Daily Mashriq


آئینہ دیکھئے

آئینہ دیکھئے

قارئین کی اس کالم سے توقعات اور وابستگی حوصلہ افزاء ہی نہیں قابل قدر بھی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں او رصوبے کے کونے کونے سے موصول برقی پیغامات اور واٹس ایپ کی تعداد اتنی ہے کہ ان کو کالم میں سمو دینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ کوشش رہتی ہے کہ اجتماعی معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے۔ پرنسپل ریٹائرڈ اکبر علی پرانے پنشنروں کے پنشن میں کم ازکم اتنا اضافہ کرنے پر زور دیتے ہیں کہ پنشن کی رقم سے گھر کا ضروری سودا سلف لایا جاسکے۔ اب تو پنیش کی رقم معقول ہوگئی ہے جو لوگ کافی پہلے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ان کی تعداد اتنی نہیں ہوگی جس سے قومی خزانہ پر بوجھ پڑے۔ سینئر ترین شہریوں کو صرف سرکاری ملازمت کی پنشن ہی نہیں بلکہ طویل المعمری کی پنشن بھی ملنی چاہئے۔محمد عظیم شاہ وریجون چترال کا موقف ہے کہ این ٹی ایس میں جس مضمون کیلئے اُمیدوار امتحان دے رہا ہو اسی مضمون ہی سے پرچہ تیار کیا جائے۔ ان کو اعتراض ہے کہ عربی، تھیالوجی ٹیچرز اور قاری کیلئے انگریزی اور حساب سے سوالات کیوں آتے ہیں۔ کسی حد تک تو ان کا مؤقف درست ہے لیکن بہرحال سرکاری ملازمت کیلئے ضروری ہے کہ اُمیدوار کو ریاضی اور انگریزی کی شدبد ہو۔ جو لوگ میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے کر لیتے ہیں ان کو ان بنیادی مضامین سے بھی واقفیت ہونی چاہئے۔ساؤتھ وزیرستان ایجنسی کا رہائشی سہیل برکی قبائلی علاقوں میں آپریشنز کی تکمیل اور امن کی بحالی کے باوجود سرکاری سکیموں اور خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں ہزاروں خالی آسامیوں پر بھرتی نہ کرنے پر متفکر ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کیلئے سرکاری ملازمتوں کو نہ صرف اہل افراد سے این ٹی ایس اور ایٹا کے ذریعے پُر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ان ملازمین سے پوری طرح کام لیکر قبائلی معاشرے کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے اور لوگوں کو سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کوا س بنیادی مسئلے پر ذاتی توجہ دینی چاہئے۔یونین کونسل طورمنگ2 تحصیل خال ضلع دیر سے حسین احمد خان نے عوام کے مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کے علاقے کی پندرہ کلومیٹر سڑک ناپختہ اور دشوار ہے، علاقے میں کوئی شفاخانہ اور ہسپتال نہیں، اس سڑک پر مریض کو لیجانا اور لانا تکلیف دہ اور جان لیوا معاملہ ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کا ہائی سکول نہیں، علاوہ ازیں بھی دیگر مسائل بیان کئے ہیں۔ آ پ کے علاقے سے غالباً جماعت اسلامی والے ہی جیتتے آئے ہیں، امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی آپ ہی کے علاقے کے ہیں جبکہ سینیٹر وزیر عنایت اللہ اور وزیر خزانہ بھی آپ ہی کے کلی وال ہیں، ایسے میں کم ازکم دیر میں اتنے بنیادی کام تو ہونے چاہئے تھے کہ عوام کو رُلنا نہ پڑتا۔ جماعت اسلامی کے یہ وزراء سنا ہے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں، جو ماضی میں کیا تھے یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اگر جماعت اسلامی والوں کا حال یہ ہے تو باقی سے کوئی کیا توقع رکھ سکتا ہے۔ایک قاری نے بڑا ہی حقیقت پسندانہ ایس ایم ایس کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نہ تو محکمہ تعلیم کے حکام اور نہ ہی سرکاری سکولوں کے اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرتے ہیں تو باقی لوگ کیوں کریں؟ صوبے کے حکمرانوں کا تو دعویٰ ہے کہ نجی سکولوں سے اب سرکاری سکولوں میں طلبہ کی مراجعت بڑھ گئی ہے۔ ویسے آپ کا مؤقف اور خیال درست اور حقیقت پسندانہ اور حکام کیلئے قابل صد توجہ ہے۔ایک قاری نے نشاندہی کی ہے کہ لوکل گورنمنٹ میں بے تحاشا کرپشن تحریک انصاف کے انصاف کو کھا گئی ہے اور حکومت بدنام ہو رہی ہے۔ اے ڈی آفس چارسدہ رشوت کدہ بن چکا ہے، بغیر رشوت کے کوئی کام نہیں ہوتا، صرف چارسدہ ہی نہیں لوکل گورنمنٹ کے ہر دفتر کا یہی حال ہے، زبان خلق پر کوئی توجہ دے گا کہ نہیں۔بنوں سے نیکمت اللہ جرار نے ایس ایس ٹی کے ایک اُمیدوار کو ڈھائی لاکھ روپے کے عوض این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ سچ ہے یا مبالغہ کچھ کہنا مشکل ہے، تحقیقات ہونی چاہئے اور نوٹس لیا جانا چاہئے۔سٹی ٹائون سربلند پورہ سے محمد طلحہٰ نے لکھا ہے کہ پشاور یونیورسٹی میں ایڈمیشن فیس جمع کراتے وقت طلبا کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ صرف یونیورسٹی کے اندر موجود بینکوں میں ہی تمام طلباء فیس جمع کراسکتے ہیں، جس سے طویل قطاریں لگ جاتی ہیں اور فیس جمع کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ آج کل جہاں بینکوں کی جانب سے آن لائن بینکنگ سسٹم متعارف ہوا ہے تو یونیورسٹی اور بینک انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طلباء کو آن لائن بینکنگ کی سہولت فراہم کریں یا شہر کے مختلف برانچوں میں فیس جمع کرانے کی سہولت دی جائے تاکہ طلباء کو مختلف مد میں فیس جمع کراتے وقت اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔لوئر دیر ثمر باغ سے سعیداللہ نے سرکاری ملازمین کیلئے منعقدہ ٹیسٹ میں نقل اور ممتحنین کی اُمیدواروں کی مدد کا الزام دہرایا ہے۔ اس قسم کے مسئلے پر گزشتہ کالم میں تفصیلی بات ہو چکی ہے، اس مسئلے سے جہاں اُمیدواروں میں مایوسی اور احساس محرومی کا اضافہ ہو رہا ہے وہاں اس سے این ٹی ایس اور ایٹا کی افادیت بھی باقی دکھائی نہیں دیتی۔ اس معاملے کا اگر متعلقہ ادارے نوٹس نہیں لیتے تو منصفین ہی کچھ کریں۔بہت سارے سرکاری ملازمین کا ٹرانسفر، پوسٹنگ، محکموں میں ان کیساتھ ہونیوالی ناانصافی، ان کی ترقی روکنا، غرض بے شمار مسائل بارے ایس ایم ایس اور واٹس ایپ موصول ہوتے ہیں۔ ان سب سے ہمدردی ضرور ہے اور متعلقہ حکام سے گزارش بھی ہے کہ وہ خوف خدا کریں اور ہمدردانہ طرز عمل اپنائیں مگر ان سب کا مسئلہ فرداً فرداً شامل کالم کرنا ممکن نہیں ان سے معذرت۔۔قارئین 03379750639

پر میسج اور واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں