Daily Mashriq

تیری آواز مکے مدینے!

تیری آواز مکے مدینے!

پاکستان کے قومی احتساب بیورو(نیب)کے چیئرمین کی جانب سے پاناما اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں فوری طور پر تحقیقات کرنے کا حکم قوم کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں۔ مزید قابل اطمینان امر یہ ہے کہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کے دبائو اور سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ چیئرمین نیب نے 435پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کی انکوائری کرنے کے علاوہ ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو ان کمپنیوں کی معاونت حاصل کرنے کی ہدایت کو ایک سنجیدہ ابتداء قرار دیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ یہ نام گزشتہ برس پاناما پیپر لیکس میں سامنے آئے تھے جب پاناما کی کمپنی موسیک فونسیکا کی ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کو افشا کر دیا گیا تھا۔ ان تفصیلات سے ظاہر ہوا تھا کہ آف شور کمپنیوں کا کاروبار کس طرح چلتا ہے۔ان دستاویزات میں ملک کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی تھے اور ان دستاویزات کی وجہ سے ہی عدالت میں نواز شریف کے خلاف وہ مقدمہ چلا تھا جس کے نتیجے میں انہیں رواں برس نااہل ہونے کے بعد وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی تھی۔قومی اسمبلی میں حزب مخِالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پاناما لیکس سے متعلق پیش کیے گئے بل میں بھی کہا گیا تھا کہ ان تمام افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں تاہم یہ بل کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ پاناما لیکس میں پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہونے کے بعد جن شخصیات نے اس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ان میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی شامل تھے جو نواز شریف کے خلاف مقدمے کے مدعیان میں بھی شامل تھے۔ان کا آغاز سے ہی یہی مطالبہ تھا کہ ان تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جن کے نام پاناما لیکس میں شامل ہیں۔وسیع تر احتساب کے قومی مطالبہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں یہ ایک قومی مطالبہ اور وطن عزیز پاکستان کے عوام کی دل خواہش بھی ہے اور قومی احتساب بیورو کی ذمہ داری بھی لیکن چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے مطالبے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرکے عوام کی نمائندگی اور ان کے دل کی آواز کو قانونی قالب میں ڈھالنے کی سعی کی تھی جبکہ امیر جماعت اسلامی بھی بلا امتیاز احتساب کے عملی طور پر حامی ہیں جبکہ تحریک انصاف بھی احتساب کا مطالبہ کرتی ہے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس سے انکار نہیں لیکن پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف زیادہ عملی تھا اس لئے اب اس سے اس امر کی توقع غلط نہ ہوگی کہ وہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت ہونے کے ناتے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر قوم کا اربوں روپے لوٹنے والے عناصر کے بلا امتیاز احتساب کے عمل میں چیئرمین نیب کی آئینی ‘ قانونی اور اخلاقی مدد کے لئے آگے آئے تاکہ احتساب کے اس اجتماعی عمل کو سہل بلکہ ممکن بنایا جاسکے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف پانامہ کیس جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت شریف خاندان حدیبیہ کیس میں احتسابی عمل سے گزرچکے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کے دست راست جہانگیر ترین بھی احتسابی عمل میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا سامنا کرچکے ہیں۔ محولہ تمام افراد کے بارے میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آچکا علاوہ ازیں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچے اب بھی نیب کی تحقیقات اور عدالتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اس فضاء کو اگر احتسابی عمل کے لئے نہایت ساز گار ماحول قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وطن عزیز میں بالا دست کے احتساب کی تو اس سے قبل کبھی نوبت ہی نہیں آئی اگر اس طرح کی کوئی مساعی کی بھی گئیں تو ان کی سیاست زدگی عیاں تھی۔ اب چونکہ پہلی مرتبہ ا حتساب کا عمل ملک کے وزیر اعظم اور طاقتور ترین شخص اور ان کے خاندان سے کیاگیا ہے جس سے اس امید کا اظہار کہ پانامہ کیس کے تمام کرداروں اور افراد کے خلاف بھی بلا امتیاز تحقیقات اور ان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی توقع خلاف حقیقت نہ ہوگی۔ وطن عزیز میں احتساب کے عمل کی ضرورت اور اس کی تیاریوں کی تو ایک عرصے سے باز گشت بھی تھی لیکن اس کی نوبت نہیں آسکی تھی۔ قوم چیئر مین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال سے بجا طور پر اس امر کی توقع رکھتی ہے کہ وہ عملی طور پر اور بلا امتیاز ہر بالادست کا احتساب کرکے بتدریج احتساب کے عمل کی تکمیل کی قومی ذمہ داری نبھائیں گے۔ اس مخلصانہ عمل میں وہ پوری قوم کو اپنا ہم رکاب اورمعاون پائیں گے۔

متعلقہ خبریں