Daily Mashriq

بھارت کو دندان شکن جواب

بھارت کو دندان شکن جواب

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی)پر بھارتی فضائیہ کی در اندازی کو ناکام بنا دیا اور 2 بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ایک بھارتی لڑاکا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر میں گرا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی پائلٹ بھی گرفتار کرلئے ہیں۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک ٹویٹ میں پاک فضائیہ کی کارروائی کی تصدیق کی اور بتایا کہ پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر لائن آف کنٹرول پر کارروائی کی۔انہوں نے لکھا کہ اس کارروائی کا واحد مقصد اپنے حق کا دفاع تھا اور ہم اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے لکھا کہ ہم کشیدگی نہیں چاہتے لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا پاکستان اسے جواب دینے کا حق رکھتا ہے، کل بھی کہا تھا کہ پاکستان جواب ضرور دے گا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انڈیا میں بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی)کی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگائے ہوئے ہے، یہ لوگ معصوم لوگوں کی جان لینے پر تلے ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت سن لو یہ نیا پاکستان ہے، یہ نیا ولولہ نیا جذبہ ہے، آج پاکستان کی پارلیمان پاک افواج کے ساتھ متفق ہے، ہر شہر، گائوں اور بچہ بچہ پاک افواج اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے، بھارت ہوش کے ناخن لے اور امن کے راستے کو اپنائے، آج بھی ہماری ترجیح امن کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر امن اور تعاون کی بات کرتا ہوں، بھارت کو اپنے فیصلے اور جارحیت پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔خیال رہے کہ26فروری کو بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کی گئی تھی جس پر پاک فضائیہ نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اب وہ پاکستان کے جواب کا انتظار کرے جو انہیں حیران کردے گا، ہمارا ردِعمل بہت مختلف ہوگا، اس کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ ایک محاورہ ہے کہ بے وقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے لیکن یہاں بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی کا ثبوت دیتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارت کی طرف سے سرحد کی خلاف ورزی کے بعد خطے میں کشیدگی اور سرحدوں پر جنگ کی کیفیت دونوں ممالک کے لئے سخت مشکل حالات کا باعث ہونا فطری امر ہے۔ پاک فوج پر گزشتہ روز بھارتی جنگی طیاروں کو بسلامت واپس جانے پر ملک کے عوام کی طرف سے جس دبائو کا سامناتھا اسے پاکستانی ساہینوں نے دو بھارتی طیارے مار گرا کر برابر کردیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے جس برد باری کا ثبوت دیا تھا بھارت کو اس کی قدر کرتے ہوئے سرحدی خلاف ورزی پر پاکستان سے معذرت کرکے معاملہ ختم کردینا چاہئے تھا۔ اگر بھارت کی حکومت اپنے ہاں کے انتہا پسندوں کے نرغے میں ہونے کے باعث اس کا متحمل نہ ہوسکتی تھی تو سفارتی ذرائع سے اس کا حل تلاش کرنے کی سعی کی جاتی اور پاکستان کو سخت جوابی کارروائی پر مجبور نہ کیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔ بہر حال اب جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً جنگ چھڑ چکی ہے اور سرحدوں پر شدید گولہ باری کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب دشمن کو کاری ضرب لگانے میں عوام کو پاک فوج کا پشتیبان بننا ہی واحد آپشن ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا تو اعتراف ہے کہ بھارت بڑا ملک اور بہتر معیشت اور عسکری تعداد کے لحاظ سے مضبوط ملک ہے لیکن یہ ہمارا ایمان اور ہمارے رب کا وعدہ ہے کہ چھوٹی قوت ہونے کے باوجود غلبہ پانا اور کامیابی ممکن ہے اس کی زندہ جاوید مثالیں اسلامی تاریخ کا زریں باب ہیں۔ ہمارا دفاع مضبوط ہونا اور اپنے گھوڑے تیار رکھو کے حکم کی تعمیل بھی کوئی راز کی بات نہیں، ہمارا واحد اور اصل ہتھیار جذبہ ایمانی اور شوق شہادت ہے جئے تو غازی ہونے کی صورت میں اجر ہے اور رتبہ شہادت تو ہر مسلمان کی آرزو ہوتی ہے۔ ہمارے فوجی جوانوں کا شوق شہادت تو ثابت شدہ ہے۔بھارت کے طاری کردہ اس جنگی ماحول میں بھی عالمی رہنمائوں کی جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ ان کا ملک اور کچھ دوسرے ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن بھارت جس طرف اس کشیدگی کو لے جا رہا ہے محض بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے یہ ختم ہونے والی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے‘ دونوںملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن جب تک دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات طے کرنے کی کوئی نتیجہ خیز بین الاقوامی کوششیں نہیںہوں گی یہ صورتحال قائم رہے گی۔ اس لئے سلامتی کونسل اور عالمی قیادت کو تنازعہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دیگر تنازعات کو حتمی طور پر طے کرنے کی طرف آنا ہوگا۔ نئی دنیا جنگوں کی متحمل نہیںہو سکتی خواہ وہ کہیں بھی ہو رہی ہوں۔ نئی دنیا خودمختاری کے جواز پرکسی ملک کو ایک قوم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کی اجازت دینے کی بھی متحمل نہیںہو سکتی کیونکہ مظلوموں کی مایوسی تشدد کو جنم دیتی ہے۔ کشمیری نوجوان مقبوضہ کشمیر میں اڑھائی تین سال سے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کیلئے موت کا ڈر ختم ہو چکا ہے۔ اب انہیں نہ مرعوب کیا جا سکتا ہے نہ خوفزدہ۔ اس صورتحال میں پلوامہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ بھی رونما ہو سکتا ہے اور جنگ کا خطرہ اپنی جگہ قائم رہ سکتا ہے۔ اس لئے عالمی کمیونٹی کو تنازعہ کشمیر کے کشمیریوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کرنے اور دیگر پاک بھارت تنازعات کو حتمی طور پر طے کرنے کی کامیاب کوششیںکرنی ہوںگی۔ پاکستان کے دفترخارجہ کو اقوام متحدہ اور عالمی کمیونٹی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں