Daily Mashriq


بلا امتیاز احتساب ہی واحد حل ہے

بلا امتیاز احتساب ہی واحد حل ہے

سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں کا نہیں بلکہ سول، بیوروکریسی، ملٹری اور عدلیہ کا بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے اسٹیک ہولڈر کے درمیان آئین کے تحت گفتگو ہونی چاہئے کیونکہ محاذ آرائی اور بیان بازی سے مزید ٹوٹ پھوٹ بڑھے گی۔ جمہوری عمل کو جاری وساری رہنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک کسی قسم کے عدم استحکام یا محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اپنے قانون کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ نیب کی ازسرنو تشکیل کی ضرورت ہے۔ عدلیہ اور سیاسی قوتوں سمیت تمام اداروں کے احتساب کیلئے ایک کورٹ اور ایک قانون ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے اندر اندرونی استحکام موجود نہیں ہوگا، شدت پسند فورسز آگے بڑھتی جائیں گی، ان فورسز کا ملک کے اندر سب سے بڑا قلعہ قمع جمہوریت اور جمہوری نظام ہی کر سکتا ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ اگر پارلیمان مضبوط ہو، پارلیمان اور تمام ادارے آئین کے تحت اپنا کام سرانجام دیں تو یہ ملک جس کیلئے ہمارے آباد واجداد نے قربانیاں دیں، اس کو ہم ایک مضبوط ملک میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ میاں رضا ربانی سیاسی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور اداروں کو ان کے بنیادی فرائض تک محدود کرنے کیلئے سیاسی وادارہ جاتی ڈائیلاگ پر ہر وقت زور دیتے ہیں لیکن ان کی تجویز پر کان دھرنا تو درکنار معاملات اس کے بالکل برعکس چل رہے ہوتے ہیں جس کے باعث سیاست، حکومت، جمہوریت، پارلیمان یہاں تک کہ عدلیہ بھی بھنور سے محفوظ نہیں رہی۔ ہمارے تئیں جہاں چیئرمین سینیٹ کی اس تجویز پر عملی طور پر پیشرفت کی ضرورت ہے وہاں نیب کی تشکیل نو اور نیب قوانین کا بھی جائزہ لینے میں حرج نہیں تاکہ نہ تو نیب استعمال ہو اور نہ ہی نیب کو استعمال کیا جاسکے بلکہ یہ ادارہ احتساب کا ایک غیرجانبدار اور حقیقی ادارہ بن کر سامنے آئے جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں احتساب کا عمل شفاف اور ہمہ گیر نہیں رہتا۔ نیب کا کردار اس کمزور پرزے کی طرح ہوتا ہے جو حکمرانان وقت کی منشاء کے مطابق ہی فٹ آتا ہے ان کی مرضی ومنشاء کیخلاف نیب کا احتسابی عمل اور تحقیقات بے نتیجہ اور لاحاصل نکلتے ہیں۔ اگر وطن عزیز میں حقیقی اوردباؤ سے بالاتر احتساب کرنا ہے تو نیب کو ایک ایسا مضبوط اور فعال احستابی ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جو دباؤ سے ہی آزاد نہ ہو بلکہ حکومتیں بدلیں یا ملک کی سیاسی وحکومتی صورتحال جو بھی ہو اس کے عمل احتساب پر اثرات مرتب نہ ہوں۔ نیب اتنا خود مختار، فعال اور اس کا دائرہ کار اس قدر وسیع ہو کہ اس کے دائرہ کار میں عدلیہ، فوج میڈیا اور طاقتور وکمزور ادارے اور افراد سبھی آئیں۔ نیب کی تحقیقات وتفتیش کا عمل اس قدر یقینی ہو کہ نیب کے نوٹس لینے پر عوام کو اس امر کا یقین آجائے کہ معاملات درست نہ تھے اور اب سزا ملنا یقینی ہے۔ ایسا تبھی ہوگا جب نیب کو اس کا حامل بنا دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں من حیث القوم اس امر کا تعین کرنا ہوگا کہ بدعنوان اور راشی جس مقتدر ومحترم ادارے‘ طبقے اور برادری سے تعلق رکھتا ہو اس کا فعل قابل دفاع نہیں بلکہ قابل مواخذہ ہے۔ جن اداروں میں اندرونی آڈٹ اور سزا وجزاء کا نظام موجود ہے یہ ان اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاً بدعنوانی کا ارتکاب ہونے ہی نہ دیں اور ایسا خلا نہ چھوڑا جائے کہ بدعنوانی کی نوبت آئے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوسکا تو پھر اس امر کی ہرگز گنجائش نہ رکھی جائے کہ ادارہ جاتی کارروائی اتنی نرم ہو کہ ہڑپ مال کو ہڑپ ہی سمجھ کر ملازمت سے برطرفی جیسے نمائشی اقدام پر اکتفا کیا جائے۔ ملازمت سے برطرفی کی سزا اس کرپشن کی ہونی چاہئے جو محدود پیمانے پر ہوئی ہو جب بدعنوانی کے مقدمات نیب میں آجائیں تو پھر نیب کو اتنا طاقتور اور بااختیار ہونا چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرسکے۔ نیب جب کسی معاملے کا نوٹس لیتا ہے اور تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ملزموں نے سب کچھ اس بھونڈے طریقے سے ہڑپ کیا تھا کہ ان کی سزا یقینی ہے مگر رفتہ رفتہ نیب کا شکنجہ اس طرح ڈھیلا پڑ جاتا ہے یا ڈھیلا کر دیا جاتا ہے کہ ملزمان صاف بچ نکلتے ہیں۔ گوکہ نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال ایک اصول پسند اور سخت گیر شخص سمجھے جاتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ موصوف کس قدر ثابت قدمی سے بدعنوان عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں اور ملک میں احتساب کی مثال قائم کرتے ہیں۔ جن جن اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں اور افراد کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیب کے سربراہ اور متعلقہ افراد کو اس امر کا اطمینان ہوتا ہے کہ ان افراد نے بدعنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کا ارتکاب کیا ہوتا ہے اور ان کیخلاف کافی ثبوت اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہوتا ہوگا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر رفتہ رفتہ ایسا کیا ہوتا ہے کہ نیب کوئی کیس ثابت نہیں کر پاتی اور کھیل ختم پیسہ ہضم والا معاملہ ہوتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ان کمزوریوں پر قابو پالیا جائے گا اور ملک میں حقیقی احتسابی عمل کا تسلسل کیساتھ آغاز ہوگا۔

متعلقہ خبریں