Daily Mashriq


تاپ سے تاپی تک

تاپ سے تاپی تک

وسط ایشیاء کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کے حامل ملک ترکمانستان نے جنگ زدہ افغانستان کو فروخت کرتے ہوئے اپنی گیس پاکستان تک پہنچانے کا خواب دیکھا تھا تو بلاشبہ اس کے پیچھے محض اس سے ملتی جلتی پاکستان کی ضرورت اور مارکیٹ نہیں ہوگی، لامحالہ اس کا تعلق پاکستان میں چین کے منصوبوں سے بھی ہوتا اور یہی بھنک بھارت کو پڑ گئی تھی جو توانائی اور تجارت کے اس کھیل میں آن ٹپکا۔ یوں بنیادی طور پر سہہ فریقی منصوبے میں چوتھا فریق بھی گنڈاسہ لئے پہنچ کر اپنی شمولیت پر اصرار کرنے لگا۔ بھارت کی اس خواہش کو تقویت فراہم کرنے کیلئے کابل کے حکمران پہلے سے تیار بیٹھے تھے، سو انہوں نے بھارت کی شمولیت کے بغیر تاپ کو آگے بڑھانے سے صاف انکار کیا۔ کمزور اور ڈولتی ہوئی افغان حکومت کی عملی اہمیت تو شاید کچھ زیادہ نہ تھی مگر دنیا کے سامنے افغانستان کی یہی جائز اور قانونی حکومت تھی اور معاہدوں کی منظوری اور منسوخی پر اسی کا اختیار تھا۔ منصوبے میں شمولیت کیلئے بھارت کے اصرار اور بھارت کے بغیر منصوبے میں شامل ہونے سے افغانستان کے انکار نے تاپ کے تاپی میں بدلنے کی راہ ہموار کی۔ عین ممکن ہے کہ یہ تنہا بھارت کا دباؤ نہ ہوتا بلکہ اُن مغربی ملکوں کی خواہش بھی پس پردہ کارفرما ہوتی جو بھارت میں بے تحاشا سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ اس طرح یہ علاقائی تجارت سے زیادہ ایک عالمی تجارت اور خواہشات کا معاملہ تھا۔ بھارت کی منصوبے میں اصولی شمولیت کے بعد تاپ کی اصطلاح باقاعدہ طور پر تاپی میں تو بدل گئی مگر معاملات میں سست رفتاری بھی آگئی۔ تاپ بنیادی طور پر طالبان کے دور میں شروع ہونیوالا منصوبہ تھا اور کئی دوسرے تجارتی معاملات اور فیصلوں کی طرح شاید اس منصوبے پر رضامندی بھی طالبان کے سرخ دائرے میں آنے کی وجہ بنی۔ اس طرح پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ کھٹائی میں پڑتا چلا گیا اور تاپی منصوبہ ہی قابل عمل منصوبے کے طور پر میز پر موجود رہا۔ آخرکار افغانستان کے صوبہ ہرات میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان پر مشتمل گیس پائپ لائن کے افغان حصے کے منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، افغان صدر اشرف غنی، ترکمانستان کے صدر قربان گلی بردی محمدوف اور بھارت کے خارجہ امور کے ریاستی وزیر مبشر اکبر جبکہ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن اور ناٹو کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اس منصوبے پر دس ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر ستائیس ارب مکعب میٹر گیس سالانہ فراہم کرے گی جس میں دو ارب مکعب میٹر افغانستان اور ساڑھے بارہ ارب مکعب میٹر پاکستان اور بھارت استعمال کریں گے۔ منصوبے کا سنگ بنیاد 2015 میں رکھا گیا تھا۔ منصوبے میں سب سے اہم رکاوٹ افغانستان کی صورتحال تھی کیونکہ پائپ لائن افغانستان کے ان علاقوں میں سے بھی گزرتا ہے جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں چونکہ تاپی منصوبہ پر ابتدائی بات چیت طالبان کے دور میں ہی شروع ہوئی تھی۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ منصوبہ التوا کا شکار ہوگیا تھا اسلئے اب طالبان نے اس منصوبے کو خطے اور افغانستان کی معیشت کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے پائپ لائن کی حفاظت کا اعلان کیا ہے۔ تاپی منصوبے کی سب سے اہم بات طالبان کی یہی ضمانت ہے۔ یوں لگتا ہے کہ طالبان کو قائل کرنے میں خاصا وقت لگا ہے اور خطے میں آگ وخون کے کھیل کے شعلے کچھ کم ہونے لگے ہیں۔ تاپی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا استحکام پاکستان کا استحکام ہے اور یہ کہ تاپی منصوبہ خطے کے ممالک کو متحد کرنے میں مدد دے گا اور اس سے سماجی اور اقتصادی ترقی ہوگی۔ اس کے ثمرات سے پورا خطہ مستفید ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ ایک حقیقت بن چکا ہے گوادر بندرگاہ وسط ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک کو سہولت فراہم کرے گی۔ افتتاحی تقریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی غیر موجودگی ایک سوالیہ نشان تھا۔ بھارت نے اس تقریب میں ایک جونئر مسلمان وزیر اور صحافی ایم جے اکبر کو بھیجنا کیوں ضروری سمجھا یہ سوال بھی اہم ہے۔ تاپی منصوبے میں طالبان کی رضامندی اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی افغانستان کی زمینی صورتحال کوتسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم تاپی منصوبے کے حوالے سے دو خدشات اب بھی موجود ہیں۔ طالبان اور ان کے منحرف گروپ کی طرف سے پائپ لائن کی حفاظت کے اعلان کے باوجود744 کلومیٹر پائپ لائن کی حفاظت اب بھی سوالیہ نشان ہے۔ افغانستان کے ریڈیو آزادی کے مطابق ایران اس منصوبے کو پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے متوازی اور مخالف منصوبے کی عینک سے دیکھ رہا ہے۔ تاپی پائپ لائن افغانستان کے جن علاقوں سے گزر رہی ہے ان میں صرف طالبان اور ان کے منحرف رسول اخوند گروپ کی ہی موجودگی نہیں بلکہ ایران سے وابستہ عسکری گروپوں کا اثر ورسوخ بھی ہے۔ تاپی منصوبے کے بخیر وخوبی آغاز کے بعد اب بھارت کو سی پیک منصوبے کو بھی ہضم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے۔ بھارت کم ازکم اختلافات کے باوجود انسانی بھلائی کے منصوبوں کی حمایت کا سبق طالبان ہی سے سیکھ لے تو خطے پر منڈلاتے کشیدگی کے سائے بڑی حد تک چھٹ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں