Daily Mashriq

پاکستان کو او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے

پاکستان کو او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے دونوں ممالک سے خطے کے امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دینا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کی ایک سطحی سی کوشش ہے جو روایتاً اس قسم کے موقع پر عام طور پر دیا جاتا ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ نے ہندوستان کو او آئی سی کے اجلاس میں مدعو کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کو او آئی سی کے اجلاس میں مدعو کرنا ہمیں کسی صورت گوارا نہیں۔ انہوںنے کہا کہ او آئی سی، پاکستان کیخلاف اس بھارتی جارحیت کی مذمت کرے اور دیگر ممبر ممالک کو بھی مذمت کرنے کا کہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ او آئی سی کے اجلاس میں رسمی بیان بازی سے بڑھ کر ایک اسلامی ملک کے خلاف ہندوستان کی جارحیت پر اور کچھ نہیں تو اسلامی ممالک کو سفارتی سطح پر دبائو ڈالنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ اسلامی ممالک کا یہ ڈھیلا ڈھالا اتحاد پاکستان کی ان مشکل حالات میں ممکنہ مدد کاعندیہ دیتی الٹا ایک سلامی ملک، کی بھارت کو اجلاس میں مدعو کرنے کا خواہاں ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف او آئی سی کے اجلاس میں ایک ایسے وقت میں بھارت کو بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت جب مودی سرکار مسلمانوں کے خون کی ذمہ دار ہے پاکستان کے دفتر خارجہ کی ناکامی متصور ہوگی کہ وہ اجلاس کے میزبانوں کو بھارت کو دعوت دینے سے روک نہ سکا۔ حالیہ فضائی حملوں اور سرحدوں پر جھڑپوں کے بعد بھارت کے ساتھ اجلاس میں پاکستان کا بیٹھنا بذات خود پاکستان کی توہین ہوگی۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ بھارت کی شرکت پر اجلاس کا بائیکاٹ کرے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جاری حالات کے تناظر میں جہاں او آئی سی ایک سنجیدہ طرز عمل اپنائے گی وہاں رکن ممالک متحدہ عرب امارات کو اس بچگانہ اور مسلم مفادات کے سراسر برعکس عمل سے باز رکھیں گے تاکہ پاکستان کو او آئی سی کے بائیکاٹ کی نوبت نہ آئے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ او آئی سی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا جس کی ذمہ داری یو اے ای پر عائد ہوگی۔

ہڑتالی پٹواریوں کے تبادلے میں تاخیر نہ کی جائے

خیبر پختونخوا میں ایک ماہ سے جاری پٹواریوں کی ہڑتال کے باعث انتقالات اور پراپرٹی کا کاروبار ٹھپ ہونے کے باوجود فوری انتظامی کارروائی کی بجائے ابھی پٹواریوںکا ایک ضلع سے دوسرے ضلع تبادلہ کرنے پر بھی غور موزوں عمل نہیں اس ضمن میں جتنی بھی تاخیر اور نرمی کا مظاہرہ کیا جائے گا پٹواری اس کا فائد ہ اٹھائیں گے۔ پٹواریوں کی ہڑتال کیوجہ سے صوبائی آمدن میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں پٹواریوں کو صوبائی وزیر مال اور اینٹی کرپشن کیساتھ معا ملات طے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی مگر اس کے باوجود حکومتی سطح پرمسئلہ کا حل تلاش نہ کیا جانا تساہل کا مظاہرہ ہے۔ واضح رہے کہ اینٹی کرپشن اور پٹواریوںکے درمیان نوشہرہ میں ہونیوالے تنازعہ پر ہڑتال پشاور سمیت صوبے بھر میںجاری ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا پٹواریوں کے دبائو میں آنا اور بدعنوان عناصر کے خلاف موقع پر کارروائی کے عمل کے باوجود اگر ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ ہو تو بدعنوان عناصر کوشہ ملے گی اور وہ بدعنوانی کے ارتکاب میں خوف محسوس نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں