Daily Mashriq

احتساب ہوتا نظر آئے

احتساب ہوتا نظر آئے

نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کو دھمکیوں کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جاسکتا، نیب کیخلاف منظم پراپیگنڈے کا کارکردگی سے جواب دیں گے۔ چیئرمین نیب نے نیب خیبر پختونخوا آفس کا دورہ کیا جہاں ڈی جی نیب نے انہیں میگاکرپشن مقدمات پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا میگا کرپشن کے مقدمات کو انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے۔نیب کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس مرتبہ اپنے ادارے کی صفائی کے بارے میں دوٹوک مؤقف اختیا ر کیا ہے، اس ادارے کی غیرجانبداری پر کچھ عناصر کی جانب سے سوال اُٹھائے گئے تھے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ عناصر کی جانب سے بعض ادارو ں کے فیصلوں پر تنقید کی جاتی رہی جس میں یہ جانبداری پائی گئی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوا تو واہ، واہ، نہیں تو آہ، آہ تاہم یہ بھی بات پیش نظر ہونی چاہئے کہ بعض اداروں کی جانب سے جو چستیاں اور پھرتیاں دکھائی جا رہی ہیں ان سے عام تاثر یہ ہی برآمد ہوتا ہے کہ اس میں تقویت کا عنصر ادارے کا اپنا نہیں ہے۔ ماضی میں دباؤ کے معاملات بھی سامنے آتے رہے ہیں اسی لئے یہ کہا جاتا ہے کہ انصاف اور کارگزاری پر بولا نہیں جاتا بلکہ وہ ہوتا نظر آتا ہے چنانچہ بہترین جج عوام ہوا کرتے ہیں اور وہ جیسا محسوس کرتے ہیں وہ تقریباً حقیقت سے ہمکنار ہی ہوتا ہے، ماضی میں جو فیصلے آئے ان پر آج تنقید ہو رہی ہے لیکن کئی ایسے فیصلے بھی ہیں کہ جن کے بارے میں عوام تحسین کے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں، علاوہ ازیں احتساب کے معاملے میں یکسو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہو اور سب کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے اس میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہئے۔ ہر شخصیت اور ہر ادارے کو اس دائر ے میں ہونا چاہئے جس کی وجہ سے ابہام ختم ہو جائے گا اور پھر یہ کہنے یا وضاحت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی کہ تمام تقاضوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، بلاوجہ تنقید کرنے یا اپنے مفادات کی زد پر چیخنے والوں کو خود ہی منہ کی کھانی پڑے گی۔جہاں تک احتساب کے عمل کو مشکوک بنانے یا اس پر تنقید کا معاملہ ہے اس میں سیاستدانوں کا اس وقت پوری طرح کردار ہے کیونکہ جو احتسا ب کا عمل شروع ہے اس میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ عوام کی خواہش ہے کہ احتساب ہو اور پوری طرح ہو، نیب کے بارے میں یہ رائے ہے کہ ماضی میں جو احتساب کا عمل ہوا اس میں یہ بات دیکھنے میں آئی کہ احتساب بیورونے بارگین کا کھل کر استعمال کیا جس سے ادارے کی جانب سے آمدنی کے اعداد وشمار جاذب نظر تو ہوئے مگر اس سے ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہ ہوا اور نہ کرپٹ عناصر پر کوئی فرق پڑا کیونکہ سننے اور دیکھنے میں یہ آتا رہا کہ ایک شخص نے کروڑوں کی کرپشن کی اور لاکھوں ادا کرکے چھوٹ گیا، یہ ایک طرح سے اچھا کاروبار بن گیا کہ خوب لوٹو اور آٹے میں نمک کے برابر ادا کرکے چھوٹ جاؤ۔جہاں تک موجودہ احتساب کی بات ہے اس بارے میں نیب کے چیئرمین نے اس سے پہلے بھی نیب کی کارگزاری کی وضاحت کی تھی یہ درست ہے کہ جن کیخلاف احتساب رو بہ عمل ہے ان کی طرف سے مرچ مسالا لگی تنقید ہو رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اسی تنقید کی وجہ سے اپنے خلاف ہونے والے احتساب کو مشکوک کرنے کی مساعی کرنا چاہتے ہوں مگر کچھ ایسے سیاستدان بھی ہیں جن کی بحیثیت حکمران ذمہ داریاں کچھ اور بنتی ہیں مگر وہ مفت میں احتساب اور عدالتوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں جبکہ وہ اپنے مخالف سیاستدانوں کے سیاسی حریف ہیں نہ کہ خودمختار اداروں کے ترجمان چنانچہ حزب اختلاف کی جانب سے یہ ہی اعتراض اُٹھایا جا رہا ہے۔ اس طرح کی سیاسی چپقلش اور نمبرگیم بنانے میں عوام میں اچھا تاثر پیدا نہیں ہو رہا ہے۔حزب اختلاف کے قائد شہباز شریف کیخلاف جب احتساب بیورو متحرک ہوا تب حکومتی حلقوں سے جو بیان بازی شروع ہوئی اس سے عوام کو یہ تاثر ملا کہ حکومت جس نے دھرنا تحریک اور بعد ازاں بڑی بیدردی سے احتساب کرنے کے دعوے کئے تھے وہ اس وعدے پر عمل پیرا ہو گئی ہے اور حزب اختلاف کی جانب سے یہ تاثر پھیلایا گیا کہ حکومت سیاسی انتقام پر اُتر آئی ہے۔ ان تمام معاملات پر وزیراعظم نے ایک دو دفعہ یہ وضاحت بھی کی کہ نیب مکمل طور پر خودمختار ادارہ ہے اور حکومت کا شہباز شریف کی گرفتاری اور احتساب سے کوئی تعلق نہیں ہے چنانچہ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اس سیاسی دنگل کی وجہ سے نیب کی کارگزاری پر منفی تاثرات ابھر رہے ہیں یعنی جو کام نیب کے ترجمان نے کرنا ہے وہ کام حکومتی بینچوں سے ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں لامحالہ یکطرفہ احتساب کا تصور ہی اُبھرے گا چنانچہ نیب کو چاہئے کہ غیر متعلقہ اداروں یا افراد کو نیب کا بلاوجہ ترجمان بننے سے روک دے۔نیب نے جس طرح کے پی کے وزیراعلیٰ کے نیب میں پیش ہونے کے بعد ان کے اس بیان کا نوٹس لیا کہ موصوف نے پیشی کے بعد فرمایا کہ وہ نیب میں پیش ہوئے اور ان کو کلین چٹ مل گئی۔ جس پر نیب کی طرف سے وضاحت آئی کہ نیب نے کوئی کلین چٹ نہیں دی ہے اگر یہ وضاحت نہ ہوتی تو پھر وہی تاثر پھیلتا جو اس بارے میں پھیلایا گیا تھا۔ نیب پر تنقید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک اس کی پھرتیاں اور کارگزاری صرف ان لوگوں کے بارے میں سامنے آرہی ہیں جو اس وقت حزب اختلاف کا حصہ ہیں چنانچہ اس تاثر کے توڑ کیلئے نیب کو چاہئے کہ اگر اس نے اس سے ہٹ کر کچھ کیا ہے تو اس کی تشہیر کرے تاکہ عوام کو صحیح صورتحال کا علم ہو سکے۔

متعلقہ خبریں