں ایک کھجور کا درخت لگا ہواہے اور اس کے قریب ہی وضو خانہ ہے جس میںپانی بھرا ہوا ہے۔ پانی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور اس کی ایک طرف پانی گرنے اور بہنے کی نالی بنی ہوئی ہے۔ غسل خانے میںایک تولیہ لٹکا ہواہے اور طاق میں ایک مسواک رکھی ہوئی ہے۔ میں نے کپڑے اتار کر غسل کیا اور تولیہ سے بدن خشک کرکے کپڑے پہن لئے۔ پھر میںنے اپنے کانوں سے سنا کہ سہل اگر ضرورت رفع کرچکے تو بتلائیے۔ میںنے ہاں کہہ دیا ‘ یہ سنکر اس نوجوان نے میرے اوپر سے کمبل اتار لیا۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنی اسی جگہ پر موجود ہوں اور لوگوں کو میرے حال کاکچھ علم نہیں ہوا۔ مگر میں برابر اسی فکر میں رہا کہ معاملہ کیاہے؟ اس کے بعد جماعت کھڑی ہوگئی اور میں نے جماعت کی نماز پڑھی ۔ مگر مجھ کو یہی فکر سوار رہا کہ آخر یہ نوجوان کون ہے؟ جب نماز ختم ہوچکی تو میںاس کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ وہ ایک راستہ پر مڑنے ہی کو تھا کہ اس نے مجھ سے کہا کہ سہل جو کچھ آپ نے دیکھا اس پر آپ کو یقین نہیں آیا۔ میں نے کہا نہیں۔ یہ سن کر وہ نوجوان بولا اچھا آپ اس دروازے میں داخل ہو جائو۔ میں اندر داخل ہوا تو وہی محل ہے اور وہی دروازہ ہے۔ تولیہ اسی طرح لٹکا ہواہے غرض ہر چیز وہی تھی۔ میں نے آنکھ اچھی طرح مل کر کھول لی تو نہ تو وہاں نوجوان ہے اور نہ محل۔(حیات الحیوان)

متعلقہ خبریں