Daily Mashriq


تھانیدار کا اختیار

تھانیدار کا اختیار

شہر چھوٹا ہو یا بڑا اس کی چھوٹی چھوٹی گلیوں کا کلچر تقریباٌ ایک جیسا ہوتا ہے۔ اپنے شہر پشاور کی ٹھنڈی گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا ہے، ان گلیوں کے اپنے انداز ہیں، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے گھروں کے مکیں جب گلی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے انداز واطوار ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئے ہوں۔ نظریں نیچی کئے وہ اپنے گھر کی چوکھٹ پر لٹکا ہوا پردہ ایک ہاتھ سے اُٹھا کر اندر داخل ہوجاتے ہیں۔ مکانوں کی اکثریت اپنی میعاد پوری کر چکی ہے، بعض خستہ حالوں کی تو یہ صورت ہے کہ بالکل آگے کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ مکینوں نے اس ڈر سے کہ کہیں زمین بوس نہ ہو جائیں انہیں لکڑی کے بڑے بڑے شہتیروں سے سہارا دے رکھا ہے۔ ہمارے ایک مہربان ایک روز ہم سے کہنے لگے کہ ہمیں پشاور کی گلیوں میں پھرنے کا بڑا شوق ہے۔ ہم نے کہا جناب آپ اپنا شوق ضرور پورا کیجئے لیکن یہ خیال رہے کہ ان گلیوں میں پھرتے ہوئے لوگ اکثر اپنا راستہ کھو دیتے ہیں، ہماری پیدائش پشاور ہی کی ہے لیکن اس کے باوجود ہم اکثر ان گلیوں میں گھومتے ہوئے راستہ بھول جاتے ہیں۔ اس راستہ بھولنے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو ہم پشاور کے اندر سے گزرنے والی نہر کے کنارے رہائش رکھتے ہیں جو یقیناً شہر کے اندر ہوتے ہوئے بھی شہر سے باہر ہے اور دوسری وجہ ہمارے حافظے کی کمزوری ہے جسے ایک دوسرے سے ملتی جلتی شکل وصورت رکھنے والی گلیاں بڑی آسانی سے دھوکا دے دیتی ہیں اور ہم شرمندگی کی وجہ سے کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتے کہ بھائی یہ گلی آگے سے بند تو نہیں ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گلی کے درمیان ایک پردہ لٹکا ہوتا ہے یہ اس بات کی نشانی ہے کہ یہ گلی آگے سے بند ہے۔ جدید آبادیوں میں رہنے والے لوگ اپنی اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں، بڑے بڑے گھر وسیع وعریض لان ہر فرد کا اپنا کمرا، بعض صورتوں میں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی گھر کے اندر رہنے والے یوں زندگی گزارتے ہیں جیسے کسی ہوٹل میں رہ رہے ہوں۔ بعض خاندان تو اکٹھے مل بیٹھ کر کھانے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ اپنے اپنے کمروں میں ہی کھانا منگوا لیا جاتا ہے۔ ٹی وی اور کمپیوٹر نے چھوٹے سے کمرے کو ایک دنیا بنا رکھا ہے جبکہ گلیوں میں رہنے والے مکین ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ساری گلی ایک ہی خاندان کی طرح ہو، یہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ اور مزاج سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور اس صورتحال کی خوبیاں خرابیاں بھی اپنی جگہ پر ہیں۔ مثلاً آپ کی گلی کے پنساری کو یہ پتہ ہوگا کہ آج آپ کے گھر کیا پکا ہے یا آپ کے گھر کون آیا کون گیا۔ گلی کے پنساری کو دیکھ کر ہم تو عبدالحمید عدم کا یہ شعر گنگنانے لگتے ہیں۔

اے عدم احتیاط لوگوں سے، لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

یا پھر گلی کے کونے پر کھڑے دو چار ہیرو نظر آئیں۔ یہ وہ ہیرو ہوتے ہیں جو میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کا امتحان دے کر فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک دن اسی طرح ایک تنگ گلی کے کونے پر کھڑے چند ہیرو نما لڑکوں سے کہا بیٹا یہاں کھڑے ہو کر کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو، تم تو بڑی صلاحیتوں کے مالک ہو، پڑھنا لکھنا تمہارے ساتھ اچھا لگتا ہے، تم نے ہی آنیوالے وقت میں قوم کی کشتی کو پار لگا نا ہے۔ انہوں نے پہلے تو بڑے غور سے ہماری طرف دیکھا پھر آپس میں کچھ اشارے کئے اور ہماری کسی بھی بات کا جواب دئیے بغیر چپکے سے چل پڑے۔ ہمیں یہ ساری صورتحال بڑی عجیب سی لگی، ہم نے ادھر ادھر دیکھا تو علاقے کا پنساری ہماری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ہم نے اسی سے پوچھ لیا کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی لڑکوں نے ہماری بات کا جواب ہی نہیں دیا اور چپکے سے چل پڑے۔ اس نے ہماری توجہ ایک چھوٹے سے چارٹ کی طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ زرا اسے پڑھ لیجئے۔ ہم نے چارٹ کے قریب جا کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا کہ یہاں پر بلاضرورت کھڑا ہونا منع ہے خلاف ورزی کرنیوالے کو حوالہ پولیس کیا جائے گا‘ علاقہ ایس ایچ او۔ پنساری کہنے لگا جناب تھانیدار صاحب صبح دوپہر شام علاقے کا گشت کرتے ہیں انہوں نے بڑی سختی کیساتھ محلے کے بزرگوں کو کہہ رکھا ہے کہ اپنے بچوں کو گلیوں میں ادھر ادھر منڈلانے سے باز رکھیں، انہیں مصروف رکھیں، اگر انہوں نے امتحانات دے رکھے ہیں تو انہیں کوئی ہنر سیکھنے پر لگا دیں۔ کمپیوٹر میکینک، ٹی وی میکینک کا کام سیکھنے پر لگا دیں اور بہت سے کام ہیں لیکن گلیوں میں کھڑا ہونا مجھے کسی صورت بھی گوارا نہیں ہے، اگر میں نے کسی لڑکے کو یہاں پر منڈلاتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ بس جناب اب ہمارے محلے میں امن وسکون کی فضا ہے، لڑکے کوشش کرتے ہیں کہ گھروں میں ہی اپنے آپ کو مصروف رکھیں یا پھر کہیں باہر چلے جاتے ہیں، علاقے کے پنساری کی بات سن کر ہم سوچ رہے تھے کہ اگر تھانیدار چاہے تو انقلاب برپا کر سکتا ہے بس اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے!۔

متعلقہ خبریں