Daily Mashriq

پاپو لیشن کونسل اور اس کے اہداف

پاپو لیشن کونسل اور اس کے اہداف

اس بات کی گونج اب شہروں سے نکل کر دیہاتوں میں بھی سنائی دے رہی ہے کہ اگر ہم نے آبادی کے ٹائم بم کے بارے میں اب بھی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا تو چند عشروں بعد یہ بھی پاکستان کے گمبھیر مسائل میں سے ایک ہوگا۔ ویسے تو 1960ء کے عشرے سے اس حوالے سے بات شروع ہوگئی تھی کیونکہ مشرقی پاکستان میں بنگالی بھائیوں کی آبادی جس تناسب سے بڑھ رہی تھی پھراسی تناسب سے اقتدار و وسائل میں حصہ بھی مانگ رہے تھے جبکہ مغربی پاکستان کے مقتدر طبقات میں اس حوالے سے کبھی کوئی با معنی مکالمہ ان کے اطمینان کے مطابق نہ بڑھ سکا نتیجہ سب کے سامنے ہے اور اس کے بعد ہماری آبادی جس تیز رفتاری کے ساتھ بڑھی وہ ایک ریکارڈ ہے اور آج میرے خیال میں بنگلہ دیش کی آبادی جو 1971ء سے پہلے آج کے پاکستان کے چاروں صوبوں کی آبادی سے زیادہ تھی‘ پاکستان سے کم ہے‘ کیونکہ انہوں نے بہت جلد یہ محسوس کرلیا کہ اگر آبادی کے بارے میں سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی نہ کی گئی توپھر بنگلہ دیش سر زمین پر رہنے کی معقول جگہیں بہت کم ہوں گی۔

جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ آج 2019ء میں بھی ہمیں صحیح معنوں میں نہ حکومت کو احساس ہوا اورنہ عوام کو‘ اور اس کا نتیجہ یہی ہے کہ پاکستان بہت جلد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں ملک ہوگا۔ لیکن سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے اس اہم مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے اس کے لئے ایک کونسل تشکیل دی جو پاپولیشن کونسل کے نام سے اس وقت کام کر رہی ہے۔ اس کونسل کے لئے سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار کو چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے اور وہ چاروں صوبوں کے محکمہ بہبود آبادی کے ساتھ کوآرڈینیشن کرتے ہوئے شہروں سے دیہات تک شادی شدہ لوگوں بالخصوص شادی کے بندھن میں نئے نئے بندھنے والے جوڑوں کو یہ پیغام پہنچائیں گے کہ اپنے مستقبل کے گھرانے کے بارے میں اپنے وسائل‘ اپنی صحت اور بچوں کی تعلیم و تربیت کی صلاحیت اور استعداد کو دیکھتے اور جانچتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا ہدف دل میں رکھ لیں تو آپ کا گھرانہ سکھی رہنے کے علاوہ پاکستان کی خوشحالی میں بھی آپ کا ایک کردار ہوگا۔

اس حوالے سے پشاور میں ایک ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں جاوید جبار‘ پختونخوا کے سیکرٹری محکمہ ویلفیئر پاپولیشن اصغر علی‘ ڈائریکٹر نبی خان اور اسلام آباد سے مہمانوں کے علاوہ پختونخوا میں یواین کے آبادی کے حوالے سے نمائندے ڈاکٹر رفیق کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے ایم پی ایز اور مذہبی سکالر روح اللہ مدنی وغیرہ شریک ہوئے۔

اس ورکشاپ میں پاکستان اور بالخصوص پختونخوا کی آبادی 1960ء کے عشرے سے آج تک کیا رہی اس کے حوالے سے جو رپورٹ پیش ہوئی وہ اس لحاظ سے خطرے کی گھنٹی تھی کہ پختونخوا آبادی میں اضافے کی شرح کے حوالے سے پنجاب اور سندھ کو کراس کر رہا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ اگر ہماری آبادی اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو پورے پاکستان پر دبائو کے علاوہ ہمارے اپنے صوبے کے وسائل پر سخت دبائو ہوگا اور یہ بات تو شاید ہر پختون جانتا ہے کہ ہم پنجاب سے آئی گندم کا آٹا ہی کھاتے ہیں۔

آبادی میں اضافے کے سبب تین شعبے بری طرح متاثر ہیں۔ سب سے پہلے صحت کا مسئلہ ہے۔ پختونخوا کی دیہی آبادی کو چھوڑ کر شہروں کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال ان کی کفالت و کفایت کرنے سے قاصر ہیں۔ پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں 2بجے تک تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ دوسرا مسئلہ تعلیم کا ہے‘ پختونخوا کے دیہاتوں اور شہروں میں لاکھوں بچے حکومت کی سرتوڑ کوشش کے باوجود سکولوں میں داخلہ پانے سے محروم ہیں۔

تیسرا اہم مسئلہ خوراک ہے‘ بچوں کو بچپن سے لے کر لڑکپن تک کی عمر میں اس کی ذہنی و جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے صحیح اور کافی خوراک دستیاب نہیں۔ نتیجتاً پاکستان میں چھوٹے سروں اور چھوٹے و درمیانہ سائز کے دماغ و عقل کے لوگوں کی بھیڑ واژدہام تو بن رہی ہے لیکن کام و ہنر اور پگڑی و دستار کے افراد پیدا ہونا بند ہوگئے ہیں۔ خوشحال بابا نے تو اس زمانے میں فرمایا تھا

چہ دستار تڑی بے شمار دی

خو د دستار سڑی پہ شمار دی

اس بات میں اب کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ آبادی کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر غور و خوض کیا جائے۔ لیکن یہاں اس بات کا ذکر بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کام ایل ایچ ویز اوراین جی اوز کی فیشن زدہ خواتین کے ذریعے جز وقتی طورپر ہونے کا نہیں۔ اس کے لئے با صلاحیت شعبہ طب سے منسلک مستند ڈاکٹرز اور عملہ کے علاوہ ایسے مذہبی سکالروں کی بھی ضرورت ہوگی جو اپنے نیم خواندہ افراد کی نفسیات کے مطابق دینی تعلیمات کی وقت کے تقاضوں اور ضرورت کے مطابق تشریح و تعبیر کرسکیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے‘ آبادی میں اضافے کا ایک سبب بہر حال اپنے مذہبی عقائد ہیں جن کی بنیاد عام طور پر اپنی ہی تشریح و تعبیر پر ہوتی ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پختونخوا کے دیہات اور شہروں میں بیک وقت حجروں اور مساجد سے لے کر سکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی مہم کے ذریعے اس اہم مسئلے سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔

متعلقہ خبریں