سی پیک کیخلاف سازش

سی پیک کیخلاف سازش

اگر چہ حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری روٹ کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کیلئے خصوصی حفاظتی فورس قائم کی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے بھی اس روٹ کو تحفظ دینے کے لئے خصوصی انتظامات کی بار بار یقین دہانی ملتی ہے لیکن بعض اوقات کچھ ایسی اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ اطمینان متزلزل ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ روز سی پیک روٹ کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے والی ڈیڑھ سو گاڑیوں کے پٹرول نہ ملنے پر گلگت میں کھڑی ہونے کی تصویر اور خبر باعث تشویش تھا جس کی وجہ فنڈ کی عدم فراہمی بتائی گئی۔ اگر چہ یہ معمولی نوعیت کی صورتحال لگتی ہے مگر اقتصادی روٹ جیسے حساس معاملے میں اتنی غفلت اور کو تاہی اس لئے بھی قابل برداشت نہیں کہ خود حکومت کی جانب سے بار بار اس اہم منصوبے کے خلاف را ء سمیت دیگر ممالک کی جانب سے سازشوں کی یا تو اطلاعات دی جاتی ہیں یاپھر اس کاقر آئن کی بنیاد پر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی طور سے تبدیلی کے حامل اس منصوبے کے خلاف ممکنہ سازشیں کیا کیا ہو سکتی ہیں۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی ، کلبھوشن نیٹ ورک کا پکڑا جانا کوئی راز کی بات نہیں۔ تازہ ترین اور تشویش کی بات یہ سامنے آئی ہے کہ گلگت بلتستان سے راء کے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں جو سی پیک کے منصوبے کو سبو تا ژ کرنے کی تا ک میں تھے ۔ ان سازشوں اور اس طرح کے عناصر کی ناپاک سازشوں کو بھانپنے اور بر وقت ناکام بنانے کی اولین ذمہ داری حساس اداروں پر عائد ہوتی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے عناصر کی چالو ں کو بروقت سمجھنا اور ان کو ناکام بنانے کی کامیاب سکیم بنا کر اس پر عملد ر آمد کر نے کے لئے جو تر بیت اور مہارت در کار ہے اس کی عام پولیس اور سیکورٹی پر مامور اداروں سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ سیکورٹی پر مامور اداروںکے ارکان کی تربیت موقع پر دشمن کا مقابلہ کر کے اس کو ناکام بنانا ہوتا ہے جبکہ غیر مرئی نوعیت کے امور کو بھانپ لینا اور ان کا توڑ کرنا حساس اداروں ہی کے ذمے کا کام ہے ۔ اس مقصد کے لئے یقینا اقدامات کیے گئے ہوں گے ۔ہمارے تئیں گلگت بلتستان کے محب وطن عوام کوبھی اگر اپنے اپنے علاقوں میں اجنبی عناصر اور جن پر شک گزرے اس بارے حساس اداروں اور پولیس کو بروقت اطلاع دینے پر متوجہ کیا جائے اور ان کے اعانت طلب کی جائے تو وہ بخل سے کام نہیں لیں گے۔ اس مقصد کے لئے علاقائی نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر حساس اداروں اور سیکورٹی پر مامور عملے میں بھرتی کیا جائے اور ان کی وساطت سے مقامی آبادی کی اعانت بھی حاصل کی جائے تا کہ ہر سطح پر علاقے میں سیکورٹی کی تہہ در تہہ انتظامات کئے جا سکیں اور چھپے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا یا جا سکے ۔توقع کی جانی چاہیے کہ اس ذمے ایسے یقینی اقدامات کیے جائیں گے جو باعث اطمینان ہوں ۔
ہر بڑا واقعہ داخل دفتر کیوں ؟
صرف سانحہ ڈھکی دالگراں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات کی تحقیقات میں پیشرفت حقیقی ملزمان اور ان کے منصوبہ سازوں تک رسائی اور اعانت کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں لاکر ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کر کے تسلی بخش طریقے سے ان کو سزا دلوانے میں پر ا سر اریت اور پورے اعتماد کے فقدان کے باعث عوام میں ان واقعات کے حوالے سے چہ میگوئیاں ہونا فطری امر ہے ۔ یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہر بڑے واقعے کے بعد چند عجلت پر مبنی اقدامات اور دعوئوں کے بعد پر اسرار سی خاموشی کیوں چھا جاتی ہے اور معاملے کو سرد خانے کی نذر کیوں کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس امر کا ادراک ضرور ہے کہ ہر واقعے کی تہہ تک نہ تو فوراً پہنچا جا سکتا ہے اور نہ ہی چشم زدن میں اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ مختلف اداروں کی کار کردگی اورکامیابیوں کابھی اعتراف نہ کرنا حقیقت پسند انہ امر نہ ہوگا۔ ہم معترض اس امر پر ہیں کہ واقعات کا کھوج لگانے اور ذمہ داروں تک پہنچنے کے لئے جو سعی پہم اور تسلسل سے کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے اس کی کمی عدم اعتماد کا باعث ہے۔ اگر ہم ڈھکی دالگراں کے سانحے ہی کو مثال بنا کر اس کاجائزہ لیں تو عوامی سطح پرا س ضمن میں کچھ ایسے حقائق ضرور سامنے آئے جن سے صرف نظر ممکن نہ تھا مگر جب تک ان عوامل کی تحقیق و تصدیق باقاعدہ تفتیش اور شواہد کی روشنی میں حالات و اقعات سامنے نہیں آتے تب تک سنی سنائی ان باتوں کی کوئی وقعت نہیں۔ ڈھکی دالگراں کے سانحے میں اعلیٰ پولیس افسران اور عوامی نمائندوں سمیت کئی افراد لقمہ اجل بنے مگرپولیس ہنو ز اس گتھی کو سلجھانہیں سکی اور یہ معاملہ سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے ممکن ہے داخل دفتر نہ ہوا ہو مگر عملی طور پر اسے داخل دفترہی قرار دیا جانا چاہیے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اور یہ معمول کیوں بن چکا ہے ۔ ہے کوئی جو اس سوال کاجواب دے ؟۔

اداریہ