Daily Mashriq


شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

عمران خان نے21 فروری 2015ء میں فصل بہار کی شجرکاری مہم کے دوران صوبہ خیبر پختون خوا میں ایک ارب درخت لگانے کا عندیہ دیا تھا۔ اگر ہم عمران خان کے مخالف ہوتے تو عندیہ کے اس لفظ کو عمران کی ’سیاسی بھڑک‘ کہتے یا سبز باغ جو یہ سیاسی لوگ عوام کو دکھا کر اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹ لیتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں، وعدے، قسمیں اور عزم ارادے ووٹ لوٹنے کیلئے کرتے ہیں اور جب ان کے وعدے ’وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو‘ کے مصداق وعدہ محبوب ثابت ہوتا ہے توسادہ لوح لوگ اسے انداز لیڈرانہ سمجھ کر بھول جاتے ہیں لیکن جب ان کے مخالفین صوبہ خیبرپختون خوا کے عوام سے مخاطب ہوتے ہیں تو عوام کے سوئے ہوئے شعور کو بیدار کرنے کی غرض سے ان وعدوں وعیدوں کی ٹیپ کو ریوائنڈ کرنے کی کوشش میں سبز باغ دکھانے والے لیڈرکی بزعم خود کردار کشی کرتے ہوئے اسے دغاباز، جھوٹا اور وعدہ فراموش ثابت کرنے لگتے ہیں۔ گزشتہ دنوں شیروں کے جم غفیر کو مخاطب کرنیوالا شیروں کا شیر دھاڑتا ہوا صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور آیا اور اس نے عوام کو عمران خان کا وہ وعدہ یاد دلایا جس میں اس نے ایک ارب درخت لگانے کی بھڑک ماری تھی تو اس کی یہ بات سن کر جلسے میں موجود گیدڑ بھی شیر ہوگئے۔ شیر دھاڑتا ہے لیکن شیر کو دھاڑیں مار مار کر رونے کے متعلق میں نے کبھی دیکھا تھا نہ کبھی سنا تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو شکار کرنا چھوڑ دیتا ہے اور شیرنیوں کے شکار پر گزر اوقات کرنے لگتا ہے۔ اس شیروں کے شیر کی شیرنی جنگل کا قانون نبھانے نکلی ہوئی ہے قانون شکنی اور قانون کی توہین اس شیر کی بچی نے ورثے میں پائی ہے، سوہم کو اس کی شیر دلی پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ہمیں غرض نہیں جنگل کے بادشاہ اور اس کے جنگل کے قانون کا۔ ہمیں جنگل کے قانون سے بڑھ کر جنگل کی فکر ہے جسے ہم اپنے ملک اور قوم کی معیشت کیلئے نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ اک زمانہ تھا جب پشاور حدنگاہ تک جنگلات کی دولت سے مالامال تھا۔ یہاں نہ صرف گھنے جنگل تھے، جنگلی حیات بھی موجود تھی۔ جس کی گواہی دیتے ہوئے صاحب تزک بابری نے پشاور کے جنگل میں آب سیاہ کے قریب گینڈے کے شکار کا تذکرہ کیا ہے۔ اسے شومئی قسمت کہئے کہ پشاور میں نہ تو وہ جنگل رہے نہ ان میں شکار ہونیوالے گینڈوں جیسی جنگلی حیات کا وجود۔ البتہ آج بھی پشاور کے نواح میں بڈھنی نامی آب سیاہ کا نالہ بہہ رہا ہے جس میں پشاور شہر کا آلودہ پانی ابوطبیلہ کے زمانے کے شاہی کٹھہ سے ہوتا ہوا پہنچتا ہے اور یوں یہ آلودہ پانی جہاں جہاں سے گزرتا ہے ہمارے کھیت کھلیانوں کو سیراب کرنے کا باعث بنتا رہتا ہے۔ پھولوں اور باغوں کے شہر پشاور کے جنگلات سے گزرنے والے بڈھنی نامی اس برساتی نالہ کا ذکر ہم نے یہ بتانے کیلئے عرض کیا کہ یہاں نہ صرف جنگل موجود تھے بلکہ اس جنگل میں ظہیرالدین بابر کا شکار بننے والے گینڈے بھی پائے جاتے تھے۔ عمران خان نے ایک ارب درخت لگانے کا عندیہ دیا اور ہم سب بہلائے جانے والے بچوں کی طرح تالیاں بجانے لگے۔ جیسے سچ مچ ہمارے چہار سو ولئیم شیکسپئیر کاGreen Wood Tree پھوٹ پڑا ہو۔ ہمیں یوں لگا جیسے آن واحد میں یہ سب کچھ ممکن ہوجائے گا۔

ہم تم ہونگے بادل ہوگا

رقص میں سارا جنگل ہوگا

کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا ہو لیکن نہیں نہ کبھی راتوں رات ایسا ہوا ہے نہ کبھی ایسا ہوگا کیونکہ جنگل میں شیر ہوتے ہیں جو کسی قاعدے قانون کی بجائے جنگل کے قانون کو قانون سمجھتے ہیں۔ درختوں کو اکھاڑنا، ان کی چوری کرنا، ان کو جلا کر بھسم کر دینا جیسے جنگل کی آگ کی طرح پھیلے کلچر میں ہم سب کی آرزؤں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ہم نے صرف درخت لگانے ہیں بلکہ اپنے جنگلات کو جنگل کے اس قانون کی زد سے بھی بچانا ہے جو ہماری معیشت کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ اس نیک عمل کوسنت نبویﷺ کا درجہ حاصل ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا ’’جو شخص درخت لگائے یا کھیتی باڑی کرے پھر اس میں سے انسان، پرندے یا جانور کھائیں وہ اس کیلئے صدقہ جاریہ ہے‘‘۔ حضور نبی کریمﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے میلوں پھیلے رقبے پر کئی جنگل اور سبزہ زار لگوائے۔ ایک حوالہ کے مطابق آپﷺ نے بلاضرورت درخت کاٹنے کی سختی سے ممانعت کی تھی۔ درخت ہمارے ماحول کو سرسبز وشاداب کرنے کے علاوہ فضائی آلودگی ختم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ زندگی کی دھوپ چھاؤں سے تھکے ہارے بے گھر لوگ درخت کے سائے کے نیچے آرام کر لیتے ہیں، ثمربار درختوں کے پھل درخت اُگانے والوں کی جانب سے آنیوالی نسلوں کیلئے عظیم تحفہ ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے ملک کی آبادی22کروڑ نفوس سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر ہم سب مل کر ایک درخت روز لگائیں تو ایک ارب کیا ہم کھربوں درخت لگا سکتے ہیں۔ ہم نے صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنے حصے کا کم ازکم ایک درخت لگا کر اس خواب کو تعبیر دینی ہے جس میں ہم جنگلات کی دولت سے مالامال ہو سکتے ہیں۔ شجر لگانا عین عبادت ہے کیونکہ بقول شاعر مشرق

خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تری

شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

متعلقہ خبریں