Daily Mashriq


قابل غور صورتحال

قابل غور صورتحال

نیشنل سیکورٹی کونسل کے عہدیدار کی غیر اعلانیہ آمد اور پاکستان میں وزارت خارجہ کے اعلیٰ سطح کے حامل شخصیات سے خفیہ ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بیک ڈور مذاکرات کا ممکنہ مقصد تعلقات میں حائل رکاوٹ یا مسائل کو احسن طریقے سے دور کرنا ہے۔ سینئر امریکی ڈائریکٹر برائے جنوبی اور وسطی ایشیا لیزا کرٹس نے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور وزیر داخلہ احسن اقبال سے ملاقات کی لیکن ملاقات سے متعلق کسی بھی قسم کی تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئیں۔ قبل ازیں وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں واضح کیا تھا کہ پاکستان امریکا مشترکہ مفاد کیلئے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ و اضح رہے کہ سال نو کے موقعے پر امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کیا کہ امریکا نے پاکستان کو15 برسوں میں33 ارب ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کرکے بہت بڑی بے وقوفی کی اور نتیجے میں پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکا دہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ بعد ازاں امریکا نے پاکستان کی عسکری امداد بھی روک دی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ماحول کشیدہ ہو گئے۔ اس حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینیٹ کام کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے ملاقات ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد برابری اور اصول پسندی پر ہو گی۔ دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا نے پاکستان پر منی لانڈرنگ قوانین میں سختی اور انسداد دہشتگردی کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں پاکستان کو عالمی دہشتگردی کی مالی معاون کار کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے قرارداد پیش کی۔ واضح رہے کہ پاکستان کیخلاف امریکی قرارداد کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حمایت بھی حاصل رہی۔ اس تفصیلی پس منظر کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کو بیک وقت دباؤ میں رکھنے اور ساتھ ہی تعلقات کو متاثر نہ ہونے دینے کی پرانی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ اس بار صورتحال تھوڑی سی مختلف اسلئے بھی ہے کہ جن پتوں پر ہم تکیہ کرتے رہے ہیں انہوں نے بھی ہوا دی۔ غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق حتمی ووٹنگ کے موقعے پر پاکستان کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب آئرن برادر چین نے امریکا کی ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پیش کردہ اس قرارداد پر جمع کرایا گیا اعتراض واپس لے لیا جبکہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل نے بھی پاکستان کیخلاف ووٹ دے دیا اور اکیلا ترکی پاکستان کے حق میں کھڑا رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تناظر میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی کیساتھ دنیا کے تحفظات دور کرنے اور ان کو یقین دلانے پر مبنی اقدامات ہی دانشمندی کا تقاضا ہیں۔ جن ممالک کو ہم صرف دشمنان میں شمار کرتے آئے ہیں یا جن سے ہمارے تعلقات کی نوعیت حقیقت پسندانہ نہیں رہی ہے ان کے دباؤ اور اعتراضات اور تحفظات بارے ہمارے پاس خواہ جیسے بھی ہوں دلیل کا ہونا فطری امر ہے مگر جہاں دوست ممالک ہمارے دفاع کی بجائے ہمیں نصیحتیں کرتے ہوئے پائے جائیں وہاں سنجیدگی سے صورتحال پر غور کرنے اور اعتماد سازی کی فضا بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی سے نمٹنے کیلئے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے، صرف قربانیوں کا تذکرہ اور بغیر فیس امریکی اور نیٹو سپلائی روٹ کا احسان جتانا کافی نہیں ہوگا، غلطیاں سدھارنے کیساتھ ساتھ عالمی برادری کا اعتماد بحال کرنے اور ساکھ بہتر بنانے کیلئے سفارتی میدان میں سرگرمی بھی دکھانی ہوگی۔

مفاہمت عوام کیلئے نہیں اپنے لئے

پختونخوا کی سینیٹ کے گیارہ نشستوں کی پارلیمانی جماعتوں میں تقسیم کی حکومتی پیشکش حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سینیٹرز منتخب کرانے کی حامی بھرنا اور خاص طور پر ہارس ٹریڈنگ کے امکانات کو ختم کرنے کی سعی مفاہمت اور شفاف سیاست کا تقاضا ضرور ہے لیکن ا س کا مظاہرہ صرف سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر ممبران کے پھسلنے کا خطرہ بھانپتے ہوئے ہی کیوں کیا جاتا ہے۔ کیا سال بھر ایسا ممکن نہیں جلسوں میں الزامات کی بوچھاڑ کیوں کی جاتی ہے اور خاص طور پر فنڈز کی تقسیم کے وقت مخالفین سے سوتیلی ماں کا سلوک کرتے ہوئے ان کے حلقہ نیابت کے عوام کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟ پوری مدت اقتدار میں دست وگریباں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی سینیٹ کے انتخابات میں ایک دوسرے کے اُمیدوار کی حمایت پر اتفاق منافقانہ طرزعمل نہیں کہ جہاں حصول اقتدار کیلئے ضرورت پڑی بدترین مخالفین شیر وشکر ہو گئے اور عوام میں آکر پھر دست وگریباں ہوگئے۔ مفاہمت کی اس سیاست پر اعتراض کی گنجائش نہیں لیکن منافقت کا یہ طرزعمل کیا عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف نہیں۔ کیا غمخواران عوام اپنے اس طرز عمل کی عوام کو توجیہہ پیش کریں گے۔

متعلقہ خبریں