Daily Mashriq

خواجہ سعد رفیق کا بیان غیر ذمے دارانہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

خواجہ سعد رفیق کا بیان غیر ذمے دارانہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک:ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کا بیان غیرارادی نہیں انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے جب کہ پاک فوج ایک ڈسپلن ادارہ ہے اور آرمی چیف کے ایک اشارے پر پوری فوج وہاں دیکھنا شروع ہوجاتی ہے جہاں وہ چاہتے ہیں۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے، بھارت نہیں چاہتا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابیاں جاری رہیں، فوج کے کامیاب آپریشنز سے ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں رہے، 2017 میں بھارت کی ایل او سی کی خلاف ورزیوں میں تیزی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلےسال بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور اس سال بھی 25 دسمبر کو جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، یہ سب پروپیگنڈا  کشمیر میں آزادی کی تحریک سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ امریکا نے بھی پچھلے دنوں ہمیں دھمکیاں دیں، ہم پیسے کیلئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کر رہے، بہت کچھ کر لیا اب ہم کسی کے لیے نہیں لڑیں گے، امریکا کو واضح بتادینا چاہتے ہیں کہ ہم دوستوں سے لڑائی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکاکی طرف سے ہمیں جو بھی رقم ملی وہ اخراجات کی مد میں ملی، ہم اپنی ملکی خودمختاری اور عزت پرسمجھوتہ نہیں کریں گے، ملک پر منڈلاتے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔

 ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افواج پاکستان کی ذمے داری سی پیک کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور سی پیک کی سلامتی کو خطرات لاحق نہیں ہونے دیں گے، کلبھوشن کے حوالے سے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کلبھوشن کے معاملے پر کوئی کمپرومائز نہیں کیاجائے گا، کلبھوشن کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی، اس حوالے سے ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا جب کہ ملاقات سے کیس پر کوئی اثرنہیں پڑے گا۔

صحافی کی جانب سے سوال پر کہ سینیٹ اجلاس کے بعد سعد رفیق نے کہا کہ آرمی چیف نے جمہوریت کے حوالے سے مثبت پیغام دیا تاہم آرمی چیف کا حکم ماننے والے بھی اس کو دیکھیں جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کا بیان غیرارادی نہیں  انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پاک فوج ایک ڈسپلن ادارہ ہے، آرمی چیف کے ایک اشارے پر پوری فوج وہاں دیکھنا شروع ہوجاتی ہے جہاں وہ چاہتے ہیں، آرمی چیف کے حکم پر ہم قربانیاں دے رہے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو ہر کوئی اپنی مرضی سے کام کرنا شروع کردے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ادارے ایسے ہیں جن کو آئین ہی تحفظ فراہم کرتا ہے لہذا ایسا بیان نہیں آنا چاہیے جو آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، ہر آدمی کی ذمے داری ہے کہ آئین اور قانون کا احترام کرے اور اس کے دائرے میں رہے اگر ایسی لائن چھیڑیں گے تو بہت سارے ارتعاش پیدا ہوں گے۔

ایک سوال پر کہ نواز شریف اور مریم نواز مسلسل اپنے خلاف چلنے والے مقدمات کے پیچھے سازش کا اشارہ دے رہے ہیں اور اس میں پاک فوج کو سازشی قرار دے رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا یہ ایک سیاسی سوال ہے اور اس پر خاموش ہی رہیں گے تاہم اگر کوئی سازش ہے تو انہیں اس کا ثبوت سامنے لانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں