Daily Mashriq

پشاور کی پریس مارکیٹ مسائل کاشکار، تاجرکاروبار چھوڑنے پر مجبور

پشاور کی پریس مارکیٹ مسائل کاشکار، تاجرکاروبار چھوڑنے پر مجبور

پشاور(کاشف الدین سید ) پشاور کی پریس مارکیٹ بھی مختلف مسائل سے دوچار ہے اور پرنٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کاروبار چھوڑ نے پر مجبور ہیں اس شعبے میں کام کرنیوالے ہنرمند اور محنت کش بھی اپنے مستقبل سے مایوس ہیں جبکہ پریس مالکان پریس مشینیں اور دیگر متعلقہ آلات اونے پونے بیچ کر دوسرے شعبوں میں سرمایہ کر رہے ہیں۔ مشرق ٹی وی کے خصوصی پروگرام ''مشرق فورم'' میں اظہار خیال کرتے ہوئے پریس مارکیٹ کے تاجروں نے مسائل کے انبار لگا دیئے ان کا کہنا تھاکہ اس کاروبار کا کوئی والی وارث نہیں کوئی بھی سرکاری ادارہ یامحکمہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے پرنٹرز اور پبلشرز کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ بند نہ کیا تو وہ وزیراعلٰی ہائوس کا گھیرائو کریں گے ،پرنٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ظفرخٹک نے فورم میں بتایا کہ پشاور پریس مارکیٹ میں 12ہزار سے زائد محنت کش مختلف شعبوں میں کام کرکے باعزت روزگار کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں لیکن اب صورتحال یہ ہے یہ مارکیٹ سکڑتی جارہی ہے سب سے بڑی زیادتی صوبائی حکومت نے کی ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذریعے نصابی کتب کی چھپائی کا کام مقامی مارکیٹ سے کرانے کے بجائے لاہور منتقل کردیا اور یہاں کے چھوٹے پرنٹرز کو زرضمانت اور دیگر قواعدکا پابند بنا کر پنجاب کے بڑے سرمایہ کاروں اور پبلشرز کے ساتھ مسابقت اور مقابلے میں ڈال کر مقامی پرنٹرز کو امتحان سے دوچار کردیا ہے اسی طرح پرنٹرز کی محکمہ اطلاعات کے ساتھ اندراج اور ڈیکلریشن کے باوجود سرکاری دستاویزات کی چھپائی میں جنرل آرڈرز سپلائیرز کو بھی ٹینڈرز میں موقع دیا جارہا ہے جو رجسٹرڈ پرنٹرز اور پبلیکیشنز کے شعبے سے وابستہ افراد کے ساتھ زیادتی ہے ایسوسی ایشن کے چیئرمین اعظم آرائیں نے فورم میں بتایا کہ پشاور کا قصہ خوانی بازار محلہ جھنگی ڈھکی نعلبدی اور بابو حیدر روڈ نہ صرف چھپائی کا بڑا مرکز ہیں بلکہ کتابوں اور بالخصوص دینی کتب کے کاروبار اور چھپائی کے لئے بھی مشہور ہیں یہاں سے قرآن پاک،احادیث مبارکہ، فقہ اور درس نظامی کے نصاب میں شامل تمام کتب نہ صرف خیبر پختونخوا قبائلی علاقوں اور بلوچستان سپلائی کی جاتی ہیں بلکہ افغانستان اور وسط ایشیا کے ممالک میں بھی دینی کتب کی ترسیل یہاں سے کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے اسکی سرپرستی کے لئے کوئی بھی تیار نہیں انہوں نے کہا ٹیکسٹ بک بورڈ اور دیگر سرکاری اداروں کے مسودات کی چھپائی کے لئے محکمہ اطلاعات کیپرا اور ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ مقامی فرم کو کام کا موقع دیاجائے تاکہ مقامی صنعت فروغ پانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے ہنرمندوں کو روزگار میسر ہو انہوں نے کہا کہ محلہ جھنگی اور ملحقہ بازاروں میں پارکنگ کا بھی بڑا مسئلہ درپیش ہے اس حوالے سے کئی بار مقامی پولیس اور ٹریفک حکام سے بات کی گئی لیکن وہ یہ ذمہ داری نبھانے کو تیار ہیں نہ مقامی مارکیٹ انتظامیہ کو سکیورٹی فراہم کررہے ہیں ،مقامی پرنٹرز انعام خان نے کہا کہ سرکاری چھپائی لاہور منتقل ہونے کے بعد یہاں کے پریس مالکان نے کروڑوں کی مشینری اونے پونے داموں بیچ دی ہے جس کی وجہ یہاں کام کرنے والے پریس مشین مین کمپیوٹر آپریٹرز ڈیزائنرز بلکہ بک بائنڈرز بھی بیروزگار ہورہے ہیں انہوں نے کہا افغانستان کے مختلف بڑے شہروں سے چھپائی کے لئے لوگ اسی مارکیٹ کا رخ کرتے تھے مگر اب بارڈر کے دونوں جانب سکیورٹی معاملات اور امیگریشن کی بے جا پابندیوں کے باعث افغانیوں نے بھی دوسرے علاقوں کا رخ کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ مقامی پرنٹنگ کے کاروبار کو اگر حکومت صنعت سمجھتی ہے تو اس کی فروغ اور تحفظ کے لئے اقدامات کرے مقامی تاجر محمد سلیم نے بتایا کہ پریس مارکیٹ کے تاجروں اور پرنٹرز کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ انڈسٹریل زون حیات آباد یا رنگ روڈ مستقل پرنٹنگ زون قائم کیا جائے جہاں پرنٹرز اور پبلشرز کو پرنٹنگ پریس لگانے کے لئے جگہ دی جائے اور انہیں مناسب سہولیات بھی فراہم کی جائیں ۔

متعلقہ خبریں