Daily Mashriq

جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا

جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا

کیا مسلم لیگ (ن) کے اندر کوئی کھچڑی پک رہی ہے ، یا پھر جو متضادبیانات سامنے آرہے ہیں ان کا مقصد صرف سیاسی سطح پر کنفیو ژن پھیلا نا ہے اور جن حالات سے اس وقت حکمران جماعت گزر رہی ہے ان سے نہ صرف توجہ ہٹا نا مقصود ہے بلکہ پارٹی میں انتشار کی جو کیفیت بظاہر نظر آرہی ہے ان سے چھٹکارا پانا ہے ۔ جب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کے فیصلے کا سامنا ہے تب سے پارٹی کے ممبران اسمبلی کے بارے میں بعض مخالف سیاسی رہنما ایسے دعوے کرتے نظر آئے جن میں حکمران جماعت کا شیرازہ بکھرنے کی پیشگوئیاں کی گئی تھیں دوسری جانب ماڈل ٹائون لاہور کے سانحے کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اگر ایک طرف علامہ طاہرالقادری کی جانب سے صوبائی حکومت کے بعض وزراء کے استعفے مانگے گئے تو دوسری جانب اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں دیئے جانے والے دھرنے اور قادیانیوں کی حیثیت کے بارے میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے مبینہ بیان پر لاہور میں ایک اور دھرنے میں رانا ثناء اللہ کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں کی مانگ کی باز گشت نے بھی لیگ (ن) کو خاصا پریشان رکھا ، تاہم بعد میں وزیراعلیٰ کے استعفے کی ڈیمانڈ چھوڑ کر صرف رانا ثناء اللہ سے مستعفیٰ ہونے پر زور دیا گیا ۔ ادھر شیخ رشید ایک بار پھر موجودہ حکومت کے دن پورے ہونے کی باتیں کرتے ہوئے کبھی قربانی سے پہلے قربانی اور کبھی حدیبیہ پیپر ز کیس کو حکمران خاندان کیلئے خطر ناک نتائج کا حامل قرار دیتے رہے ہیں ، مگر سپریم کورٹ کی جانب سے حدیبیہ کیس کو سننے سے انکار کے بعد صورتحال میں جوہری تبدیلی کے آثار واضح ہو چکے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے شریف خاندان کے مخالفین کو مایوسی سے دوچار کر دیا ہے ، ایسی صورت میں نواز شریف کا بیانیہ سیاسی سطح پر ہلچل ضرور مچارہا ہے ، اگرچہ خود پارٹی (لیگ ) کے اندر میاں نواز شریف کے اختیار کئے ہوئے رویئے پر سوالات اٹھ رہے ہیں ، یہاں تک کہ چوہدری نثار علی خان کھل کر نواز شریف کی مخاصمت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جبکہ چھوٹے میاں بھی نواز شریف کی پالیسیوں سے عدم اتفاق کرنے پر مجبور ہیں ، اس پس منظر میں میاں نواز شریف کی جانب سے 2018ء کے الیکشن کے بعد وزارت عظمیٰ کیلئے اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کی نامزدگی پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے ، خاص طور پر لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات اوروفاقی وزیر مشاہداللہ خان کے اس تازہ بیان نے میاں نواز شریف کے اپنے بھائی کی نامزدگی کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے ، مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف آخری لمحے تک وزارت عظمیٰ کارڈ اپنے پاس رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مجلس شوریٰ میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ اگر اس ضمن میں کوئی فیصلہ لینا ہوگا تو اسے پارٹی کی سنٹرل ایگز یکٹو کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا ۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمد احمد نے بھی کہا ہے کہ شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کیلئے نامزدگی کے معاملے پر پارٹی کا باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا ، سی ای سی کے حتمی فیصلے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا ۔ پارٹی کے ان دو اہم رہنمائوں کے بیانات کے بعد میاں شہباز شریف کے اس تبصرے کی حقیقت سامنے آجاتی ہے جو انہوں نے اپنی نامزدگی کے اعلان کے حوالے سے میاں نواز شریف کے بیان پر ’’خدا آپ کی زبان مبارک کرے ‘‘ کی صورت میں کیا تھا ۔ گویا خود شہباز شریف کو بھی بڑے میاں کے اس اعلان پر یقین تھا اور وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی بڑے میاں سے کچھ نہ کہہ سکے 

چھو نہ پا یا مرے اندر کی اداسی کوئی

میرے چہرے نے بہت اچھی اداکاری کی

سوال مگر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف نے کس برتے پر یہ اعلان کیا کہ اگلے وزیراعظم میاں شہباز شریف ہوں گے ، کیونکہ وزارت عظمیٰ کا فیصلہ تو 2018ء میں انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا ، اور کون کیا جانے کہ تب تک سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔ ایک تو گزشتہ کچھ عرصے سے ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہورہی ہیں ، اورحکمران حکومت کے مخالفین موجودہ حکومت کو چلتا کرنے کیلئے اس قدر بے چین اور اتولے ہورہے ہیں کہ ان کا بس چلے تو فوراً سے پیشتر اس حکومت کو رخصت کردیں ، خواہ انتخابی عمل اور وہ بھی آئین کے تقاضوں کے مطابق ہونے ہی نہ پائے ۔ ایسی حالت میں وہ ٹیکنو کریٹ حکومت کو بھی قبول کرنے کو تیار ہیں ، لیکن ان کے اس خواب کی تعبیر کے چانسز کو سینیٹ کے اجلاس میں آرمی چیف کے واضح اعلان نے دھندلا دیا جب انہوں نے جمہوریت کی حمایت کی بات کی ، اس کے بعد صرف اور صرف ملک میں عام انتخابات کے بعد ہی نئی حکومت قائم ہونے کی بات کی جا سکتی ہے ۔ جبکہ نیا وزیر اعظم اکثریتی جماعت ہی کا ہو سکتا ہے اور انتخابات میں اکثریت کس جماعت کو ملتی ہے یہ فیصلہ عوام ہی کر سکتے ہیں۔ بہر حال میاں نواز شریف کو پارٹی صدر ہونے کے ناتے یہ استحقاق ضرور حاصل ہے کہ وہ پارٹی کی سنٹر ل ایگزیکٹو کمیٹی میں یہ تجویز پیش کر کے میاں شہباز شریف کی نامزدگی کی تو ثیق کرانے کے بعد انہیں انتخابی معرکے میں اتاریں اور اگر لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہوگئی تو اس کے بعد ہی انہیں وزیر اعظم کے منصب پر بٹھا دیں ۔ بصورت دیگر مرزا غالب سے رجوع کرنا پڑے گا کہ

تھا خواب میں خیال کو دل سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا

متعلقہ خبریں