Daily Mashriq

کیا لکھوں ؟

کیا لکھوں ؟

ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے 25دسمبر پر قائد اعظم کے حوالے سے کالم کیوں نہیں لکھا ؟ میں ان کے سوال کا جواب کیا دیتی ۔ میں انہی سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ میں کیا لکھتی کہ قائد کے پاکستان کا ہم نے کیا حال کردیا ہے اور اب ہم تفاخر سے ان کی سالگرہ کے دن اس سب کا اظہار کررہے ہیں ۔ کیا لکھتی کہ سیاسی جماعتیں مردار سمجھ کر اس ملک کا گوشت اپنی اپنی طاقت کے حساب سے نوچتی ہیں اور یہ قوم ایک کونے میں بیٹھی ، خوف سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب دیکھتی رہتی ہے ۔ کیا لکھتی کہ ہم دھوکے کھا کھا کر یہ بھول ہی گئے ہیں کہ اصل کیا ہوتا ہے ، حقیقت کیسی ہوتی ہے اور روشنی کیسی دکھتی ہے ۔ کیا لکھوں کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے تسلط سے آزاد ہونے کی خواہشمند قوم اتنی قربانیوں کے باوجود آج تک ان کھوٹے سکوں کے چنگل سے آزاد نہیں ہو سکی جس کا احساس خود قائد اعظم کو بھی ہوگیا تھا کیا لکھوں کہ ہم لٹتے ہی چلے جاتے ہیں لیکن اف تک نہیں کرتے اور کئی بار تو لگتا ہے کہ ہمیں احساس تک نہیں ہو تا ۔ اور احساس کیسے ہو ۔ احساس زندوں کو ہوا کرتے ہیں اور ہمیں تو مردہ ہوئے ایک زمانہ بیت گیا ۔ہم تو اب اپنی اسی حالت پر خوش ہیں ۔ ہمیں تو اب تبدیلی سے بھی خوف آتا ہے کیا لکھوں کہ امید کہیں سے کسی صورت دکھائی نہیں دیتی اور یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ ہمارے مستقبل کی بھلائی سوچنے والے کسی شخص نے کہیں اس ملک میں کسی گود میں جنم لے لیا ہے۔ چہار جانب تو اُن گدھوں کو آوازیں سنائی دیتی ہیں جو پہلے ہی ہماری آنکھوں پر وار کرتے ہیں ۔ جن کے چہروں پر کوئی نقاب نہیں جن کے ارادے ان کے مدقوق جسموں کے اوپر ٹنگے ہیں ۔ کیا لکھوں کے قائد کا پاکستان تو بس بچوں کی تقاریر کا استعارہ ہی رہ گیا ہے ۔ اس سے زیادہ نہ ہم اس کو کچھ سمجھتے ہیں نہ جدوجہد کرتے ہیں ۔کیا لکھوں کہ اگر سچ لکھوں تو لفظوں کی رورو کر ہچکی بندھ جائے ۔ وہ خواب جسے ہمارے آباء نے اپنے خون سے سینچا تھا ہم نے اس خواب کے حسین پر نوچ لیے اور وہ روپہلارنگ بھی مٹی میں ملادیا جو خوابوں کے حاشیے ترتیب دیا کرتا ہے ۔ ہم توبہت ناشکرے ٹھہرے ۔ اس نعمت کی قدر ہی نہیں کی جو ہمیں عطا کی گئی تھی کیا لکھوں کہ ہماری زبانوں پر تالے پڑے ہیں اورہم میں سے اب کوئی اتنا غیرت مند نہیں کہ انہی حکمرانوں کو کہے کہ اب کیا جھوٹ بولتے ہو تم نے تو ہماری غیرت کے سودے کرنے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔ کیا لکھوں کہ 25دسمبر کو کراچی میں شاہراہ فیصل کے کنارے کھڑی قائد اعظم کی کوٹھی کے سینے سے اٹھتی ہوک کی آواز تیز تر ہوجاتی ہے۔ ان خالی کمروں کی مایوسی میں اس قوم کی بے بسی شامل ہوجاتی ہے اور وہ بوڑھا چوکیدار جو ہر آنے جانے والے سے فریاد کرتا ہے کہ قائد کی چیزیں تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ اس ملک و قوم کا اثاثہ ہیں۔ قائد سے جڑے رہنے کا ایک ذریعہ ہیں‘ انہیں محفوظ کرنے کا کوئی بندوبست کرو‘ اس کی آنکھیں ان عالی شان شاپنگ مالز کو حسرت سے دیکھتی ہیں۔ اس ملک کے لوگوں نے تو کبھی اپنی زکواۃ کی رقم بھی اس غریب گھر کو دینے کے بارے میں نہیں سوچا جو ہماری اسی بے توجہی کا شکار ہے جس کاشکار خود اس قوم کا مستقبل ہے۔ میں کیا لکھوں کہ ہم تو اپنے سیاستدانوں کے ہاتھوں لٹتے ہیں لیکن اس کا بدلہ ہم اپنے ماضی سے لینا چاہتے ہیں۔ہم اپنے ماضی کے دشمن بن گئے ۔ ہمیں اپنے قائد سے کوئی لگائو نہیں ہمیں تو یہ یاد تک نہیں کہ وہ کون تھے اور انہوں نے اس ملک کے لئے اس قوم کے لئے کیا قربانیاں دی تھیں۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں کہ وہ کس طرح اپنی زندگی کی شمع دونوں سروں سے جلاتے رہے اور ہم نے ان کی قربانی کو یاد تک نہ رکھا۔ان کی اس قوم کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو فراموش کردیا ہم میں سے کسی نے قائد اعظم کی کسی نشانی کو بچانے یا اسے محفوظ کرنے کی کوئی جدوجہد نہیں کی ‘ اس ملک کے بارے میں سوچ بچار کیا کرتے۔ میں سوچتی ہوں تو خون کھولنے لگتا ہے۔ کیا لکھوں کہ بحیثیت قوم ہمارا کردار ہی ایسا ہے کہ قائد اعظم کی تصویر سے نظریں ملاتے شرم آتی ہے اور ہم میں دھیرے دھیرے تو یہ احساس بھی ختم ہو رہا ہے۔ کیا لکھوں کہ

اک عمر گزار آئے تو محسوس ہوا ہے

اس طرح تو جینے کا ارادہ ہی نہیں تھا

کیا لکھوں کہ اب قائد اعظم کا نام لیتے ہوئے بھی نئی نسل سوچتی ہے کہ کیا واقعی انہیں قائد اعظم کا احسان مند ہونا تھا کیونکہ ہم نے تو انہیں ایسا کوئی سبق ہی یاد نہ کروایا ہے۔ ہم نے تو انہیں یہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں بتایا کہ یہ ملک ہم نے کتنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ کیا لکھوں اور کچھ سمجھ نہیں آتا اسی لئے 25 دسمبر سے نگاہیں چرا کر وہی لکھتی رہی جس کی جانب ہم ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ ہم جس جانب دیکھتے ہی نہیں جس کا خیال تک نہیں کرتے اس کے حوالے سے کیا بات کرتی کیا لکھتی‘ اب تو وہی لکھنا چاہئے جو ہمیں یاد ہے جو ہماری ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ اگر وہ لکھنا چاہوں گی جس کے لکھے جانے کاحق ہے جو 25 دسمبر کو ‘ تئیس مارچ کو‘ چودہ اگست کو قلم سے خون ٹپکے گا‘ لفظ خون آشام درندے بن جائیں گے اور ہمارے مردہ ضمیروں کو بھنبھوڑ کر رکھ دیں گے۔ تب قلم تلوار ہوگا اور وہ دھول جو ہمارے ذہنوں کو اپنے قبضے میں لئے ہوئے ہے تار تار ہوجائے گی۔ اس دن شاید لکھنا آسان ہو جائے گا۔ شاید لفظوں کو دنوں اور تاریخوں میں میل کھانا آسان ہو‘ شاید قلم اور تحریر کی حدت میں اس قدر کمی ممکن ہوسکے کہ پھر کوئی جملہ لکھنا ممکن ہو لیکن اس وقت تک لکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ قرض تو بھالوں کی طرح روح میں پیوست ہے۔ ان تاریخوں کا قرض ادا کرنا شاید تبھی ممکن ہو جب کوئی امید کوئی تبدیلی ہاتھ پکڑے‘ کسی سمت سے جھانکے ۔ کچھ بہتری دکھائی دے ۔ کچھ اثبات کے آثار ملیں ۔

متعلقہ خبریں