Daily Mashriq


شہری پولیس کو درپیش المیہ

شہری پولیس کو درپیش المیہ

جدید قومی ریاستوں میں پولیس کو طاقت کے استعمال کے لیے ایک مسلح قوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ امن کے دنوں میں پولیس کا کام احکامِ حکومت پر عملداری اور شہریوںکے حقوق کو یقینی بنانا ہوتا ہے البتہ ہمارے ہاں پولیس کے اصل مقاصد،ذمہ داریوں اور عملی اقدامات میں خاصا تضاد دیکھنے کو ملتا ہے ۔قدیم فلسفی افلاطون کے مطابق کسی بھی قسم کی صریح نافرمانی بھی حاکم کو اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ وہ عوام کو ناجائز حد تک ظلم کا نشانہ بنائے ، یہی پولیسنگ میں اخلاقیات اور حدود و قیود کی بنیاد ہے۔پولیس افسران وسیع اختیارات کے حامل ہوتے ہیں البتہ انہیں ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے افعال سے ان کے بابت عوام میں پائے جانے والی منفی رائے اور ان میںقانون و انصاف کے بارے میں پلنے والے خدشات کوتقویت نہ ملے۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں لالچ، طمع، رشوت اور ناجائز کمائی سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے مؤثر نتائج کے حصول کو ترجیح دینی چاہیے۔ کرپشن کے ناسور سے پاک ممالک میں پولیس ایسے طریقے برتنے سے اجتناب کرتی ہے جو چھوٹی سے چھوٹی سطح پر بھی معاشرتی اخلاقی روایات سے متصادم ہوں۔ پولیس اہلکاروں کو تفویض کردہ اختیارات کس حد تک مؤثر ہیں اور ان کا کتنا جائز استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک قابلِ بحث بات ہے۔ گو کہ پولیس کا امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خاص حد تک تشدد کا استعمال کرنا درست ہے مگر اس بات کا تعین کون کرے گا کہ اس تشدد کی حد کیا ہوگی ؟ ایک ڈاکے کے دوران یا ایک قتل یا دہشت گردی کے موقع پر وہ کس حد تک طاقت کے استعمال کی مجاز ہے نیز ایسے اختیارات جو انسانی حقوق سے متعلق ہیں وہ ان کے استعمال میںکیسے شفافیت برقرار رکھ سکتی ہے؟ گو کہ پوری دنیا میں ہی پولیس کو عوام کی جانب سے تنقید، بدعنوانی کے الزامات اور عدم اعتماد کا سامنا رہتا ہے مگر پاکستان میں ان مسائل کے ساتھ ساتھ پولیس کا نظریاتی بنیادوں پر خلفشار کا شکار ہونا بھی ان کی تحریک کو متاثر کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ پاکستان میں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس خطرناک دہشت گردوں کا مقابلہ امن کے دنوں کے لیے تشکیل کردہ پولیس کر ہی نہیں سکتی اور یہی بات شہروں میں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی اور مداخلت کا جواز فراہم کرتی ہے۔ ہمارا غیر مؤثر اور کمزور عدالتی نظام بھی پولیس کے لیے ایک بڑی مصیبت ہے جہاں کئی مجرموں کو اعترافِ جرم کرنے کے بعد بھی سزا نہیں مل پاتی اور وہ کیس اُلجھا کر آزادی کا پروانا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پولیس کو ہمیشہ رشوت ستانی، بد عنوانی اور مجرموں کی پشت پناہی کے الزامات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ یہی پولیس کئی دفعہ جرائم میں بھی ملوث پائی گئی ہے ا من و امان کی ہنگامی صورتحال اور دہشت گردو ںکی جانب سے جدید ترین اسلحہ کے استعمال کے باعث پولیس کی ذمہ داریاں بانٹنے کو افواج سامنے آنے لگی اور وفاقی دارالحکومت سمیت دوصوبائی دارالحکومتوں میں افواج کی تعیناتی اور انہیں پولیس کے اختیارات منتقل کرنا اس سنگین حالت کا غماز ہے۔ جھول دار قانون اور کمزور عدالتی نظام کے باعث ملٹری کورٹس کا قیام اور ان کے لئے باقائدہ قانون سازی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے باعث ملک بھر میں پولیس کی صلاحیت میں اضافے کے لیے انہیں بکتر بند گاڑیاں، بلٹ پروف جیکٹیں اور اے کے 47 بندوقیں فراہم کی گئیں اور اسی پولیس نے ملک بھر میں لاتعداد مرتبہ دہشت گردوں سے مقابلے میں انہیں موت کے گھاٹ اُتارا مگر یہ تمام معاملات کسی بھی طرح شہری امن کے لئے فائز کردہ پولیس کی ذمہ داریوں سے میل نہیں کھاتے ۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی سامنے آیا کہ دہشت گردی سے اس قدر متاثر ہونے کے بعد پولیس اب عام شہریوں کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی ہے کہ نجانے ان میں سے کس کا تعلق دہشت گرد حلقوں سے ہو اوراس شک کی بنیاد پر وہ کئی دفعہ بظاہر مشکوک افراد کو حراست میں لیتے ہیں یا انہیں حبسِ بے جا میں رکھتے ہیں اور ایسے تمام اقدامات کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی نگرانی کے بغیر سر انجام پائے جاتے ہیں اور ان میں قانون اور انصاف کے معیارات کویکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںایسے متحرک کردار کے باعث پولیس کو بھی دہشت گردوں نے حملوں کا نشانہ بنایا اور سپاہیوں سے لے کے اعلیٰ ترین افسران نے اس جنگ میں جان گنوائی۔ پولیس ہمیشہ سے دہشت گردوں کا ایک آسان ہدف رہی ہے اور ا سی جنگ کے نتیجے میں پولیس اور شہریوں میں دوری مزید بڑھی ہے کہ پولیس مقابلوں میں اکثر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت عوام کو ان سے متنفر کرنے کا موجب بنتی ہے۔ مزید بر آں عوام پولیس پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں اور سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ جو پولیس اپنے افسران کا تحفظ نہ کر پائے وہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کیسے کر ے گی؟ یہ تمام باتیں اس تضاد کی عکاس ہیں جس کا ہماری پولیس شکار ہے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو بطور ادارہ مضبوط بنانے کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں