Daily Mashriq

سی پیک کی افغانستان تک توسیع کی چینی پیشکش

سی پیک کی افغانستان تک توسیع کی چینی پیشکش

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سہ فریقی کانفرنس سے خطاب میں چینی وزیر خارجہ کا خطے میں امن کے فروغ کے لئے اربوں ڈالر کے اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کی افغانستان تک وسعت دینے کا عندیہ پاکستان‘ چین اور افغانستان تینوں ممالک کے لئے اہمیت کا حامل معاملہ ضرور ہے لیکن افغانستان جیسے پسماندہ اور جنگ زدہ ملک کی تعمیر و ترقی اور وہاں کے عوام کومسائل سے نکالنے کے لئے اس منصوبے کی اہمیت کئی گنا زیادہ ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے کی افغانستان تک توسیع کا تو خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے لیکن چینی جو خواب د یکھتے ہیں اس کی تعبیر ممکن بنانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔اصولی طور پر دہشت گردی اور جنگ زدہ ملک افغانستان کی بالخصوص اور خطے کے دیگر ممالک کی معیشت کو دہشت گردی سے متاثر ہونے کا ازالہ کرنا امریکہ کی ذمہ داری تھی جسے انہوں نے چنداں پورانہ کیا۔ ایسا کرنا تو درکنار الٹا امریکہ کو خطے کی تعمیر و ترقی کے منصوبے تک قابل قبول نہیں بجائے اس کے کہ امریکہ کی معاونت حاصل ہوتی۔ امریکہ بھارت کو خطے میں آگے لا کر سی پیک سمیت دیگر صورتحال کو متاثر کرنے کی سعی میں ہے۔ بہر حال بیجنگ میں سہ فریقی کانفرنس میں چین کی اس فراخدلانہ پیشکش سے امید کی جاسکتی ہے کہ افغانستان کے حکمران اس زریں موقع کو ممکن بنانے کے لئے دوست اور دشمن میں تمیز کرنا گوارا کریں گے۔ افغانستان کی حکومت کو اس امر پر غور کرلینا چاہئے کہ ان کا مفاد کن ممالک سے وابستہ ہے اور ان کی اس وقت کی ترجیحات کیا ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ افغانستان بھارت کی گود میں جا بیٹھا ہے جبکہ امریکہ افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار اور مستحکم رکھنے کے لئے افغانستان میں استحکام کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ افغان حکمران اگر پاکستان‘ چین‘ بھارت اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن لائیں توکسی مشکل میں پڑے بغیر وہ اپنے ملک کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ سی پیک کی توسیع کی پیشکش ایک زریں موقع ہے جسے ممکن بنانے کے لئے پاک افغان تعلقات میں بہتری اور غلط فہمیوں کے ازالے کی ضرورت ہے۔

آئمہ مساجد کواعزازیہ کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت

خیبر پختونخوا حکومت کی آئمہ مساجد کو ماہانہ دس ہزا رروپے اعزازیہ دینے کا اقدام مستحسن ضرور ہے تاہم اسے صرف اعزازیہ کے طور پر دینے کی بجائے اگر اسے مختانہ کی شکل دی جائے تو باعزت طریقے سے اسے قبول کرنا آئمہ کے لئے بھی ممکن ہوگا اور اس پر اعتراضات کی گنجائش بھی باقی نہیں رہے گی۔ ہمارے تئیں اس اعزازیہ کے عوض آئمہ مساجد کو علاقے کے سکولوں کے بچوں سمیت دیگر بچوں کو مسجد کے احاطے یا متصل مدرسے یا مسجد سے متصل کسی عمارت میں جو عموماً بڑی مساجد میں ہو تی ہیں اورمسجد کے ساتھ ہی وقف ہوتی ہیں میں دینی تعلیم کی ذمہ داری دی جائے۔ اگر دیکھا جائے تو تقریباً اسی فیصد مساجد میں اسی طرح کی تعلیم کا انتظام پہلے سے موجود ہے ۔ اس اعزازیہ کے ساتھ اس کو باقاعدہ اور با معاوضہ بنایا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔ اس طرح کی مساجد میں زیر تعلیم طلبہ کا باقاعدہ سرکاری طور پر امتحان لیاجائے اور علماء بورڈ سے ان کے لئے دینی نصاب تیار کروایا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی باقاعدہ جانچ اور نگرانی کا عمل بھی بحسن و خوبی جاری رہ سکے۔

پی آئی اے ایسے فعال نہیں ہوگی

وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوابازی سردار مہتاب احمد خان کی جانب سے پی آئی اے کو جلد ملک کا صف اول کا ادارہ بنانے کا عزم بہت مبارک ہے لیکن عملی طور پر ان کے آنے کے بعد قومی فضائی کمپنی میں ایسے اقدامات نظر نہیں آئے کہ پی آئی اے کو خسارے سے نکال کر ایک مرتبہ پھر اپنے پائوں پر کھڑا کیا جائے ۔ سردار مہتاب اگر اپنی سعی میں سنجیدہ ہیں تو کارپوریشن کے قوانین میں سفارشی اور نااہل افراد کی بھرتی اور ادارے کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کی کوشش کریں زیادہ پرانی بات نہیں جب پی آئی اے اپنی سطح ہی کی دوسری ائیر لائن جنم دینے کی پوزیشن میں تھا اور آج عالم یہ ہے کہ پی آئی اے کے فضائی روٹ بند ہوں رہے ہیں ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں جس ادارے میں بھی مالی بدعنوانی اور سیاسی بنیادوں پر لوگ بھرے جائیں اس کا یہی انجام سامنے آتا ہے۔ اگر پی آئی اے کو دوبارہ فعال بنانا ہے تو ایسی سخت گیر پالیسیاں اور اقدامات کرنے ہوں گے جس میں محولہ قسم کے معاملات کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ جلد ہی پی آئی اے میں بہتری کیلئے وزیرا عظم کے مشیر کی نظرآنے والے اقدامات سامنے آئیں گے اور پی آئی اے کی عظمت رفتہ کی بحالی کا دور شروع ہوگا ۔

متعلقہ خبریں