Daily Mashriq

پاکستان اور بھارت کا دفاعی موازنہ

پاکستان اور بھارت کا دفاعی موازنہ

رات کے اندھیرے میں بھارت کے جنگی ہوائی جہازوں نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر پاکستان کے ایک دیہات میں بم گرائے۔ جب پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں نے پیچھا کیا تو بھارتی جنگی جہاز خالی جگہوں پر بمباری کرکے بھاگ گئے۔ اس حملے میں بھارت ہلاکتوں کی تعداد 360بتاتا ہے جبکہ دوسری طرف برطانیہ، امریکہ، روس اور دیگر کئی ممالک کے غیرجانبدار مبصرین اور نیوز ایجنسیوں نے بھارت کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ اگر اس سرجیکل سٹرائیک میں لوگ مر گئے تھے تو ان کی لاشیں کدھر گئیں۔ وزیراعظم عمران خان اور فوج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بھارت کو خبردار کیا کہ بہت جلدی اس کا بدلہ لیں گے۔ اگر حالات اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ اگر بین الاقوامی برادری صلح میں کامیاب نہ ہوئی تو ایسا لگتا ہے کہ محدود پیمانے پر دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ ہوگی۔ اگر حالات اور واقعات کا مزید تجزیہ کیا جائے تو بھارت کی مسلح افواج اور جنگی ہتھیار پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مثلاً پاکستان کی حاضر سروس مسلح افواج کی تعداد 6لاکھ 54ہزار جبکہ بھارت کی حاضر سروس مسلح افواج کی تعداد13لا کھ 63ہزار ہے جبکہ پاکستان کے ریزرو یعنی ریٹائرڈ فوجیوں کی تعداد 5 لاکھ13ہزار اور بھارت کی 29لاکھ کے قریب ہے۔ اسی طرح پاکستان کے پاس ٹینکوں کی تعداد 2182 جبکہ بھارت کے پاس ٹینکوں کی تعداد 4425 ہے۔ اسی طرح پاکستان کے پاس جنگی ہوائی جہازوں کی تعداد 1281جبکہ بھارت کے پاس جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی تعداد 2185ہے۔ اسی طرح پاکستان نیوی کے پاس بحری انسٹالیشن یعنی بحری جہاز اور دوسری کئی چیزیں197جبکہ بھارت کے پاس 295 ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس جوہری بم 120 یا 130 کے قریب ہیں جبکہ بھارت کے پاس جوہری بموں کی تعداد 105 یا 110ہے۔ اگر ہم غور کریں تو بھارت کی دفاعی طاقت پاکستان سے تین گنا زیادہ ہے۔ بھارت اپنے دفاع پر 70ارب ڈالر جبکہ پاکستان دفاع پر 10ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے مگر اس کے باوجود بھارت پاکستان سے خوفزدہ ہے۔ آج میں سوشل میڈیا والیکٹرانک میڈیا کے کچھ چینلز ملاحظہ کررہا تھا تو ان تمام چینلز کے اینکرز اور ان میں مدعو شرکاء کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ بھارتی قیادت پاکستان سے خوفزدہ ہے۔ ان میں اکثر یہ بھی کہہ رہے تھے کہ مودی سرکار یہ سب کچھ الیکشن جیتنے کیلئے کر رہی ہے۔ بعض نے کہا کہ مسلمان تو جنگ میں مارے گئے تو شہید کہلائیں گے اور اگر ہم جنگ میں مر گئے تو ہم تو کچھ بھی نہیں۔ بھارتیوں کی باڈی لینگویج سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ خوفزدہ ہیں اور کسی صورت جنگ کیلئے تیار نہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی نہ صرف مسلح افواج کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ خود اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر بھارت کیخلاف جنگ کیلئے ہماری ضرورت پڑی تو جہاد بھی کریں گے اور اللہ سے شہادت کی بھی دعا مانگیں گے۔ جنگ اور لڑائی لڑنا اچھی بات نہیں کیونکہ جنگ اور لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارت ہر صورت جنگ سے باز نہیں آرہا اور حالیہ سانحے کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے۔ جہاں تک نریندر مودی کی پوزیشن ہے وہ بھارت میں اچھی نہیں، لہٰذا مودی اسی کوشش میں ہے کہ پاکستان کیساتھ محدود پیمانے پر جنگ لڑی جائے اور اس میں کامیابی حاصل کی جائے تاکہ بھارت کے آئندہ عام انتخابات میں مودی سرکار الیکشن جیت سکیں۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت کی مسلح افواج کی تعداد اور ان کے پاس آلات حرب زیادہ ہے مگر میں ان نادان دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جنگ انسانوں کی تعداد اور آلات حرب کے زیادہ مقدار میں ہونے سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ جنگ جذبے سے لڑی اور جیتی جاتی ہے۔ حضورﷺ کے 28غزوات ہمارے سامنے ہیں جن میں چند صحابی کرامؓ نے ہزاروں کافروں کیخلاف جہاد کیا اور اللہ کے فضل وکرم سے سرخرو ہوئے۔ موجودہ دور میں افغانستان کے مجاہدین کی روس اور امریکہ کیساتھ جہاد کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جس میں چند ہزار افغان مجاہدین کس طرح 28ممالک کی نیٹو فورسز کیساتھ نبردآزما رہے اور دونوں کو شکست سے دوچار کیا۔ وہ دن گئے جب طاقت کے بل بوتے پر دوسری اقوام کو ہرایا اور زیر کیا جاتا تھا۔ قومیں جنگ جذبے سے لڑتی ہیں اور یہ جذبہ 21کروڑ پاکستانیوں میں پایا جاتا ہے۔ یقین کریں ہر پاکستانی مسلح افواج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ ان کو شہادت نصیب ہو۔ اس وقت قوم حالت جنگ میں ہے اور ان میں انتہائی جوش اور جذبہ پایا جاتا ہے۔ میں یہاں ہٹلر کی اس بات کو دہراؤں گا کہ جنگیں جذبے سے جیتی جا سکتی ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر نے کیا خوب کہا ہے کہ یہ لازمی نہیں جو زیادہ طاقتور ہو وہ زیادہ ہوشیار اور سیانا بھی ہو۔ میں یہاں شاہ محمود قریشی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اسلامی کانفرنس تنظیم میں بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج کو مدعو کرنے پر احتجاج کیا اور کہا کہ ہمیں بھارتی وزیر خارجہ کی شرکت کسی طور گوارا نہیں۔

متعلقہ خبریں