Daily Mashriq

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

صرف اور صرف169 گھروں کی بستی ہے جس میں ہم سب لوگ بودو باش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان ایک سو چھیانوے گھروں میں ایک گھر ہمارا بھی ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ مگر شومئی قسمت سے ہمیں مل جل کر یا صلح سلوک سے رہنے کی عادت نہیں، لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ایک دوسرے سے، پگڑیاں اچھالنے اور اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کے گریبانوں میں جھانکتے رہنے کی ہمیں بہت پرانی عادت ہے۔ عادت ہی نہیں، یہ نازیبا حرکت ہماری فطرت میں شامل ہے۔ لوٹتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو ان کا حق مار کر مصنوعی گرانی پیدا کرکے‘ چوری چکاری ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری رشوت سفارش کتنی قباحتیں ہیں ہم میں جن کا شمار نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ صدیوں پہلے ہم ایک ہی گھر میں رہ رہے تھے ہماری عادتیں خصلتیں ایک دوسرے سے اس قدر جدا تھیں کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا یا آپس میں مل جل کر رہنا دوبھر ہوگیا تھا۔ سو ہم نے اس گھر کو تین حصوں میں بانٹ دیا۔ ایک کا نام مغربی پاکستان رکھا۔ ایک کو مشرقی پاکستان کہنے لگے اور ایک بھارت کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ بھارت میں رہنے والوں کو پانچ گنا رقبہ ہاتھ آیا وہاں بنیا ذہنیت کے لوگوں کی اکثریت کا راج ہوگیا۔ انہوں نے کشمیر جنت نظیر کے لوگوں کی آزادی چھین لی۔ ان کے حقوق غصب کرنے لگے ظلم وستم کشت خون کا بازار قائم کئے رکھا انہوں نے جس کے جواب میں ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور ستم رسیدہ بھائیوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہے اور بھارت والوں سے مڈبھیڑ گویا ہماری قسمت بن کر رہ گئی۔ بھارت سے علیحدگی کے بعد کہنے کو تو ہم ایک ہی مکان کے مقیم تھے جو مشرقی اور مغربی پاکستان نامی دو حصوں پر مشتمل تھا لیکن ان دو حصوں کے مکینوں کے درمیان حقوق کی جنگ لڑنا اور تو تکار کرتے رہنا گویا ہمیں ورثہ میں ملا تھا سو بھارت کے مشرق اور اس کے مغرب میں رہنے والوں نے جیو اور جینے دو کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی اپنی راہ لی اور وہ جو ماضی میں کم وبیش194 مکانوں کی بستی تھی اس کے مکانوں کی تعداد ایک سو چھیانوے ہوگئی۔ معلوم ہے اس196 مکانوں کی چھوٹی سی بستی میں کتنے لوگ رہتے ہیں۔ آپ انکی تعداد کے بارے میں جانیں گے تو انگلیاں پکڑ لیں گے اپنے دانتوں میں۔ پورے سات ارب چالیس کروڑ لوگ یہاں اپنی زندگی کے معمولات پورے کرنے میں مگن ہیں۔ ان سات ارب چالیس کروڑ نفوس میں سے بائیس کروڑ کی لگ بھگ تعداد کے لوگ اس مکان میں رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں جس کے حوالہ سے وہ پاکستانی کہلاتے ہیں۔ اگر ہم سب ایک ہی مکان کے مکیں ہیں تو یقیں کریں ہم بائیس کروڑ لوگ بحیثیت مجموعی بہت بڑی طاقت ہیں۔ ہم محبت فاتح عالم سے نہ صرف آپس میں مل جل کر اور پیار محبت سے رہ سکتے ہیں‘ غربت بیماری اور جہالت جیسی برائیوں اور کمزوریوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں بلکہ اس بستی کے دیگر مکانوں میں رہنے والوں میں بھی اپنی نیک شہرت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ محبتیں بانٹ کر ہی محبتیں بٹوری جاتی ہیں۔ لیکن جانے ہم ایسا کیوں نہیں کرتے۔ پیار محبت اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے لئے اگر ہمارے پاس وقت نہیں تو ہم نفرتوں اور کدورتوں کے لئے جانے کہاں سے وقت لے آتے ہیں۔

آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ہم سب کو ایک ہی گلوبل ویلیج کے باسی بنادیا ہے۔ گلوبل ویلیج کو ہم اردو زبان میں ارضی قصبہ یا کرہی دیہات بھی کہہ سکتے ہیں۔ کتنا اچھا ہو اگر196 مکانوں پر مشتمل یہ کرہی گاؤں امن وآشتی کا گہوارہ بن کرخوشحالیاں بانٹتا ستاروں سے آگے جہانوں کی تلاش کرتا رہے۔ انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ اپنے سوشل سٹیٹس کو بڑھاوا دینے کے لئے سوشل رابطوں میں اصلاح پیدا کریں۔ ایسا کرنے کے لئے ہمیں آپس میں بہترین سفارتی تعلقات کی ضرورت ہے۔ سفارتی تعلقات میں ایک شعبہ معاشی سفارت کاری کا بھی ہے ، جس میں ترقی کے مواقع تلاش کرنے کے لئے وزارت خارجہ، تجارت اور سرمایہ کاری بورڈ کے منصب دار آج دوسرا دن ہے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں ۔ ملک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دفن ہورہا ہے ، ایسے میں معاشی سفارت کاری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ دنیا بھر کے ایک سو چھیانوے ممالک کے درمیان پاکستان کے بہترین مفاد میں اگر معاشی سفارت کاری کے رابطے بحال ہوجاتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم معاشی تعمیر و ترقی کے میدان میں اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوسکیں گے، بلکہ اس بستی کے ان مکینوں کی بھی مقدور بھر مدد کرنے کے قابل ہوجائیں گے جو اس سفر میں ہمارے سنگ سنگ چلیں گے ۔ آج معاشی سفارت کاری کانفرنس کا دوسرا روز ہے ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ یہ اس کانفرنس کا آخری روز ہے جس کے لئے باہمی تعمیر وترقی اور معاشی خوش حالی کے لئے ہم سب نے مل کر شاعر مشرق کے اس خواب کی تعبیر میں نکلنا ہے جس میں انہوں نے کائنات کن فیکون کی وسعتوں کو پار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

متعلقہ خبریں