Daily Mashriq

سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن یہ بھاگتا بڑا تیز ہے شاید اس لئے کہ سچ ہاتھ میں لٹھ لئے اس کے پیچھے دوڑ رہا ہوتا ہے اور اس وقت تک دوڑتا رہتا ہے جب تک اس کے ڈھول کا پول نہیں کھل جاتا۔

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو

یہ آفاقی سچ ہر دور میں بھارتی سینا کے سر چڑھ کر بولا جب اس نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام پر گولیوں کی بوچھاڑ کی ان کی عزات کو تاراج کیا ، ان سے ان کی آزادی کا پیدائشی حق چھین کر ان کی سچائی کو اپنے جھوٹ سے دبایا ان کے گرم خون سے ہولی کھیلی ان سے حق رائے دہی کا وعدہ کرکے وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو کا سنگدلا نہ اور دل خراش رویہ اپنائے رکھا۔ گولی اور لاٹھی کے زور سے ان کے دل کی دھڑکنوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن ان کے گرم خون کی ایک ایک بوند سے لیکر رہیں گے آزادی کا دلخراش نعرہ پھوٹتا رہا۔ بھارتی سامراج مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا رہا لیکن کشمیریوں کے دل میں ہر لحظہ جوان رہنے والی آزادی اور صرف آزادی کی تڑپ کو دبا نہ سکا۔ آزماتے رہو تم اپنی گولیوں کی بوچھاڑ کو ، آزماتے رہیں گے ہم اپنے سینوں میں بھڑکتے آزادی آزادی اور صرف آزادی کے آتش فشاں کو،

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

اور جب یہ خون انتقام کی آگ کے شعلوں کی شکل اختیار کرتا ہے تو جانے کتنے ستم ایجاد طاغوتیوں کو بھسم کرکے رکھ دیتا ہے۔ یہی کچھ ہوا مقبوضہ کشمیرکے پلواما میں۔ بھسم کرکے رکھ دیا ظلم و بربریت کے پیکروں کو ۔ کشمیر جنت نظیر میں آزادی کا بول بالا دیکھنے والے مجاہدوں نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی کوکشمیر کے ضلع پلواما میں سری نگر قومی شاہراہ پر محو سفر بھارتی فوج کے کارواں سے ٹکرادی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انتقام کے ان شعلوں نے بھسم کرکے قطار اندر قطار گزرتے کاروان جو جبر کے ہر فرد کو ۔اس حملہ کی ذمہ دار جیش محمد نے قبول کرلی ، بھارت میں رہنے والے باخبر ذرائع اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پلواما میں ہونے والے اس خوفناک حملہ کے متعلق بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے چار روز پہلے ہی مودی سرکار اور اس کے پٹھوئوں کو آگاہ کردیا تھا۔ لیکن ان سب کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور رینگتی بھی کیسے جب کہ تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق وہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خود ہی کروا رہے تھے ۔ یہ اس کی بوکھلاہٹ نہیں تھی اور کیا تھا جو اس نے بلا سوچے سمجھے اس جرم ناکردہ کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کرنقارہ جنگ جیسی گیدڑ بھبکیاں دینے لگا۔ جس کے جواب میں پاکستان کا ہر بوڑھا جوان اور بچہ پکار اٹھا کہ ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں بھارت کی ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے ۔ اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہم سوچیں گے نہیں جنگ کریں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کی طرف سے یہ کرارا جواب بھارت کے کھوسٹ پردھان منتری کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لئے کافی تھا۔ جس کے پیش نظر اس کے لب و لہجے میں وقتی طور پر ٹھہراؤ پیدا ہو نے لگا ، وہ اس حوالہ سے قدرے محتاط رویہ اختیار کرنے لگا مگر وہ جو کہتے ہیں چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔ اس نے اپنے کرتوتوں کی کالک چھپانے کی خاطر اس جرم ناکردہ کی سزا پاکستان کو دینے کی ٹھانی اورشمشان گھاٹ پہنچنے والے چھیالیس سورمائوں کا بدلہ لینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرکے سبز پوش بالا کوٹ کے چند درختوں کو نشانہ بنا کر بزعم خود ان گیدڑ بھبکیوں پر عمل کرنے کی کوشش کی جو پہلے پہل ان کے پردھان منتری کے منہ سے نکلی تھیں ۔ پاک فضائیہ انہیں کبھی بھی زندہ سلامت واپس نہ لوٹنے دیتیں اگر وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نہ کھڑے ہوتے ۔ لگتا ہے مرزا محمود سرحدی نے یہ شعر مودی جیسے جھوٹے شخص کے لئے کہا تھا کہ

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

سچ کہہ کر کون دار پر لٹکے

افواج پاکستان کے جری ترجمان کے مطابق اگر بھارتی طیاروں نے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کرکے جیش محمد کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہوتی تو وہاں سے کسی شہید کی لاش ملتی ۔ وہ پاکستان کی سرحدوں کو مقبوضہ کشمیر سمجھ کر داخل ہوئے ۔ اور انتہائی بزدلی کا مظاہر کرتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے ۔اس جھوٹ کی طرح جس کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن وہ اپنے پیچھے دوڑنے والے سچ کے خوف سے اندھا دھند بھاگتا ہے، آخری خبریں آنے تک پاک وطن کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کے جنگی جنون کے نزلہ اور زکام کے علاج کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور شکست خوردہ جنونی کے دماغ کے خناس کو مار بھگانے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے ،

ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں

ہم سب کا ہے ایمان پاکستان پاکستان

ہم جنگ پر امن اور سکون کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ہماری افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بھی خوب جانتی ہیں ، جسکی سچی گواہیاں پیش کرنے کے لئے نیلی چادر والا فلک پیر موجود ہے ، جسے ہم پکار پکار کر کہتے رہتے ہیں

باطل سے دبنے والے ، اے آسماں نہیں ہم

سو بار کرچکا ہے تو امتحان ہمارا

متعلقہ خبریں