Daily Mashriq

آئی ایم ایف اور دیوالیہ پن کی کھائی

آئی ایم ایف اور دیوالیہ پن کی کھائی

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے ۔زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور روز مرہ کے اخراجات کے لئے قرض لئے بنا کوئی چارہ نہیں۔پاکستان کی مالی مشکلات کے حوالے سے ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کیچیئرمین اور ہری پور چیمبر آف کامرس کے رہنما عاطف اکرام شیخ کا ایک چونکا دینے والا بیان اخبارات میں شائع ہو ا ہے ۔ بیان کے مندرجات کچھ یوں ہیں’’ اقتصادی راہداری کی قیمت پر آئی ایم ایف سے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔اس سے نہ صرف یہ کہ عوام میںزبردست ردعمل ہوگا بلکہ اس کے سیاسی نتائج بھی منفی ہوں گے۔آئی ایم ایف کے فیصلوں میں امریکہ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اسے سی پیک پسند نہیںجبکہ پاکستان کی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے قرض کی درخواست کا منتظر ہے۔پاکستان کے لئے امریکہ کی پالیسی تبدیل ہوتے ہی آئی ایم ایف کی پالیسی بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ اگلے برس جون تک زرمبادلہ کے ذخائرتشویشناک حد تک کم اور ستمبر تک ختم ہو سکتے ہیں۔پاکستان کو اگلے ڈیڑھ برس میں کم وبیش بتیس ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی ۔سی پیک اور دوسرے ذرائع سے آٹھ ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیںجبکہ چوبیس ارب ڈالر کا مزید انتظام کر نا پڑے گا ‘‘۔ اگر پاکستان کی معاشی مشکلات کے حوالے سے یہ تجزیہ درست ہے تو پھر پاکستان اس وقت نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی کیفیت سے دوچار ہے ۔سامنے آئی ایم ایف کا مگر مچھ منہ کھولے کھڑا ہے اور پیچھے معاشی دیوالیہ پن کی گہری کھائی ہے ۔دنیا کا انتظام اس وقت مختلف اداروں کے ذریعے امریکہ کے کنٹرول میں ہے ۔اقوام متحدہ ان میں سب سے اہم ادارہ تھا ۔فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ نے امریکہ کے چنگل سے نکلنے کی معمولی سی کوشش کی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سالانہ گرانٹ میں اٹھائیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی کٹوتی لگادی۔اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے ٹرمپ کے پر رعونت انداز کو آگے بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سالانہ گرانٹ میں کٹوتی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی کو امریکہ کی سخاوت کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اقوام متحدہ کی ناکامیاں اور شاہ خرچیاں سب کے سامنے ہیںاس لئے اقوام متحدہ کے بجٹ میں دو سو پچاسی ملین ڈالر کم کئے جاتے ہیں ۔امریکہ اقوام متحدہ کو گرانٹ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے جو اس ادارے کے مجموعی بجٹ کا بائیس فیصد ہوتی ہے جبکہ باقی بجٹ دنیا کے دوسرے تمام ملک مل کر فراہم کرتے ہیں۔گزشتہ ستمبر تک اقوام متحدہ کے بجٹ میں چونسٹھ کروڑ ڈالر کی کٹوتی کی گئی تھی جبکہ امریکہ کے دفاعی بجٹ میں پندرہ ارب ڈالر کا اضافہ کیا تھا ۔یورپی یونین بھی اس کٹوتی پر تنقید کئے بغیر نہ رہ سکی تھی اوریورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا تھا کہ عالمی مسائل کا پرامن حل بھی اسی قدر ضروری ہے کہ جتنا عسکری حل ۔اقوام متحدہ کے صحت ،خوراک اور اطفال سے متعلق پروگرام امن کے لئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کو آزاد روش کی طرف چل پڑنے کے اس فیصلے کی قیمت کئی اورمعاندانہ امریکی اقدامات کی صورت بھگتنا باقی ہے ۔امریکہ کی اس کٹوتی سے اقوام متحدہ کے دنیا بھر میں جاری عوامی بھلائی اور بہبود کے منصوبے متاثر ہوں گے جن میں ماحولیات ،تعلیم اورصحت کے شعبے بھی شامل ہیں ۔ عالمی عدالت انصاف بھی مغرب میں قائم ان عالمی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے جن پر امریکہ کا اثر رسوخ ہے ۔ کلبھوشن یادیو کے سیدھے سادے جاسوسی اور دہشت گردی کے مقدمے کو جس طرح عالمی عدالت انصاف نے بہ اہتمام قبول کرکے فریقین کو نوٹسز جاری کئے اور ایک باقاعدہ مقدمے کا رنگ دے کر سماعت شروع کردی وہ کسی اشارے کا ہی کمال ہے ۔وگرنہ ایسی کتنی ہی درخواستیں ردی کی ٹوکری کی نذر ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعات پر جو کچھ ہوا وہ پاکستان کے لئے خوش کن نہیں رہا ۔ آئی ایم ایف بھی ایسا عالمی ادارہ ہے جس کے ذریعے امریکہ مختلف ملکوں کی معیشتوں پر اثر انداز ہوتا اور ان سے اپنے فیصلے منواتا ہے ۔امریکہ کی پاکستان سے برہمی کا عالم یہ ہے کہ اب امریکی حکمرانوں کو پاکستان کو کوسنے ،طعنے دئیے بغیر کھانا تک ہضم نہیں ہوتا ۔وہ نیند میں بھی محفوظ پناہ گاہوں کا منترا پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔امریکہ کے یہ بگڑے اور بدلے ہوئے تیورآئی ایم ایف کی شرائط کو مزید سخت یہاں تک بلیک میلنگ کی صورت بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔میاں نوازشریف اس صورت حال کو اپنی نااہلی سے جوڑ رہے ہیں ۔ان کا خیال ہے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ان کے منظر سے ہٹ جانے کی وجہ سے ہوئی ۔تو گویا وہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کو اپنے جانشین نہیں سمجھتے ۔ قوم کو تو پتا نہیں کہ لندن میں محو استراحت وزیر خزانہ اسحاق ڈار عہدے پر ہیں یا نہیں ؟مگر رپورٹس ہیں کہ وہ اب بھی واٹس ایپ پر ضروری معاملات نمٹاتے ہیں۔ اس صورت حال میں حکومت پاکستان کو اقتصادی خودکفالت کے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہئے ۔نوٹ چھاپنے اور قرض لے کر کام چلانے کی روایتی پالیسی اب کارگر نہیں رہے گی ۔حکمران اگر پیٹ پر ایک پتھر باندھنے پر آمادہ ہوں تو عوام دو پتھر باندھ سکتے ہیں مگرخودی ،خود انحصاری اور خدا انحصاری کی راہ پر چلنے کا فیصلہ تو کیا جائے۔

متعلقہ خبریں