Daily Mashriq


بے رحم احتساب ورنہ محض وقت کا زیاں

بے رحم احتساب ورنہ محض وقت کا زیاں

احتساب کے قومی ادارے نیب کی جانب سے ایک ایسے وقت فوج کے تین سابق جرنیلوں کیخلاف بدعنوانی کے برسوں پرانے کیسز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے جب اس پر صرف سیاستدانوں کیخلاف کارروائیاں کرنے کا الزام لگایا جا رہا تھا۔

نیب نے فوج کے جن سابق اعلیٰ افسروں کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید ظفر اور میجر جنرل (ر) حسن بٹ شامل ہیں۔ ان جرنیلوں پر الزام ہے کہ فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور2001ء میں ان افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لاہور میں ریلوے کی 140کنال سے زائد اراضی لاہور کے ایک نجی کلب کو کم داموں فروخت کر دی تھی۔اس معاہدے میںمبینہ بدعنوانی کے الزامات 2007 میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے جس کے بعد سے ملک کے مختلف تحقیقاتی اداروں نے اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی جبکہ نومبر 2012ء کو قومی احتساب بیورو نے ان تین جرنیلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے طلب کیا۔ یہ معاملہ نیب تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے ان سابق جرنیلوں کو اپنا جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان ہی دنوں این ایل سی میں بدعنوانی کے حوالے سے تین جرنیلوں کے بارے میں تحقیقات جاری تھیں اور2012ء میں فوج نے این ایل سی سکینڈل میں ملوث تین ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسران کو تحقیقات کی غرض سے ملازمت پر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت فوج کے سابق اہلکاروں کیخلاف بدعنوانی کے الزامات کی گونج جب میڈیا پر زیادہ سنائی دینے لگی تو جنرل کیانی کو بیان دینا پڑا تھا کہ ماضی میں ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں بہتر یہی ہے کہ تمام فیصلے قانون پر چھوڑ دیں اور ہمیں یہ بنیادی اصول نہیں بھولنا چاہئے کہ ملزم صرف اس صورت میں ہی مجرم قرار پاتا ہے جب جرم ثابت ہو جائے۔ دوسری جانب لاہور میں ریلوے کی اراضی کی لیز میں بدعنوانی کا دبا ہوا معاملہ دوبارہ خبروں میں اس وقت آیا جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی اور 2016ء میں وفاقی وزیر ریلوے نے 2001ء میں طے پانیوالے لیز کے معاہدے کے نتیجے میں قائم ہونیوالے رائل پام کنٹری کلب کو ریلوے کی تحویل میں لینے کا حکم صادر کر دیا۔

کلب انتظامیہ نے اس حکم کیخلاف احتجاج کیا اور معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچا جہاں فیصلہ کلب انتظامیہ کے حق میں آیا، تاہم اس معاملے سے جڑے کرپشن کے الزامات پر بات نہیں ہوئی چنانچہ جولائی2017ء میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اکاؤنٹس میں یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آیا تھا جس میں متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ کیا قائمہ کمیٹی میں اس معاملے پر مزید پیش رفت ہو سکی؟ اس پر مسلم لیگ ن کے رہنماء اور کمیٹی کے رکن میاں عبدالمنان کے مطابق اس معاملے پر کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تھا تاہم ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے، نیب اور ریلوے حکام کو بلایا جائے گا اور کوشش ہوگی کہ اس اجلاس میں کمیٹی اپنا فیصلہ سنا دے۔

کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہی اب نیب اس معاملے پر کارروائی کا اعلان کر چکی ہے لیکن نیب کی جانب سے تقریباً 15 برس پرانے کیس کو اچانک دوبارہ کھولنے کی نوبت کیوں آئی؟ کیا نیب کارروائی کا مطلب اس داغ کو دھونا ہے کہ نیب صرف سیاستدانوں کیخلاف ہی حرکت میں آتی ہے یا سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج ہونے کے باوصف چیئرمین نیب یہ سمجھتے ہیں کہ ہر طبقے کا بے لاگ احتساب ہونا چاہئے؟

اس میں شک نہیں کہ جج، جرنیل، جرنلسٹ اور بیورو کریٹ پاکستانی سماج میں ایک ممتاز اور باعزت مقام رکھتے ہیں اور ان سب طبقات کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ انتہائی طاقتور اور با اثر ہیں۔ اتنے طاقتور کہ نیب ان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے لیکن اب جو اشارے مل رہے ہیں وہ اس تاثر کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ تین سابق جرنیلوں کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا بلکہ پاکستان کا انتہائی طاقتور سیاسی گھرانہ یعنی شریف خاندان بھی نیب کی زد میں ہے۔ اس کے علاوہ احد چیمہ جیسا بااثر بیوروکریٹ بھی ہمیں سلاخوں کے پیچھے نظر آیا حالانکہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا انتہائی قریبی بندہ اور دست راست ہے۔ اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کرپٹ نہیں ہے اور پنجاب کے میگا پراجیکٹس کو اس نے بڑی محنت سے مکمل کیا لیکن یہ تو تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا کہ وہ بے گناہ ہے یاگنہگار۔ گویا اس وقت تک سیاسی اشرافیہ، تین عدد ریٹائرڈ جرنیل اور ایک عدد بڑا بیوروکریٹ ہی نیب کی پکڑ میں آیا ہے اور باقی دو طبقات شکنجے سے باہر ہیں لیکن یہ بات بہرحال پتھر پر لکیر ہے کہ تمام بااثر طبقات نے پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے اور بیدردی سے لوٹا ہے۔

میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ پاکستان کو جاہل اور ان پڑھ لوگوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اس کی کشتی میں سارے سوراخ پڑھے لکھے لوگوں نے کئے ہیں اور جس کو اس ملک نے جتنا زیادہ دیا اسی نے زیادہ کرپشن کی۔ اس منظرنامے میں چیئرمین نیب نے اگر طاقتور اشرافیہ پر ہاتھ ڈالا ہے تو یہ اہم بات ہے اور اُمید کرنی چاہئے کہ وہ دن بھی آئے گا جب آصف زرداری سمیت ان تمام لوگوں کو احتساب کی زد میں لایا جائے گا جو پاکستان میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ بے لاگ احتساب کے پیچھے اکیس کروڑ عوام کھڑے ہوں گے لیکن اگر مخصوص لوگوں کو زد میں لایا گیا اور اس میں بدنیتی کا عمل دخل نظر آیا تو احتساب کیساتھ ساتھ قومی احتساب بیورو بھی قصہ ماضی بن جائے گا۔

متعلقہ خبریں