Daily Mashriq

بھارتی طیاروںکی دوبارہ دراندازی

بھارتی طیاروںکی دوبارہ دراندازی

بھارت نے ایک فضائی حملے کی ناکامی کے بعد دوسرا حملہ کیا‘ اس میں اسے محض فوجی ناکامی نہیں ہوئی بلکہ فوجی قیمت ادا کرنے کیساتھ ساتھ سیاسی ذلت اور سفارتی سبکی بھی اٹھانی پڑی ہے۔ بھارت کا ایک حملہ آور جنگی طیارہ پاکستان فضائیہ نے گرا دیا اور اس کے دو پائلٹ گرفتار کر لئے۔ دوسرا طیارہ مضروب ہو کر بھارت علاقہ میں فرار ہوا جو بھارت میں کہیں گر گیا ہوگا۔ فوجی قیمت دو طیاروں کی تباہی اور دو پائلٹوں کی گرفتاری کی صورت میں بھارت نے ادا کی۔ سیاسی قیمت بھارت کی حکومت کو یہ ادا کرنی پڑی کہ گزشتہ روز کی ناکام فضائی کارروائی پر جو شادیانے بجائے جا رہے تھے، جو ساڑھے تین سو زیرتربیت ’’آتنک وادیوں‘‘ اور انہیں تربیت دینے والوں کی ہلاکت کے دعوے کئے جا رہے تھے، جو مودی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے وہ اگلے ہی دن مسمار ہو گئے۔ بھارت کے جنگی طیاروں کے پائلٹوں کی گرفتاری نے بھارت کیلئے کلبھوشن یادیو کے بعد ایک بار پھر دنیا بھر میں سبکی کا سامان پیدا کر دیا ہے کہ اب جہاں بھی وہ پاکستان کیخلاف شکایت لیکر جائیں پہلے سے ان کے پائلٹوں اور ان کے تباہ شدہ طیارے کی تصاویر موجود ہوں گی۔ بھارت کی حکومت میں اگر سبق سیکھنے کا حوصلہ ہو تو یہی کافی ہونا چاہئے۔ یہ بھارتی طیاروں کی دراندازی کا پاکستانی جواب نہیں جس کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ جواب کیلئے وقت اور مقام کا انتخاب خود پاکستان کریگا اور اس سے پہلے بھارت کی جارحانہ فطرت کو دنیا پر آشکار کریں گے۔ بھارت نے انتظار نہیں کیا اور اگلے ہی دن دنیا پر اپنی جارحانہ فطرت آشکار کرنے کیلئے مزید جنگی طیارے پاکستان کی طرف روانہ کر دئیے۔ پاک فضائیہ نے دو کو ہدف بنایا جن میں سے ایک زخم کھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور دوسرا پاکستان کے زیرِکنٹرول علاقے ہی میں ڈھیر ہوگیا۔پاک فوج کے ترجمان نے حالیہ دنوں میں پہلی دراندازی کے بعد بھارت کے ساڑھے تین سو ہلاکتوں کے دعوے کے بارے میں کہا تھا کہ بھارتی سیاسی لیڈر اور میڈیا خود آ کر دیکھ لے کہ ان کا دعویٰ کس قدر سچا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر دس لوگ بھی مارے گئے ہوتے تو کہیں ان کی میتیں ہوتیں‘ کہیں خون کے دھبے ہوتے‘ کسی عمارت کو نقصان پہنچنے کے آثارہوتے۔ بھارتی میڈیا نے رات کے وقت طیاروں کے اُڑان بھرنے کی ویڈیوز دکھائیں جو کہیں کی بھی ہو سکتی ہیں۔ پاک فضائیہ نے دراندازوں کیخلاف کارروائی کے دوران یہ احتیاط بھی ملحوظ رکھی ہے کہ درانداز طیاروںکو ایسی جگہ ضرب نہ لگائی جائے جہاں سویلین آبادی کا جانی یا مالی نقصان ہو۔ بھارتی طیارے کی باقیات اب بھی پاکستان کے زیرکنٹرول علاقے میں پڑی ہیں۔ بھارتی میڈیا‘ سیاسی رہنما اور عالمی میڈیا آکر دیکھ سکتا ہے۔ برسرزمین دیکھے بغیر جو کچھ نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ (ا)۔ پاک فضائیہ نے تمام درانداز طیاروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ (۲)۔ ایسی جگہ مڈبھیڑ نہیں کی جہاں سویلین آبادی کا نقصان ہو سکتا۔ (۳) پاک فضائیہ نے فرار ہونیوالے طیاروں کا تعاقب نہیںکیا اور بھارت کے زیرکنٹرول علاقے میں درانداز طیاروںکو سزا دینے سے اجتناب کیا۔ اس دفاعی کارروائی کا واضح مقصد اور پیغام یہ تھا کہ پاکستان کے پاس دفاع کی اہلیت اور صلاحیت موجود ہے۔ اس بارے میں غلط فہمی نہیںہونی چاہئے۔ پاکستان بھارت کی طرف سے پیدا کردہ حالیہ کشیدگی کی لہر کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتا۔ پاکستان انسانی جانوں کا اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتا ہے اسی لئے سویلین آبادی کے نزدیک مقابلہ آرائی نہیںکی گئی اور گرفتار بھارتی پائلٹوں کو بین الاقوامی کنوینشنز کے مطابق احترام سے رکھا گیا ہے اور علاج کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ لہٰذا بھارت کیلئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ کسی ایڈونچر کی طرف مائل ہونے کی بجائے پرامن طور پر تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے طے کرے۔ پلوامہ واقعہ جس کو بنیاد بنا کر بھارت نے اپنے عام انتخابات کے نزدیک پاکستان مخالف ہسٹیریا کو ہوا دینے کی اور کشمیریوں پر مزید انسانیت سوز مظالم ڈھانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ خالصتاً مظلوم کشمیریوں کا ردِعمل ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی یہ پیشکش موجود ہے کہ بھارتی حکومت قابلِ عمل ثبوت پیش کرے تو پاکستان فوری کارروائی کریگا لیکن بھارت اس طرف نہیں آنا چاہتا ۔ اس کیلئے تحقیقات کرنی پڑتی ہیں جن کے نتیجے میں گزشتہ تین سال سے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ بہیمانہ نوعیت میں شدت سامنے آتی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے واضح پیغام دیا ہے کہ درانداز جنگی طیاروں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے ایک طیارے کو گرا کر پاک فوج نے محض یہ پیغام دیا ہے کہ اس کے پاس ملک کے دفاع کی صلاحیت‘ اہلیت‘ تیزتر ردعمل کی استعداد اور تجربہ موجود ہے اس معاملہ میں جو احتیاطیں برتی گئی ہیں کہ سویلین آبادی کو نقصان نہ پہنچے‘ بھارت کے زیرِکنٹرول علاقے میں تعاقب نہ کیا جائے وہ پاکستان کی امن پسندی اور جنگ سے اجتناب کی دلیل ہیں۔ بھارت کے حکمرانوںکو ان حقائق پر غور کرنا چاہئے اور وزیراعظم عمران خان کی اس یاددہانی پر بھی کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے اسے روکنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس صلاحیت اور استعداد کے مظاہرے کے بعد بھارتی حکمرانوں کو جھوٹ پر کھڑی کی گئی پاکستان کیخلاف پراپیگنڈا مہم سے باز آجانا چاہئے۔ یہ جھوٹ چند دن میں کھل جائے گا۔ اس کی آڑ میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم میں جو شدت پیدا کی گئی ہے وہ بھی بین الاقوامی کمیونٹی پر واضح ہو جائے گی اور بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے انتخابات میںکامیابی کے امکان کہیں زیادہ کم ہوجائیں گے۔ اسلئے بہتر ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کا مشورہ مان لیا جائے اور کشیدگی کو بڑھانے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کی طرف قدم بڑھایا جائے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’’آپ ایک قدم بڑھائیں‘ ہم دو قدم بڑھائیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں