Daily Mashriq

بیت المقدس کی قانونی جنگ

بیت المقدس کی قانونی جنگ

امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعدبیت المقدس کے دفاع میں پوری دنیا سے امریکہ و اسرائیل کے خلاف احتجاج اورقانونی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔کیونکہ 18دسمبر کو سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق یک طرفہ امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکہ نے ویٹو کر دی تھی جب کہ امریکہ کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ‘ فرانس‘ جاپان‘ اٹلی اور یوکرین سمیت 14ممالک نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالے جس میں کہا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ 

واضح رہے کہ 1980ء میں اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے قرارداد نمبر 478منظور کرکے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ممبران ممالک کو پابند کیا کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل نہ کریں۔ اس وقت قرارداد کے حق میں 14ووٹ جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا، امریکہ نے اس وقت ووٹ ڈالنے سے گریز کیاتھا۔تب سے لیکرآج تک امریکہ اقوام متحدہ میں پیش ایسی تمام قراردادوں کو ویٹو کرتا آ رہا ہے جس میں اسرائیلی مظالم کی مذمت ‘ اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنا یا عالمی قوانین کا احترام کرنے کا تقاضا ہے۔

ویٹو کی پاور سے جب امریکہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا تو ترکی نے یمن اور پاکستان کی مدد سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کی جسے 128ووٹ ملے ،جس سے مسلم ممالک بالخصوص فلسطین کے مؤقف کو تقویت ملی اور امریکہ کے مقابلے میں مسلم ممالک کے مؤقف کو اخلاقی برتری حاصل ہو گئی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ قرار داد پیش کئے جانے سے پہلے امریکہ کی جانب سے رکن ممالک کو دھمکی بھی دی گئی تھی کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک امریکی امدادسے محروم رہیں گے ،اس مبینہ دھمکی کے باوجود مسلم ممالک ،یورپی ممالک اوربھارت سمیت اکثر ممالک نے امریکہ و اسرائیل کے خلاف ووٹ دے کر امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ اب وہ امریکہ کے دبائو میں آکر غلط کو درست نہیں کہہ سکتے۔

امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف بیت المقدس کے نام پر جو جنگ شروع کر رکھی ہے، ترک صدرطیب ایردوان نے بڑی مہارت سے قانونی جنگ کے ذریعے امریکہ کو عالمی دنیا میں تنہا کر دیا ہے ،اس کے باوجود یہ جنگ ابھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس جنگ کا ایک فریق امریکہ و اسرائیل ہے تو دوسرا فریق مسلم ممالک ہیں ،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اگرچہ قرارداد کے حق میں 128ممالک نے ووٹ دیا ہے لیکن آگے چل کر یہ جنگ صرف مسلم ممالک تک محدود رہ جائے گی، ممکن ہے مسلم ممالک میں بھی متعدد ممالک ساتھ چھوڑ جائیں اور آخرمیں جو ممالک امریکہ کے خلاف یہ جنگ لڑیں گے ان میں چند ممالک ہی رہ جائیں ،جن میں ترکی ،پاکستان اور مصر نمایاں ہوں گے ۔بیت المقدس مسئلہ پرسعودی عرب کی جانب سے جس طرح کی توقعات کی جارہی تھیں اس طرح کا رسپانس سعودی عرب کی جانب سے نہ آسکا ،37ممالک کی اسلامی اتحادی افواج کی قیادت سعودی عرب کر رہاہے جس کا مرکز ریاض میں ہے، اس اتحادپر بھی طرح طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ اتحاد کس کے خلاف لڑے گا؟سعودی عرب سے مسلمانوں کی توقعات بلاوجہ بھی نہیں ہیں کیونکہ ایک تو عرب ملک ،دوسرافلسطین کاپڑوسی ،تیسرایہ کہ عالم اسلام کے مقدس مقامات کا انتظام و انصرام بھی اسی کے پاس ہے ۔

ہم سمجھتے ہیں بیت المقدس کے مسئلہ پر امریکہ نے جس جنگ کا آغاز کیا ہے اس کی چنگاریاں آگے چل کر مزید بھڑکیں گی کیونکہ مسلم ممالک بیت المقدس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے،اس لئے ضروری معلوم ہو تا ہے کہ جو ممالک فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے آواز اٹھا رہے ہیں تمام مسلم ممالک ان کی آواز میں اپنی آواز ملائیں ۔بیت المقدس کے مسئلہ پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کا قابل تقلید کردار ہے جنہوں نے اپنے عمل سے ایک بار پھریہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ترکی کے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیڈر ہیں، جنرل اسمبلی میں یورپی یونین اور کسی بھی اسلامی ملک نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا جو صدر ایردوان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ صدر ایردوان نے جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی میں منظور کردہ قرارداد نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ریاستوں، انسانوں اور جمہوری اقدار کو رقوم سے نہیں خریدا جا سکتا۔جنرل اسمبلی نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ طاقت کو نہیں بلکہ انصاف کو ہمیشہ فتح حاصل ہوتی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر کو یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اس وقت تک امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں جب تک وہ ’’بیت المقدس‘‘ سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرلیتے۔امت مسلمہ کی موجودہ پستی و پسماندگی کے پیش نظر طیب ایردوان کا اس لئے بھی ساتھ دینا چاہئے کہ اگر اس موقع پر مسلم ممالک بیدار نہ ہوئے تو پھر صیہونی قوتیں مزیدآگے بڑھیں گی اور ان کا اگلا ٹارگٹ مکہ، و مدینہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں