Daily Mashriq

بے لگام انسانی سمگلنگ اور پردیس کی اذیت!

بے لگام انسانی سمگلنگ اور پردیس کی اذیت!

کچھ دن قبل قومی اخبارات میں شائع ہونے والی دو خبریں نظر سے گزریں۔ ان دونوں خبروں کے پیچھے غم والم کی بے شمار داستانیں پوشیدہ تھیں اور دونوں خبروں میں بیان کردہ واقعات سے اب تک بلا مبالغہ ہزار ہا خاندان تباہ و برباد ہوچکے ہیں،ہزاروں سہاگنوں کے سہاگ اجڑ چکے ہیں، لاکھوں بچے دنیا کے بازار میں باپ کے شفیق سائے سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایک خبر توبرادر ملک ترکی سے آئی ، جس میں بتایا گیا تھا کہ استنبول میں ترک پولیس نے انسانی سمگلروں کی قید سے 57پاکستانیوں کو رہا کروا لیا ہے۔ ان پاکستانیوں کو 10ہزار ڈالرز کے عوض یورپ پہنچانے کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے ان سمگلرز میں تین پاکستانی ایجنٹ بھی شامل ہیں۔دوسری خبر جو اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنی :’’ یورپ میںداخل ہونے کے جنون میںمبتلا12 پاکستانی نوجوان غیر قانونی طورپر یونان کا بارڈر عبورکرتے ہوئے سیکورٹی فورس کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔‘‘

یہ بات کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دنیا میںغیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد میں پاکستانیوں کا آٹھواں نمبر ہے۔عالمی سطح پر کام کرنے والی تنظیم ’’ انٹر نیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘‘کی طرف سے جاری کر دہ حالیہ رپورٹ بھی چشم کشا ہے کہ رواں سال 2017ء میں مختلف ممالک کی سرحدوں سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے پانچ ہزارافرد سمندر میں ڈوب کر، کنٹینروں میں دم گھٹ کر یا بارڈر سیکورٹی فورسز کی گولیوںکا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں۔صرف گیارہ ماہ میں مارے جانے والے ان پانچ ہزار افراد میں سے 432افراد کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے ہے۔بدقسمتی کی انتہاء دیکھیں کہ روشن مستقبل کا خواب آنکھوںمیں سجائے،یورپ میں غیر قانونی طور پرداخلے کے دوران مارے جانے والے ان پاکستانیوں میں سے صرف دس فیصد کی میتیں واپس پاکستان پہنچتی ہیں، باقی 90فیصد پاکستانیوں کی لاشوںکو بے گور و کفن اجتماعی قبروں میں بڑی بے رحمی اور بے توقیری کے ساتھ دفنا دیا جاتا ہے۔مندرجہ بالا خبریں ارباب اقتدار کے لئے کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ غریب ہو یا امیر، ان پڑھ ہو یا تعلیم یافتہ، سب ہی اپنے وطن سے کسی بھی جائز یا ناجائز طریقے سے نکل جانے کو بے چین ہیں؟ کیا یہاں زندگی ناقابل برداشت ہوچکی ہے؟ اس کے علاوہ ان سوالوں کے جوابات بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروںکے ذمہ ہیں کہ ان12 پاکستانیوں کا قاتل کون ہے، جو بے گورو کفن یونان کے بارڈر پر مار دئیے گئے؟ غیر قانونی طورپر ملک کے نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھجوا کر انہیں موت کی نیند سلانے اور پیارے وطن کو دنیا بھر میں بدنام کروانے والے ایجنٹوں اورغیر قانونی ٹریول ایجنسیوں کو کب تک کُھل کھیلنے کی اجازت ملی رہے گی؟ اور وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ملک کے باہنر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار اپنے ملک میں ہی دستیاب ہو گا؟

تکلیف دِہ پہلو یہ ہے کہ اس طرح کی خبریں اب روز کا معمول بن چکی ہیں ۔ایسی خبریں نہ صرف پاکستان کے وقار کو دھچکا پہنچاتی ہیں بلکہ گھروںکے گھر اجڑتے چلے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں یعنی اکیس نومبر 2017ء کو بلوچستان کے علاقہ تربت میں دو الگ الگ واقعات میںایران سے براستہ ترکی ،یورپ جانے کی کوشش کرنے والے بیس پاکستانیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیںبھی ملی تھیں ،لیکن ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اب تک وہ انسانی سمگلنگ میںملوث کسی بڑے گروہ کو گرفتار نہیںکر سکے؟سوال یہ ہے کہ ان کی ناک تلے یہ جعلی ریکروٹنگ ایجنٹ کس طرح اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں؟ ایف آئی اے نے ان بھیڑیوںکوبڑے شہروں کی معروف کاروباری مارکیٹس میں دفتر کھول کر جعلی اور غیر قانونی ریکروٹنگ کرنے کی کھلی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے؟روزانہ اخبارات میں متعددجعلی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے اشتہارات شائع ہوتے ہیںلیکن کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی طرف سے ان اشتہارات کے بارے میں تحقیق کرنے اور ان جعلی ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کی زحمت کیوں نہیں کی جاتی؟ ایف آئی اے انسانی سمگلنگ میںملوث جن چھوٹی مچھلیوںکو پکڑتی ہے، ان کی کچھ عرصہ بعد ضمانت پر رہائی کیوںہو جاتی ہے؟

پاکستان کے قصبوں میں بغیر لائسنس کے سینکڑوں جعلی ریکروٹنگ ایجنٹ سرعام دھڑلے سے دفتر چلا رہے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی اے کریک ڈائون یا آپریشن لانچ کیوںنہیںکرتی ؟ اگر قانون نافذ کرنے والے اتنے اداروں کی موجودگی میں بھی جعلی ریکروٹنگ ایجنٹوں کا کاروبار سہولت سے چل رہا ہے اور روزانہ بیسیوں خاندان ان ظالموں کے ہاتھوں اپنی عمر بھر کی کمائی لٹانے کے ساتھ اپنے نوجوان بچوں سے بھی محروم ہو رہے ہیں تو پھر ان اداروں کا کیا فائدہ ؟ ان اداروں پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات کا کیا حاصل ؟ اگر انسانی سمگلروں کے آگے یہ ادارے بے بس ہیں تو پھر زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ ان اداروں کو بند ہی کر دیا جائے تاکہ ملک و قوم کی وہ رقم تو بچے ،جو ان اداروں کو چلانے کے لیے خرچ کی جارہی ہے۔

آخر میں اپنے ملک سے مایوس نوجوانوں اور ان کے گھر والوں کو ایک بے لاگ مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ زندگی کی بہت بڑی بڑی اذیتوں میں سے ایک بڑی اذیت کا نام’’ غریب الوطنی ‘‘ہے، جسے ہم’’ پردیس‘‘ کہتے ہیں۔ لاکھوں روپے دے کر ، اپنی اور خاندان کی زندگی دائو پر لگا کر یہ اذیت خریدنا کہاں کی دانشمندی ہے؟

یورپ کے رہنے والے بہت سے پاکستانیوں کے تلخ حالات میرے علم میں ہیںلیکن ان سب کو بیان کرنے کا یہ مقام نہیں ۔ عرض کرنے کا مقصد فقط یہ ہے کہ ’’ اپنی مٹی پر چلنے کا ہنر سیکھو، سنگ مر مر پر چلو گے تو پھسل جائوگے ۔‘‘اپنے وطن میں ، اپنے پیاروںکے درمیان دال روٹی کھا نے کاجو مزا ہے، وہ یورپ میں سسک سسک کر جینے سے کئی گنا بہتر ہے۔میرے عزیزو!جو بارہ ، پندرہ بلکہ بیس لاکھ روپے تک لگا کر غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے تیار ہو ، اگر اس سے آدھی رقم اپنے ملک میںلگا کر اتنی ہی محنت کرو جتنی یورپ کے اندر پاکستانی کرتے ہیں، تو میرا دعویٰ ہے کہ یورپ سے زیادہ خوش حالی یہاں تمہارے قدم چومے گی ۔ آزمائش شرط ہے۔ لیکن پھر بھی اگر یورپ ہی جانا ہے تو کم از کم قانونی راستہ ضرور اختیار کرو ، غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچو نہ پہنچو، ملکِ عدم ضرور پہنچ جائو گے ۔

متعلقہ خبریں