Daily Mashriq

تاریخ کا مڑتا ہوا دھارا

تاریخ کا مڑتا ہوا دھارا

امریکہ نے افغانستان میں اپنی بچی کھچی چودہ ہزار فوج میں مزید سات ہزار کی واپسی کا اعلان کرکے دنیا کو ہی نہیں بلکہ برطانیہ جیسے قریبی اتحادیوں تک کو بھی چونکا کر رکھ دیا ۔گویاکہ اب افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد سات ہزار رہے گی اور یہ سات ہزار بھی گھروں اور وطن واپسی کی گھڑیاں گنتے رہیں گے ۔سات ہزار فوجیوں کی موجودگی کو علامتی ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ گوریلا طرز جنگ میں اپنی برتری منوانے والی تیزی سے پھیلتی ہوئی طالبان ملیشیا کا مقابلہ سات ہزار فوجیوں کے بس کی بات نہیں۔

طالبان نے امریکہ کے سات ہزار فوجیوں کے انخلاء کے اعلان کو اپنی فتح قراردے دیا ہے ۔ان کے خیال میں یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جس کی تلاش اور انتظار میں انہوں نے کارپٹ بمبنگ کے نتیجے میں شہروں سے نکل کر پہاڑوں اور جنگلوں کا رخ کیا تھا اور امریکہ کے حملے کے بعد وہ سال ڈیڑھ سال تک کلی طور پر مفقود الخبر ہو کر رہ گئے تھے۔خود امریکہ کے لئے بھی یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جس کی آمد یوں تو نوشتۂ دیوار تھی مگر اپنی بڑائی ،طاقت اور انا کے باعث امریکہ اس کے اعلان و اعتراف سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہاتھا ۔اس کا کیا کیجئے کہ حقیقت اپنا وجود منوا کر رہتی ہے۔اس طرح صدر ٹرمپ کے اس اعلان کو سوویت یونین کے آخری صدر گورباچوف کے اس حیران کن اور معنی خیز اعلان کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے افغانستان کو رستا ہوا زخم قر اردیا تھا اور باخبر تجزیہ نگاروں نے اسے افغان مزاحمت کا مقابلہ کرتے ہوئے وقت کی سپر طاقت کی تھکاوٹ اور اعصاب شکنی کا پہلا اعتراف قرار دیا تھا ۔امریکہ سترہ برس پہلے طاقت کے زور پر افغانستان کو فتح کرنے آیا تھا مگر ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا ۔امریکہ کو افغانستان سے ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہی تھا اس بات کا یقین افغانوں کے ایک مراعات یافتہ طبقے یا امریکہ کے عالمی خوشہ چینوں کے سوا ہر کسی کو تھا ۔افغانستان سے رخصتی کی یہ ادا شکست ہوگی فتح یا اس کے درمیان کا کوئی راستہ ؟اس کا فیصلہ ہونا باقی تھا ۔پہلے تو امریکہ ایک مدت تک واپسی کا نام بھی نہیں لے رہا تھا کہ اس سے طالبان کے حوصلے بلند ہوں گے ۔

امریکہ کی طاقت ماضی کے سوویت یونین سے کہیں زیادہ تھی۔ماضی کے امریکہ کی طرح اس بار افغانوں کا کھلا مددگار کوئی بھی نہیں تھا ۔پاکستان اس الزام کی زد میں تھا مگر وہ بھی اپنا دامن اس الزام کی چھینٹوں سے بچانے کی کوشش میں رہتا تھا۔چین ،روس اور ایران سمیت کوئی ملک اس مزاحمت کی حمایت کا دم نہیں بھرتا تھا۔امریکہ کی ڈیڑھ لاکھ فوج ،نیٹو اور ایساف کی فوج فضائی برتری کی اضافی صلاحیت کے ساتھ آسمان سے آگ برسارہی تھی ۔اس جنگ میںطالبان نے اپنی ساری طاقت امریکہ کی حماقتوں سے کشید کی ۔امریکہ کی طاقت ہی اس کی کمزوری بنتی چلی گئی ۔فریقین کے درمیان چونکہ طاقت کا عدم توازن تھا اس لئے یک طرفہ برتری کے نشے میں طاقت کا حماقتوں کی دلدل میں دھنسنا یقینی تھا۔امریکہ نے افغانستان میں ایسی طاقتوں کو اپنا اتحادی بنایا جو ایک طویل جنگ لڑ کر تھک چکی تھیں اور اس طوالت نے جنگ کو ان کے لئے کاروبار بنا دیا تھا۔یہ یقین اور اعتماد سے خالی لوگ تھے جو جنگ کو ایک نوکری اور نفع بخش کام کے طور پر لڑنا چاہتے تھے ۔یہ افغان معاشرے میں ناپسندیدہ لوگ تھے او ر انہوں نے دولت کے انبار بنا کر عام آدمی کی نظر میں اپنی ساکھ کھو دی تھی۔اس کے برعکس طالبان ایک واضح ہدف کے ساتھ لڑ رہے تھے ۔ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا ملک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی غلامی کا شکار ہو چکا ہے اور اس غلامی کے خلاف جہاد ان پر فرض ہو چکا ہے ۔اس جنگ میں موت شہادت اور ہر صعوبت عبادت ہے۔اس فکری برتری نے طالبان کی سپیس بڑھانا اورامریکہ کے حامی افغانوں کی سپیس کم کرنا شروع کی۔امریکہ اور نیٹو افواج نے فضائوں سے طالبان کے حامی اور مخالف کی تخصیص کئے بغیر گولہ وبارود کی برسات کرکے غیر ملکی افواج اور ان کے مقامی معاونین کے خلاف نفرت کے گراف کو بلندسے بلند تر کر دیا ۔دس گیارہ سال کی جنگ کے بعد دنیا پر یہ راز کھلنے لگا کہ پاکستان کے علاوہ بھی کچھ بڑی علاقائی طاقتیں طالبان کے ساتھ روابط قائم کئے ہوئے ہیں۔جن میں روس اور ایران جیسے ممالک بھی شامل تھے۔ایبٹ آباد آپریشن کو پلاٹ کرکے امریکہ نے حقیقت میں افغانستان میں اپنی موجودگی کا جواز کھو دیا تھا اور شاید امریکہ نے ایبٹ آباد آپریشن اور اسامہ بن لادن کی موت کے ذریعے اس ساری جنگ کے لئے ایک فاتحانہ موڑ تلاشنا اور تراشنا شروع کیا تھا۔اب امریکہ نے افغانستان سے اپنی آدھی فوج کے انخلاء کا اعلان تو کردیا مگر یہ سوال اپنی جگہ موجودہے کہ اس بار امریکہ بھی سوویت یونین کی طرح کابل میں ڈولتی ہوئی حکومت چھوڑ کر اپنی باعزت واپسی میں دلچسپی رکھتا ہے یا طاقت کے خلاء کو مناسب انداز سے پر کرنے کے لئے طالبان اور ان کے مخالفین دونوں کو ایک دھارے میں لا کر خانہ جنگی کے اسباب وامکانات کوکم ازکم سطح پر رکھتا ہے۔افغان حکومت اس خود اعتمادی کا اظہا ر کرچکی ہے کہ وہ طالبان کے ریلے میں نہیں بہے گی مگراس اعتماد کے پیچھے افغان فوج اور پولیس کی مہارت وصلاحیت نہیں بلکہ چین و پاکستان جیسے ملکوں کی کوئی ضمانت ہو سکتی ہے کیونکہ افغان خانہ جنگی کا پہلا شکار اس کے لوگ ہوتے ہیں تو دوسرا شکار ہمسایوں کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں