Daily Mashriq

کل اور آج کا فرق

کل اور آج کا فرق

یہ اللہ کا کرم تھا اور ان کی اپنی خوش قسمتی بھی کہ جو صحرا نشین ٹھہرے اور جن کے گھوڑوں کے پائوں سے اڑتی دھول نے بھی دشمنوں کوبھاگنے پرمجبور کیا ۔ کیا گزرے زمانے کے وہ مرد میدان جو اللہ کی خاطر تن من دھن ہاتھ میں لئے دشمنوں کو زیر کیا کرتے تھے انسان نہیں تھے ؟ اللہ کی رحمتیں اور اللہ کا کرم مفت میں تو نہیں آتا کچھ اس کی طرف توجہ بھی تو دینی پڑتی ہے ۔ کیا صلاح الدین ایوبی انسان نہیں تھے ؟ وہ بھی تو ایک عام سے انسان تھے لیکن خاص بنے تو اپنی خصلتوں کی بدولت اور اللہ کے کرم کی وجہ سے ۔ انہوں نے بھی تو ایک کافر کو اس کی بدتمیزی کی سزا دی تھی جس نے آقائے دوجہان کی شان میں گستاخی کی تھی تب ہی تو وہ تیسری صلیبی جنگ کے فاتح ٹھہرے ۔ وہ بھی مصلحتوں کا شکار ہوسکتے تھے لیکن لیڈر تھے اس لئے تلوار سے فیصلہ کیا ۔ وہ چاہتے تو کسی مسجد یا خلوت میں بیٹھ کر بد دعائیں بھی دے سکتے تھے لیکن شعور کی پختگی تھی اس لئے عورتوں والا کام عورتوں ہی پر چھوڑ دیا ۔تعداد اور طاقت تو اس وقت بھی غیر مسلموں کی زیادہ تھی کیا ٹمپلر ،ٹیٹونک اور ہاسپٹلر نائٹس آج کے دشمنوں سے زیادہ طاقتور نہیں تھے ؟ یہ حد سے زیادہ طاقتور تھے لیکن سامنے موجود حق کی سربلندی پر جان نچھاور کرنے والے بھی آگ کے گولے تھے ۔ ان کے اپنے مفاد نہیں تھے اور ان کے لئے اسلام ہی ان کا اڑنا بچھونا تھا ۔ کفار کے بے لگام رویوں کو لگام جب ڈالی گئی تو ہوا کیا وہی جو چشم فلک ہمیشہ سے دیکھتا آیا ہے ۔ کبھی عرب کے صحرائوں میں تو کبھی جبل الطارق کے سفینوں میں ۔ ایک عظیم فتح کا نظارا ۔ بحرانوں میں گھری امت مسلمہ اس وقت بھی دشمنوں کے نرغے میں تھی اور آج بھی ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت فیصلے وقت پر کئے جاتے تھے اور آج فیصلوں میں تاخیر ہی زوال کا سبب بن رہی ہے ۔ لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ کے مصداق وہ گھوڑوں کی پیٹھ پر میدان جنگ میں موجود رہتے اور آج تو مسلمانوں کے لہو کا رنگ ہی بدل چکا ہے ۔ کیا یہ ہٹ دھرمی نہیں کہ ایک ہی شخص (جو امریکہ کا صدرہے)مسلمانوں کی عزت دائو پر لگائے ؟ بیت المقدس تو ہمارا تھا لیکن کیسے ایک ہی پکار پر اس کا سودا ممکن ہوسکتا ہے ۔ کل کو شاید کوئی اٹھ کر ہمارے دیگر مقامات مقدسہ کے خلاف بھی بولے کیا پھر بھی ہم سڑکوں ہی پر واویلاکریںگے ؟ کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ مسلمان اللہ کی دعوت لے کر اٹھے اور پوری دنیا پر اپنی دھاک بٹھائیں ؟ کیا ہم اس یلغار کو اسلام کے خلاف سمجھنے میں دیر نہیں کر رہے ؟ ہم چاہیں تو پوری کایا ہی پلٹ سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس کلمے کی طاقت ہے اور ہمارے پاس اپنے اسلاف کا وہ خوب صورت عظمت رفتہ ہے جس کا صفحہ صفحہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب بھی کفر کے نام لیوائوں کا پالا اسلام کے مجاہدوں سے پڑا ہے ان کو منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ اٹھاون اسلامی ممالک ہیں اورایک اعشاریہ پانچ بلین مسلمان جو پوری دنیا کی آبادی کا تئیس فی صد بنتے ہیں ۔ چونتیس اسلامی ملکوں کا ایک فوجی اتحاد بھی ہے جس کے فوجی اگر ایک ساتھ کھڑے بھی ہوجائیں تو غیر مسلموں پر قیامت کا سماں ہوگا لیکن ہمت ناپید ہے اور جذبے منجمد ۔ قسطنطنیہ بھی تو ان کا تھا جن پر ان کو بڑا ناز تھا ۔ کیا ان کو یاد نہیں جب مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھے شہسواروں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تو یہ بھاگے بھی ایسے کہ دوبارہ نظر نہ آئے ۔ یہ تلوار حق اگر ایک بار اٹھانی ہے تو پھر دیر کس بات کی ۔ ان کا ڈر اور ان کی بوکھلاہٹ کی تو تاریخ گواہ ہے یہ وہی بھاگنے والے لوگ ہیں لیکن سامنے صفوں میں موجود کوئی تو للکارنے والا ہو ۔ کوئی تو عمر کی طرح ہو کوئی تو بمثل صدیق ہو ۔ ارے کوئی عثمان بننے کی کوشش ہی تو کرے ۔ کوئی تو علی کی شجاعت پیدا کرے۔ کوئی تو ہو جو باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم۔۔۔۔۔ کا نعرہ لگائے ۔کوئی نہیں میدان اول تا آخر خالی پڑا ہے ۔ میدان پر قبضہ ہے رقص و سرور والوں کا اور امن ،محبت اور حق کی بات کرنے والے گم سم تماش بین بنے بیٹھے ہیں ۔ امت مسلمہ پریشان حالی میں ہر ڈوبتے سورج کی آخری کرنوں میں اڑتی دھول کی طرف دیکھ کر پر امید ہوجاتی ہے کہ شاید کوئی پرسان حال اور نجات دہندہ آرہا ہے لیکن یہ خوش فہمیاں ہی ثابت ہوتی ہیں ۔امت میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو منافقت کے لبادوں میں ملبوس نہ ہو ۔ منافقت اور وہ بھی اتنی زیادہ کہ بھلا بیٹھے ہیں اہل تخت کہ مسلمان اللہ کا سپاہی ہوتا ہے ۔ 

ایسا کیوں ہورہا ہے کہ ایک شخص کی پکار پر اسلامی دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا لیڈر موجود نہیں جو سلطان محمد فاتح بنے یا قاسم اور طارق ۔ یہاں پر دنیاوی مفادات کا ایک نہ ختم ہونے والا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ اسرائیل کے پڑوس میں جو اسلامی ممالک ہیں انہوں نے بھی چھپ کا روزہ رکھا ہے ۔ اردن نے 2014 میں اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہوا ہے جس کی رو سے آئندہ پندرہ سال کے لئے اردن کو اسرائیل پانچ سو ملین ڈالرز کی گیس سپلائی کریگا ۔ مصر کے بھی اسرائیل کے ساتھ معاشی معاہدے ہیں جس کی رو سے بیس سال تک مصر اسرائیل کو گیس سپلائی کرے گا ۔مصر میں معیشت دان اس معاہدے پر تنقید کرتے ہیں کہ مصر کو مارکیٹ پرائس سے بہت کم پیسے ملتے ہیں لیکن پھر بھی معاہدہ موجود ہے ۔ لبنان ہمیشہ اسرائیل کی وجہ سے خانہ جنگی کا شکار رہا ۔ 1975 ء میں جب لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی تو پندرہ سال جاری رہی اور لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے ۔ اسرائیل نے ایک پڑوسی کا مثبت کردار ادا تو نہ کیا لیکن الٹا لبنان پر دو دفعہ حملہ کیا جس کو حزب اللہ کے کمانڈوز نے پسپا کیا۔ لبنان کے حکمرانوں نے ہمیشہ اسرائیل کے حق میں کلمے کہے لیکن مجال ہو جو فلسطین کے حق میں ایک بیان تک جاری کیا ہو ۔ منظر نامہ یہی ہے ورنہ اللہ نے تو منع کیا ہے ان لوگوں کے ساتھ روابط بڑھانے سے۔ ڈر اور ہچکچاہٹ بوکھلاہٹ ہی کو دعوت دیتی ہے اور یہی بوکھلاہٹ ہی قوموں کی زندگی کا چراغ گل کردیتی ہے ۔ مسلمان ہی کے گلے میں غلامی کا طوق کیوں ہے ۔؟ ایک مخصوص دائرہ ہے جس سے نکلنے کی جب بھی کوشش کی گئی یہی غلامی کا پھندا ملا ۔ کیا اسلام مسلمانوں کی طاقت نہیں ؟ اسلام ہی مسلمانوں کی وہ طاقت ہے جس کی وجہ سے دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے لیکن ’’فی قلوبہم مرض فزادھم اللہ مرضا‘‘

اٹھاون اسلامی ملک ہیں اور ہر ایک کے اپنے مفادات ہیں جس کا خمیازہ پوری امت بھگت رہی ہے ۔ یہ وقت ہے فیصلے کا ورنہ کچلے جائیں گے ہم بھی اور کل کا داستان گو جب ہماری داستان سنائے گا تو پیچھے مذاق اڑانے والے بہت ہونگے ۔ اب یہ طے کرنا ضروری ہے کہ یہ اسلام اور کفر کی لڑائی ہے ۔ جس طرح وہ اس کو لڑنا چاہتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں بھی یہ لڑائی لڑنی ہوگی ۔ کف افسوس ملنے سے بہتر ہے کہ اللہ پر کامل یقین پیدا کیا جائے اور لٹے پٹے مسلمان جو پوری دنیا میں تضحیک کا سامنا کررہے ہیں کو عزت دی جائے ۔ بات تب بنی گی جب غرانے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کی جائے ۔ کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ اللہ راضی ہوگا اور دنیا میں عزت مل جائے گی ۔ کیا اللہ پر یقین کے بعد وہ اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ نہیں یہ لڑائی بہرحال لڑنی ہوگی ۔ ورنہ عزت سے جینا اسی طرح محال رہے گا ۔

متعلقہ خبریں