Daily Mashriq

فقیر آباد کے فقیر بننے پر مجبور مکینوں کی مشکلات

فقیر آباد کے فقیر بننے پر مجبور مکینوں کی مشکلات

مشرق ٹی وی فورم کے ایک اور پروگرام میں فقیرآباد اور نواز آباد کے مکینوں کے مسائل کو متعلقہ حکام کے روبرو عوام کی زبان سے اُجاگر کیا گیا ہے۔ اگرچہ کئی مسائل دیگر علاقوں کے مسائل سے ملتے جلتے ہیں لیکن ایک سب سے بڑا مسئلہ جس کی دیگر فورمز میں زیادہ شدت سے نشاندہی نہیں کی گئی وہ یہ کہ فقیرآباد میں غیرقانونی ہاسٹلز کے باعث علاقے کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ اردگرد بلند وبالا ہاسٹلز کی کھڑکیوں، بالکونیوں اور چھتوں سے گھروں میں جھانکنے والے نوجوانوں کے باعث گھروں کے اندر موجود خواتین ہراساں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ واضح طور پر اور سرعام دکھائی دینے والے اس مسئلے کے علاوہ اس امر کا خدشہ بھی بے جا نہیں کہ اس واضح تانک جھانک کے علاوہ پوشیدہ طور پر گھروں کے اندر کے حالات دیکھنے اور ویڈیو بنانے کا امکان بھی خارج ازامکان نہیں۔ ایسے ماحول میں یہ مسئلہ صرف چادر اور چاردیواری کا ہی نہیں بنتا بلکہ چوری وڈکیتی کے امکانات اور خطرات وخدشات سے صرف نظر ممکن نہیں۔ علاقے میں ہاسٹلوں کی بھرمار اور دن رات نوجوانوں کی آمد ورفت سے موبائل چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ میں کوئی نہ کوئی تعلق کا ہونا بعید ازامکان نہیں۔ غیرقانونی ہاسٹلز میں مقیم نوجوانوں اور ان سے ملنے جلنے والوں کی بڑی تعداد کے باعث اس امر میں امتیاز مشکل ہو جاتا ہے کہ حقیقی طالب علم اور ملازمت پیشہ افراد کون ہیں اور ان کے بھیس میں کون کون سے عناصر مقیم ہیں یا پھر ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔ صرف یہ مسئلہ ہی نہیں بلکہ ان غیرقانونی ہاسٹلوں کے باعث یہاں کے لوگوں کو بجلی، پانی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، قلت اور وولٹیج میں کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ ٹرانسفارمروں پر اضافی بوجھ پڑجا تا ہے، بجلی بند ہونے پر ہاسٹلوں کے گھنٹوں گھنٹوں کمپریسر سے گیس کھینچ کر چلنے والے بھاری جنریٹرز کا شور اور دھواں تو ضمنی مسائل ہیں گھروں میں گیس کا پریشر نہ ہونے کے برابر ہو جاتا ہے یا پھر سرے سے گیس آتی ہی نہیں۔ گرمیوں میں ٹرانسفارمر اضافی بوجھ کے باعث اُڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ فقیرآباد واقعی فقیروں کی آبادی کا منظر پیش کرنے لگتا ہے اور علاقے کے مکین فقیروں کی طرح دہائیاں دینے لگتے ہیں لیکن ان کی سنتا کوئی نہیں۔ کیا یہ سب کچھ متعلقہ حکام کے علم میں ہیں یا پھر بااثر ہاسٹل مالکان کی ملی بھگت سے وہ ان سنگین مسائل سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ آخر تجاہل عارفانہ کا یہ سلسلہ کب تک رہے گا؟ اس کا جواب صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام ہی جان سکتے ہیں۔ مثبت امر یہ ہے کہ اس فورم میں ایس پی سٹی نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ان کی جانب سے اس معاملے کے حل کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے اور پولیس کی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ فقیرآباد میں غیرقانونی ہاسٹلز کے قیام سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے ایس پی سٹی شفیع اللہ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہاسٹلز کے حوالے سے وہ ڈپٹی کمشنر پشاور اور ضلعی حکومت سے رابطہ کریں گے۔ پولیس نے اس حوالے سے کام شروع کر دیا ہے اور ان کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے۔ اب تک 36ہاسٹلوں کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ ان کے مالکان سے بات کی جائے گی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا ان ہاسٹلز کو این او سی دیا گیا ہے یا نہیں اور اس سے حکومت کو کیا فائدہ ہے کیونکہ رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں غیرقانونی ہیں اگر کسی کو این او سی دیا گیا ہے وہ بھی کینسل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹلز میں رہائش پذیر طلباء کا ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔ ہاسٹل مالکان کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ طلباء کی تفصیلی کوائف ہاسٹل گیٹ پر آویزاں کریں۔ اسی طرح علاقے میں سیکورٹی کو قائم رکھنے کیلئے ہاسٹلز کے قریب سیکورٹی کیمرے بھی لگائے جائیں گے۔ ایس پی سٹی اگر فورم سے قبل محولہ امور پر اقدامات کرتے تو ان کو وضاحت دینے اور یقین دہانی کرانے کی ضرورت نہیں تھی بہرحال دیر آید درست آید۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر متعلقہ حکام شہری اور رہائشی قوانین کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کروائیں تو صرف فقیرآباد ہی میں نہیں حیات آباد، یونیورسٹی ٹاؤن، الحرم ٹاؤن رنگ روڈ اور دیگر علاقوں میں رہائشی مکانات کی غیرقانونی استعمال کی روک تھام ہوگی۔ غیرقانونی طور پر مقیم افراد میں منشیات فروشی اور منشیات کے بے دریغ استعمال اور غیراخلاقی حرکات، قحبہ گری اور اغواء جیسی وارداتوں میں ملوث ہونے اور قانون شکن افراد کے پناہ لینے جیسے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ فقیرآباد اور نوازآباد کے مکینوں کے دیگر مسائل میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، صفائی، نکاسی آب، سٹریٹ لائٹس، ڈسپنسری میں ڈاکٹر اور ادویات کی عدم موجودگی جیسے معمول کے مسائل شامل ہیں جن پر متعلقہ محکموں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مشرق فورم اور مشرق اخبار کے ذریعے عوامی مسائل کی نشاندہی، ان کے ممکنہ حل کیلئے تجاویز اور ممکنہ حد تک موجود اور دستیاب سرکاری حکام کا موقف سامنے لانا ایک متوازن عمل ہے جس سے وزیراعلیٰ اور متعلقہ صوبائی وزراء کو ایک ہی نشست پر مسائل ومعاملات اور سرکاری عمال کا موقف جاننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے جس کی روشنی میں ان کو نوٹس لینے اور مناسب ہدایات جاری کرنے میں آسانی فطری امر ہے۔ اس قسم کی مساعی کا مدعا اور مقصد بھی یہی ہے کہ جتنا بھی ممکن ہوسکے عوامی مسائل کا حل نکل آئے۔

متعلقہ خبریں