Daily Mashriq


حیرت کدہ

حیرت کدہ

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آسمان تلے کوئی بنا چھاتا لئے کھڑا ہو لیکن پھر بھی نہ بھیگے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی خلا میں چلائے اور اس کی آواز دور تک سنائی دے ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گھپ اندھیری رات میں کسی روشنی کے بغیر کوئی نہایت آسانی سے اپنا راستہ تلاش کر لے اور اسے کسی کی بھی مدد کی ضرورت نہ ہو۔انہونیاں ہو جاتی ہیں لیکن ان انہونیوں کے ہو جانے کی بھی کئی وجوہات ضرور ہوتی ہیں۔کچھ راستے ایسے ضرور ہوتے ہیں جن سے انہونیوں کے ہو سکنے کے وسائل چل کر آتے ہیں ۔انہونیوں کے ہو سکنے کی ان وجوہات کے بارے میں سوچتے سوچتے دماغ شل ہونے لگا ہے۔کیونکہ ہمارے ملک میں چند انہونیاں ایسی ہو جاتی ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ بھلا ان کے ہو سکنے کے مواقع کیسے معرض وجود میں آ گئے ۔کونسی بات نے ان کے ہو جانے کا اذن دیا اور کس نے کب اس بات پر یقین کر لیا کہ ایسا کچھ ہو بھی سکتا ہے۔میں پریشان ہوں الجھن کا شکار ہوں کیونکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں کرپشن کم ہو گئی ہے جنوبی ایشیا ء میں چین اور پاکستان کرپشن کم کرنے میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ر ہے۔ٹرانپرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کرپشن کم کرنے کی درجہ بندی میں پاکستان 9 درجے کی بہتری کے ساتھ 116ویں نمبر پر آ گیا ہے۔یعنی پاکستان میں شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔شفافیت کے لحاظ سے پاکستان کو پہلے کی نسبت 32 پوائنٹس بہتر ملے ہیں ۔2012ء میں اس انڈیکس میں شامل 174 ممالک میں 139ویں نمبر پر تھا ۔یہ ایک ایسا کمال ہے جس کا سارا کریڈٹ حکومت وقت لے رہی ہے ۔اس کاسینہ تفاخر سے پھولا ہوا ہے ۔ اس کامیابی کا سہرا اس کے سر ہے ۔وہ درست کہتے ہیں ۔ یہ کامیابی، حیرت انگیزکامیابی ،ناقابل یقین کامیابی ایک ایسی حکومت ، ایک جمہوری حکومت جس کا سب سے بڑا عہدہ وزیراعظم کا عہدہ جن صاحب کے پاس ہے ان پر ان کے بچوں پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں بدعنوانی اور کرپشن کا مقدمہ چل رہا ہے۔پھر بھی یہ ملک کرپشن انڈیکس میں دنیا کو یہ ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کم ہو گئی ہے۔پاکستان میں اس وقت کئی شہروں میں میٹرو بس سروس موجود ہے۔حساب کتاب کے گوشوارے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں بننے والی میٹرو اس دنیا کے کسی بھی ملک میں بننے والی میٹرو کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی میٹرو ہے۔چین میں میٹرو پاکستان میں بننے والی میٹرو کے مقابلے میں سستی ہے۔یہان تک کے ترکی کی میٹرو جسے دنیا کی پر آسائش اور مہنگی ترین میٹرو تصور کیا جاتا تھا اس کی لاگت بھی پاکستان میں تعمیر ہونے والی میٹرو کے مقابلے میں کہیں کم ہے لیکن اس سب کے باوجود پاکستان میں کرپشن کم ہو رہی ہے۔یہ کمال بھلا اور کون کر سکتا ہے۔پاکستان میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تعمیر ہونے والی اورنج ٹرین کے لئے مشینری و آلات کی در آمدپر تمام ٹیکس معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ سننے میں یہ بھی آرہا ہے کہ یہ ایک ایسا کمال پراجیکٹ ہے جس کا پی سی ون ہی تیار نہیں ۔ اس کا پی سی ون پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ ہی تیار ہو رہا ہے ۔ جولوگ حکومت کے طریقہ کار سے واقفیت رکھتے ہیں یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ حکومتی پراجیکٹ کے آغاز سے پہلے اس کا پی سی ون تیا ر کیا جاتا ہے اور اسے اسکی مالیت کے حساب سے مختلف منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پاکستان میں کرپشن کم ہے شاید اسی لئے اورنج ٹرین کے پی سی ون کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔ پھر سوچتی ہوںکہ شاید یہ ہمارا کمال تھا کہ ہم نے لاہور میں عائشہ ممتاز کو ان کی تما م تر کرپشن سمیت پکڑلیا ۔ اور ایسی کرپشن دور کی کہ صوبائی اسمبلی تک میں اس حوالے سے بحث ہورہی ہے ۔ اس کرپشن کی دوری کے باعث ، ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کے سروے میں پاکستان کی پوزیشن بہتر ہو تی گئی کیونکہ وہ بیچاری تنہا آفیسر بہت کرپشن کر رہی تھی ۔ ابھی تو الزامات کی تفا صیل سامنے آنا شروع ہوئی ہیں ، ابھی تو عائشہ ممتاز کا ڈرائیور انکشاف کر رہا ہے ۔ ابھی تو عائشہ ممتاز کو بہت سے انکشافات کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ابھی تو عائشہ ممتاز کو اندازہ ہی نہیں کہ ایک ایسے ملک میں جہاں کا وزیر اعظم ایسا با کمال ہو ، جہاں کرپشن کے نت نئے ریکارڈ روز قائم کیے جاتے ہوں لیکن ریکارڈ ز کو کاغذات میں بالکل صاف ستھر ا اور شفاف ثابت کیاجاتا ہو۔ جہاں معجزاتی طور پر ایسے سروے ہوتے ہیں جن میں بد عنوانی اور کرپشن میں کمی ثابت ہو جاتی ہو اور سمجھنے والے کھل کر ہنس نہ سکتے ہوں ، اس معاشرے میں جس کرپشن کے خلاف عائشہ ممتاز نے جہاد شروع کیا تھا اس میں ہار تو عائشہ ممتاز کی ہی ہونی تھی ۔ وہ لوگ جو اس تجارت میں شامل ہیں اور ہمیشہ رہے ہیں جنہیں عائشہ ممتاز سے بڑے عہدے کے افسروں کو خاموش کروادینے کی عادت ہے ، جب وہ ایک خاتون افسر کا راستہ نہ روک سکے تو انہوں نے ان ذی وقار ممبران صوبائی اسمبلی کے منہ میں لفظو ں کے سکے ڈالے ہونگے کہ کسی طور عائشہ ممتاز نام کے عفریت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ 

اس لئے تو ملک میں کرپشن کم ہوگئی ہے کیونکہ یہ چند افسر جو بے وقوفی میں اپنی ڈیوٹی نبھانے کی کوششیں کرتے ہیں ،ان کا مناسب سدباب ہوجائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ یہ کرپشن کا مطلب ہی نہیں سمجھ سکے ، کرپشن کا مطلب ہے خراب کرنا ، تباہ کرنا ۔ عائشہ ممتاز جیسے لوگ ان لوگوں کی روایات ماضی کی عادتوں اور تجارتوں کو خراب کرتے ہیں ۔ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ۔ ان سے نمٹنا ہی ان کا اصل مقصد ہے ۔ ان کے سد باب سے اسی لیے کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے خوشی کا اظہار درست ہے ۔ وہ واقعی کرپشن پر بخوبی قابو پارہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں