Daily Mashriq


تہکال کا خونریز واقعہ

تہکال کا خونریز واقعہ

میں معمولی گھریلو تنازعہ میں طیش میں آکر نوجوان کا پورے خاندان کو ختم کر کے خودکشی کر لینے کا واقعہ جہاں افسوسناک ہے وہاں لمحۂ فکریہ بھی ہے جس سے اس بات کی مزید تصدیق ہوگئی ہے کہ ہمارے ہاں ذہنی امراض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ اولاً ہم ذہنی امراض کو مرض ہی نہیں سمجھتے دوم یہ کہ ہم اس مرض کو سب سے بڑا عیب سمجھ کر چھپانے لگتے ہیں اور اس کے علاج پر توجہ دینا تو درکنار اس مرضی کا علاج ہم کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس تلاش کرنے کے بجائے مختلف طور طریقوں سے اس کو رفع کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں اور جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تبھی ہم بمشکل علاج کرنے پر تیار ہوتے ہیں۔ اس دوران اس قسم کے واقعات بھی پیش آتے ہیں جو تہکال میں ایک خاندان کے خاتمے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہونی تو بہرحال ہوکر رہتی ہے لیکن اگر ذہنی مریض کا بروقت علاج کیا جاتا تو شاید نوبت یہاں تک نہ آتی۔ مریض اگر صحت یاب نہ بھی ہو جاتا تو اتنی بہتری ضرور ممکن تھی کہ اس زندگی پر موت کو ترجیح نہ دیتا اور اپنے خاندان کو یوں اپنے ہاتھوں نہ مٹاتا۔ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ جن خاندانوں میں ذہنی امراض میں خدانخواستہ کوئی مبتلا ہو یا پھر کوئی اتنا متشدد ہو اور غصے میں اپنے آپ پر قابو مکمل طور پر کھو دے یا پھر دیگر غیرمعمولی علامات ظاہر ہوں تو بہتر ہوگا کہ علاج کیلئے کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ صوبے میں ذہنی اور نفسیاتی امراض کے علاج کیلئے سہولیات کی ناپیدگی اپنی جگہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر جہاں توجہ دینے اور جگہ جگہ مراکز علاج امراض دماغی ونفسیات کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس قسم کی بیماری کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنے اور اس مرض کی علامات ظاہر ہونے پر مریض کا بروقت علاج کرانے پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

صوبے کے میگا کرپشن کیسز جلد نمٹانے کا عندیہ

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب خیبر پختونخوا کے دورے کے موقع پر اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بدعنوانی کیخلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیس نہیں بلکہ کیس دیکھتے ہیں اور اس کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے پر یقین رکھتے ہیں۔ نیب کے پی میں میگا کرپشن کے مقدمات کو شفاف، میرٹ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کیخلاف ایک منظم پراپیگنڈہ مہم جاری ہے مگر نیب اپنی پرفارمنس اور کارکردگی سے پراپیگنڈہ مہم کا مقابلہ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ چیئرمین نیب نے نیب خیبر پختونخوا کا دورہ کر کے صوبے میں بدعنوانی کے بڑے بڑے مقدمات کے جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے جو یقین دہانی کرائی ہے اس پر اطمینان نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں نیب کی کارکردگی پر تنقید اور انگشت نمائی کے جواب میں نیب کے مقدمات کو تیزی سے آگے بڑھا کر ہی عملی طور پر جواب دینا ممکن ہوگا۔ نیب خیبر پختونخوا کی کارکردگی پر حزب اختلاف کی تنقید اسلئے بھی توجہ طلب معاملہ ہے کہ نیب خیبر پختونخوا کے بعض اہم مقدمات کا تعلق حکمران جماعت کی اعلیٰ شخصیات سے ہے۔ صوبے کا وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر سیاحت نیب میں پیش ہو چکے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیر دفاع اور سابق چیف سیکرٹری سے بھی استفسار ہو چکے ہیں اب ان پر الزامات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ان پر ریفرنس دائر کرنے کی نوبت آتی ہے یا نہیں اس بارے تو کچھ کہنا مناسب نہیں لیکن ان پر الزامات کی جلد سے جلد تحقیقات مکمل کرنے میں لیت ولعل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے اس طرح سے ہی تنقید سے بچا جا سکتا ہے تو دوسری طرف بلاامتیاز احتساب کا دعویٰ بھی درست ثابت ہو سکتا ہے۔

سکول کی تعمیر کیلئے عدالت سے رجوع پر مجبور عوام

عمرآباد چوہا گجر کے بیس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی میں مردانہ وزنانہ ہائی سکول نہ ہونے کیخلاف مکینوں کا رٹ دائر کر کے اعلیٰ سرکاری حکام کیساتھ علاقے کے منتخب نمائندوں کو فریق بنانے کا اقدام شہری حقوق کے حصول اور ریاست وحکومت کیخلاف انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہونے کا ثبوت ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر یہ کیس یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگا قطع نظر قانونی اور عدالتی معاملات کے علاقے کے عوام اپنے اس مطالبے میں حق بجانب ہیں کہ ان بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے۔

متعلقہ خبریں