Daily Mashriq


پرامن افغانستان کے ثمرات سے آگاہی کی ضرورت

پرامن افغانستان کے ثمرات سے آگاہی کی ضرورت

افغان امن عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور اسے کامیابی کی طرف لے جانے کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چار ملکوں کا دورہ مکمل کر کے واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ چین نے اس عمل کی مکمل حمایت کی ہے اور ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں بھی حوصلہ افزاء ردِ عمل ملا ہے۔ پاکستان کی طرف افغان امن انتظام میں روس کی شمولیت کو اہم قرار دیا گیا ہے اور دونوں ملکوں نے افغان امن عمل کے جلد کامیاب ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس چار ملکی دورے کے دوران شاہ محمود قریشی پہلے افغانستان اور ایران گئے تھے جہاں انہوں نے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ممالک سے جو حوصلہ افزاء ردِ عمل ملا اس کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ تاہم افغان امن عمل بنیادی طور پر افغان حکومت کی رضامندی کے ساتھ شروع ہوا ہے جو اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ ابوظہبی میں پاکستان کی پہل کاری اور سہولت کاری کے نتیجے میں امریکہ اور طالبان کے وفود کے درمیان جو مذاکرات ہوئے تھے ان میں شمولیت کے لیے افغان حکومت کا وفد بھی تشکیل دیا جا چکا تھا تاہم اس وفد کی مذاکرات میں شمولیت اگلے مرحلے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ ایران میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مذاکرات کے بارے میں تفصیل جاری نہیں کی گئی تھی تاہم تازہ ترین یہ ہے کہ ایران کے سیکورٹی افسروں نے طالبان سے حال ہی میں ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا اعلان ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری نے کابل میں کیا جہاں وہ ایک وفد کے ہمراہ آئے تھے۔ طالبان کے قائدین سے ملاقات کے بعد اور پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ایرانی وفد کا کابل آنا اور اس ملاقات کا اعلان کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایران بھی اس عمل میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ ایران اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہموار نہیں رہے ہیں۔ ایران افغانستان کی شیعہ آبادی کی حمایت کرتا رہا ہے جب کہ افغان شیعہ خصوصاً طالبان کے دورِ حکومت کے دوران تشدد کا ہدف رہے ہیں۔ ایران نے امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں طالبان کی شکست کے لیے کردار ادا کیاتھا۔ تاہم امریکہ اور افغانستان کے حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران نے حالیہ برسوں میں افغانستان سے امریکہ میں باہر نکالنے کے لیے آپس میں تعلقات استوار کر لیے تھے۔ اب جب کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے آدھی امریکی فوج نکالنے کا اعلان کر دیا ہے ایران کی بھی اس عمل کی کامیابی میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔اس تمہید کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ افغان امن عمل آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی کامیابی کے امکانات واضح ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے کانگریس کو بھیج گئی جس رپورٹ میں افغان امن عمل میں علاقے کے ملکوں کی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ ان ممالک کا کردار کلیدی تسلیم کیا گیا ہے اس کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ افغان طالبان کے امن عمل کے حوالے سے فعال تر ہونے کی خواہش کے تحت امریکی محکمہ دفاع نے تجویز دی ہے کہ نئے افغانستان میں طالبان اور ان کے اہل خانہ کی سیکورٹی کا بندوبست ضروری ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی انہیں ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے مناسب آمدنی حاصل ہو سکے۔ ان تجاویز کا اصل مخاطب وہائٹ ہاؤس کا افغان مفاہمت کا شعبہ شمار کیا جانا چاہیے جس کا یہ فرض ہے کہ وہ نئے افغانستان کی تعمیر و ترقی کے امکانات کی خاطر افغان حکومت کو گنجائش پیدا کرنے پر آمادہ کرے۔ طالبان کی کچھ شرائط آئین میں ترمیم سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ حکومت میں اشتراک ‘ فوج میں طالبان کے انجذاب‘ مقامی انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں‘ قبائل میں ارتباط‘ حکومت کے زیرِ اثر شہری علاقوں اور طالبان کے زیر اثر علاقوں کے کلچری فاصلوں کو کم کرنے سمیت بہت سے معاملات پر نئی سوچ کی ضرورت ہو گی۔ اسی طرح طالبان سے رابطوں میں بھی انہیں یقین دہانی کرانے کی ضرورت ہو گی کہ مسلسل جنگ کی بجائے وہ ریاست کے انتظام میں شمولیت پر آمادہ ہو جائیں۔ ان تمام معاملات کے ساتھ ساتھ فریقین کو پرامن افغانستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے امکانات کے بارے میں کسی واضح نقشہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ فوری طور پر تعمیر و ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام کوئی سرگرمی شروع کی جائے گی یا علاقے کے ممالک کو اس سرگرمی میں کردار ادا کرنا ہوگا‘ ایسے سوالات کے ممکنہ جواب اب آنے چاہئیں تاکہ فریقین کے حامی ان پر آسانی سے قائل ہو سکیں۔ پر امن افغانستان یا نیا افغانستان مفاہمتی عمل کی بین الاقوامی حمایت کے ساتھ بہت جلد ایک آگے بڑھتا ہوا خوش حال ملک بن سکتا ہے۔راستے پرامن ہوں گے ‘ سڑکیں تعمیر ہوں گی تو چین ‘ روس اور وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کی بین الاقوامی تجارت کھلے گی جس سے افغانوں کو روزگار ملے گا۔ سترہ سال کی جنگ کے بعد جہاں امریکہ کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اس جنگ میں فتح حاصل نہیںکی جا سکتی وہاں فریقین کو تو عملی تجربہ ہے کہ جنگ جاری رہ سکتی ہے یا بحران پیدا کر سکتی ہے جو کسی کے بھی حق میں نہیں ہے‘نہ افغانوں کے لیے بحیثیت قوم کسی فخر کا باعث ہو سکتی ہے۔ اب جب علاقے کے ممالک امن عمل کی حمایت کر رہے ہیں افغانستان یا امریکہ کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ امریکی فوج کی واپسی کے بعد کسی اور قوت کے در آنے کا اندیشہ نہیں ماسوائے اس کے کہ داعش ایک نیا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرے تو یہ امریکہ کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کو ایک دوسرے کو قبول کرنے کی طرف لائے اور انہیں قائل کرے کہ نئے پرامن افغانستان میں ان کے لیے کتنے شاندار امکانات ہیں اور امریکہ اس نئے پرامن افغانستان کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں