جمہوریت کی بد نامی کا باعث بننے والی حرکات !

جمہوریت کی بد نامی کا باعث بننے والی حرکات !

ایک ہی روز قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی گالم گلوچ کی افسوسناک صورتحال اور خیبر پختونخوا میں بھی اس سے ملتا جلتا طرز عمل مستزاد چند روز قبل سندھ اسمبلی میں ایک صوبائی وزیر کی خاتون رکن اسمبلی سے نازیبا گفتگو جیسے واقعات ہمارے منتخب عوامی نمائندوں کی اخلاقی حیثیت اور برداشت و تحمل کے مادے کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ دنیا کی دیگر پارلیمنٹوںمیں بھی کبھی کبھار کچھ اس قسم کے مناظر ضرورملتے ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری نظام میں ایوان کے اندر اس قسم کے واقعات کی گنجائش کی تاویل بھی دی جاتی ہے جو جمہوریت اورجمہوری اقدار کو بد نام کرنے کے مترادف ہے۔ جمہوریت میں اختلا ف رائے سلیقہ کے ساتھ اور مخالفین کی بات کو تحمل اور برداشت سے سنا جاتا ہے۔ یہاں گالیاں نازیبا اشارے اورجاہلوں کی طرح ایک دوسرے پر لپکنے اور نوچنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا جو من حیث القوم ہمارے لئے شرمندگی اور خجالت کا باعث ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں سیاست میں برداشت کا عنصر عنقا ہو چکا ہے اور معاملات کو نہ تو سیاسی طور پر نمٹا نے پر اکتفا پایا جاتا ہے اور نہ ہی تنا زعات اور الزامات پر عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جاتا ہے ۔ پانا مہ پیپر ز بارے سپریم کورٹ میں تو عدالت لگتی ہے لیکن اس کے باہر اور میڈیا پر اگر دشنام طرازی سے طرفین اجتناب کرتے تو کشید گی میں اتنا اضافہ نہ ہوتا ۔ اس ضمن میں عدالت کی جانب سے بھی خاموشی اختیار کی گئی فاضل جج صاحبان اگر فریقین کے وکلاء کو عدالت میں زیر سماعت مقدمے پر عوامی سطح اور میڈیا پر اپنے موکلین اور ان کی جماعت کے بھو نپوئو ں کو بات کرنے سے رکوانے کی ہدایت کرتے تو کیس عدالت ہی میں چلتا اور عوام کو ہر دو جانب سے جھانسہ دے کر مخمصے کا شکار نہ بنایا جاتا۔ بہر حال یہ قابل احترام عدالت ہی کی صوابدید پرمو قوف ہے کہ اس نے اس طرح کی ہدایت جاری کرنے یا مشورہ دینے کو مناسب نہ جانا ۔ افسو سناک امر یہ ہے کہ ایک جانب عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اور معاملات بڑی حد تک ایک ڈگر لے چکے تھے کہ دوسری جانب پارلیمنٹ میں اس کا باب کھو لا گیا ،پارلیمنٹ میں اگر اس کا فیصلہ ممکن تھا اور وہاں تسلی و تشفی کے امکا نات تھے تو معاملے کو عدالت لے جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر معاملے کو عدالت لے جایا ہی گیا تو اسمبلی میں اس پر گفتگو کیلئے اس پر فیصلہ آنے کا انتظار کیا جاتا۔ ہمارے تئیں اس ضمن میں جانبین کی طرف سے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے دونوں ہی کی طرف کا رویہ نامناسب ہے اگر ایک فریق کی جانب سے کسی پیش دستی پر فریق دوم معاملات عدالت میں ہونے کا مئو قف اپنا کر جوابی وار سے گریز کا مئو قف اختیار کرتا تو معاملات کشید گی کی طرف نہ بڑھتے، عدالت سے جو نتیجہ سامنے آئے گا بالآخر وقعت اسی کی ہوگی باقی سب بیکار کی افسا نہ طرازی اور الزامات کے پلندے ہیں۔ خواہ وہ جس جانب سے بھی لگائے جارہے ہیں یا جوابی اقدامات کئے جاتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں سوائے اس کے کہ میڈیا کا پیٹ بھرا جائے اور عوام کو سیاستدانوں سے مزید بیزار کیا جائے۔ ساری صورتحال کا ایک مثبت پہلو یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ عوام ان معاملات میں اپنی دانست کے مطابق بہر حال سیاسی عناصر کا اصل چہرہ بڑی حد تک دیکھ چکے ہیں ۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی ، خیبر پختونخوا اسمبلی اورچند روز قبل سندھ اسمبلی میں جو کچھ ہوا کم و بیش یہی اس ملک کے سیاستدانوں کا اصل چہرہ ہے۔ بلا شبہ معزز ایوانوں میں معزز اراکین اسمبلی بھی موجود ہیں مگر سیاسی نکتہ نظر سے اپنی اپنی جماعتوں کے جائز وناجائز چہرے پر پردہ ڈالنے اور دوسروں کا چہرہ نوچنے والے ہی چھا ئے رہتے ہیں۔ اب تو کرائے کے بھو نپو بھی با آسانی دستیاب ہیں جو اسمبلی اور عدالت سے باہرجبڑے کا زور صرف کر کے اپنے آقائو ں کی خوشنو دی سمیٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتے ۔ افسوسنا ک امریہ ہے کہ ان کو یہ موقع میڈیا بھی فراہم کرتا ہے بنا بر یں اس صورتحال میں میڈیا پر بھی برابر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے صحافتی دنیا کا اگر اس ضمن میں کردار مثبت ہوتا تو نصف مسئلہ تو بہر حال حل ہو چکا ہوتا ۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں عوام کی جو نمائند گی اور ترجمانی حالیہ دنوں میں کی گئی ہے اس پر سیاستدان شرمسار شاید نہ ہوں عوام کو ضرور شرمسا ہونا چاہیے کہ ان کا چنائو درست نہ تھا ۔ جس طرف معاملات کی سمت اس وقت ہے اسے بجا طور پر جمہوریت کی ضد اور جمہوریت کو نقصان پہنچا نے کی سوچی سمجھی یا جذبات اور نا دانستگی کے عالم میں کوشش قرار دینا غلط نہ ہوگا ۔ ہمارے منتخب نمائندوںکا قابل اعتراض کردار وعمل ان کی حرکات سکنات الفاظ تقریر یں احتجاج و معاملات عوام سے پوشیدہ نہیں اور عوام کا سنجیدہ طبقہ اس طرح کے معاملات کو پسند ید گی کی نگا ہ سے نہیں دیکھتا۔ اگر عوام میں شعور اور سنجید گی کی شرح میں بہتری آئے تو محولہ قسم کے عناصر کو انتخابات ہی کے مرحلے پر روکنا ممکن ہوگا ۔ سیاستدا نوں اور حکمرانوں کو اپنے اپنے کردار و عمل کا محاسبہ خود کرنا چاہیے اور ان کو سوچنا چاہیے کہ وہ قوم کو کیا تاثر دے رہے ہیں اور خود ان کے بارے میں عوام کی رائے کیا بن رہی ہے ۔

اداریہ