Daily Mashriq


گستاخانہ مواد کے معاملے پرپاکستان کیجانب سے او آئی سی کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ

گستاخانہ مواد کے معاملے پرپاکستان کیجانب سے او آئی سی کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ

ویب ڈیسک:گستاخانہ خاکو ں کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گ،ہالینڈ کے وزیرخارجہ سے رابطہ کرکے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھایا ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قیرشی۔

سینیٹ اجلاس ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے زیرِ صدارت ہوا۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں منظور شدہ تحریک کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادری سمیت ہر پاکستانی نے اس عمل کی مذمت کی، اس سے ایک ارب ستر کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، آزادی اظہارِ رائے کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے، اس اقدام سے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں اس واقعے کی بھرپور مذمت کی۔ گزشتہ روز ایوانِ بالا نے بھی مذمتی قرارداد منظور کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو آگاہ کیا، کل ہی او آئی سی کے چھ وزارئے خارجہ کو خطوط بھی لکھے، میں نے تجویز دی کہ فوراً او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ ستمبر کو امریکی وزیرِ خارجہ دورہ پاکستان پر آ رہے ہیں، ان سے ملاقات میں کوشش کریں گے کہ دو طرفہ تعلقات میں جو موڑ آیا ہے، اس کو مثبت جانب موڑیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اقوامِ متحدہ کے 73ویں اجلاس میں بھی یہ نقطہ اٹھاؤں گا جبکہ یورپی یونین میں بھی اس ایشو کو اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیرِ خارجہ نے بتایا پی ٹی اے نے گستاخانہ مواد والی 32 ہزار 895 ویب سائٹس بلاک کی ہیں۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ہالینڈ کے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات ہوئی اور انہیں پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈچ وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ گستاخانہ خاکوں کا معاملہ حکومتی نہیں، ایک فرد کی حرکت ہے۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم عمران خان یو این جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کرینگے۔ امریکی وزیر خارجہ کا دورہ ملتوی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں، روسی وزیرِ خارجہ سے جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہو گی۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر گزشتہ پانچ سالوں میں غفلت برتی گئی، خدشہ ہے کہ پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے، اگر ایسا ہوا تو یہ ملک کے لیے تباہ کن ہو گا۔

اس سے قبل سینیٹر کامران مائیکل کا کہنا تھا کہ میں کرسچن کمیونٹی کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہوں، کوئی بھی نبی ہو، اس کی شان میں گستاخی ناقابل قبول ہے۔ سینیٹر مولانا فیض نے مطالبہ کیا کہ ہالینڈ کا سفارت خانہ بند کیا جائے جبکہ پاکستان ہالینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے۔

نازیبا اور توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر سینیٹ میں قائدِ ایوان سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا گستاخانہ مواد کے معاملے پر ایوان کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے کنونشنز کا جائزہ لے کر اس معاملے پر عملی اقدامات کے حوالے سے لائحہ عمل تجویز کرے گی۔

متعلقہ خبریں