Daily Mashriq

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

جی سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے وہ اپنی پٹاری سے دو چار نئی خبریں ضرور نکال کر ہمیں حیران کردیتے ہیںکل کہنے لگے یار دل بہت اداس ہے ہم نے وجہ پوچھی تو بڑے افسردہ لہجے میں کہنے لگے کہ نہوں نے سگریٹ نوشی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا ہے۔ ہمیں ان کی بات سن کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ ہم بھی ان متاثرین میں سے تھے جن کے چہرے میاں جی دھویں کے مرغولے بے تکلف چھوڑا کرتے تھے حیران ہو کر اس کایاکلپ تبدیلی کی وجہ پوچھی تو مسکرا کر کہنے لگے یار ہر چیز تبدیل ہورہی ہے تو میں نے سوچا مجھے بھی تھوڑا بہت تبدیل ہونا چاہیے۔میاں جی کی زبانی معلوم ہوا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ لوگ موت کو گلے لگاتے ہیں ۔ دنیا میں ہر سال تمباکو نوشی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوالیس لاکھ ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سگریٹ بہت سستی ہے اور پھر ہمارے یہاں تو روٹی مہنگی اور سگریٹ سستی ہے۔ جس ملک میں روٹی مہنگی ہو روزمرہ زندگی میںاستعمال کی جانے والی اشیائے خوردنی مہنگی ہوں تازہ پھلوں کی خریداری جہاں جوئے شیر لانے کے مترادف ہوزندگی بچانے والی دوائیاں مہنگی ہوں اور سگریٹ سستی ہو تو بڑی حیرانی ہوتی ہے۔ جو چیز ایک لاکھ پاکستانی ہر سال مار دیتی ہو اس پر پابندی لگانی چاہیے۔ ہم سیل فون اور موٹر سائیکل پر تو پابندی لگا دیتے ہیں لیکن سگریٹ جیسے خاموش قاتل کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ہمارے ملک میں دو سو بلین روپے صرف تمباکو نوشی کی مد میں ضائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک نئی لعنت شیشہ کیفے کا وجود ہے جہاں طلبہ کی ایک کثیر تعداد نشہ کرتی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ایک گھنٹہ شیشہ پینے کا مطلب ہے روزانہ ایک سو سگریٹ پینا۔ تین سے چار سگریٹ روزانہ پینے والوں میں بھی کینسر اور امراض قلب کے خطرے عام آدمی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ ہم نے میاں جی سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا کہ جناب بی سگریٹ کے علاوہ ہمارے یہاں اور بھی ہماری تباہی کے بہت سے سامان موجود ہیں ہمیں ان پر بھی توجہ دینی ہوگی ۔تیس سے پینتیس افراد میں دل اور پھیپھڑوں کے امراض کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔سب سے زیادہ آلودگی صنعتی علاقوں میں نوٹ کی گئی ہے۔ہم یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا پیارا شہر پشاور جو کبھی پھولوں کا شہر کہلاتا تھا اب اس کی فضائیں سب سے بڑھ کر آلودہ ہیں۔ رکشوں کی فوج ظفر موج ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر شتر بے مہار کی طرح دندناتی پھرتی ہے۔ٹریفک پولیس نے بڑی کوشش کی کہ ان کی تعداد میں کسی بھی طرح کمی کی جاسکے لیکن رکشہ ڈرائیور ٹریفک پولیس ہی کی مدد سے پشاور کی سڑکوں کی زینت بنے پھرتے ہیں۔ ان کے سائیلنسروں سے نکلنے والا دھواں پشاور کی فضائوں کو آلودہ کرنے میں اپنا کردار بطور احسن ادا کررہا ہے۔ اب تو رکشوں کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل بھی کثیر تعداد میں پشاور کی سڑکوں پر دوڑتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ گاڑی چلانے والوں کو رکشہ ڈرائیوروں سے نالاں دیکھا۔ اب یہی رکشہ ڈرائیور جن سے ایک دنیا نالاں ہے ان کا موٹر سائیکل سواروں نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گنجان آباد سڑکوں پر کرتب دکھانے والوں کی اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ یہ رکشہ ڈرائیوروں کے آگے اس انداز سے آجاتے ہیں کہ انہیں بریک لگانی ہی پڑتی ہے۔ ہم نے بہت پہلے کسی کالم میں لکھا تھا کہ چونکہ ہماری عمر عزیز کا بیشتر حصہ پشاور کی سڑکوں پر روڈ ماسٹری کرتے گزرا ہے اس لیے اس معاملے میں احباب سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے فرمائے ہوئے کو مستند سمجھیں اور ہمارے قیمتی مشوروں پر عمل کریں۔سڑک پر چلتے ہوئے اس جگہ کو نگاہ میں رکھیے جہاں سڑک کے گڑھوں کی وجہ سے پانی ایک چھوٹے موٹے تالاب کی سی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ آپ سفید پوشاک زیب تن کیے خراماں خراماں دفتر کی طرف رواں دواں ہیں عین ممکن ہے آپ کے ہونٹوں پر کسی پرانے گیت کے خوبصورت بول بھی ہوں کہ اچانک ایک اڑن کھٹولہ زن سے آپ کے پہلو میں سے گزرتا ہے اور آپ کے بے عیب صاف شفاف لباس کو تر دامنی کے صدمے سے دو چار کردیتا ہے۔ اب آپ کی حالت دیدنی ہوتی ہے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ یہ باتیں تو اپنی جگہ فضا میں آلودگی پھیلانے کے حوالے سے بھی رکشہ موٹر سائیکل اور دوسری گاڑیاں اپنا اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ ایک لاکھ انسان سالانہ مار دینے والی سگریٹ کسی رعایت کی مستحق نہیں ہے اگرچہ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت ہے اس پابندی کی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ کا دھواں فضا کو آلودہ کردیتا ہے اور آس پاس بیٹھے شریف لوگوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔عوام میں سگریٹ پینے کے نقصانات کے حوالے سے آگہی روز بروز بڑھ رہی ہے لیکن اس کے باوجود چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی! ۔

متعلقہ خبریں