Daily Mashriq

غیر معیاری دودھ

غیر معیاری دودھ

دودھ کے حوالے سے پوری قوم پریشان ہے کہ کون سادودھ خریدے اور کس دودھ کو استعمال کرے ۔پورے ملک میں دودھ کے حوالے سے بے چینی پھیل چکی ہے لیکن اس بے چینی کو دور کرنے والا کوئی نہیں ۔نہ ہی ناقص ڈبہ بند دودھ بنانے والی کسی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا گیا نہ ہی ا س کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔تو بھئی جب الزام لگادیا کہ ڈبے کے دودھ میںمضر صحت اجزاء شامل ہیں تو قانون کے تحت کارروائی کرو۔اس کے علاوہ بھی تو ایک مسئلہ ہے کہ جس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ بھلا عوام ڈبے والا دودھ یا پنجاب سے درآمد شدہ دودھ پینے پر مجبور کیوں ہوئے ہیں ؟ظاہر سی بات ہے کہ پہلے مقامی طور پر دودھ کی اتنی پیداوار ہوجاتی تھی کہ لوکل دودھ لوگوں کو پینے کے لیے میسر آجاتا تھا ۔جو تھوڑی بہت کمی بیشی ہوتی وہ گوجر کے پانی ملانے سے پوری ہوجایا کرتی تھی اور پانی ملا دودھ پینے میں کوئی حرج بھی نہیں کہ پانی بہرحال ایک شفاف اور زندگی دینے والا عنصر ہے ۔ اب کیا ایسا ہوگیا کہ ہمارا لوکل دودھ کم سے کم ہوگیا ہے ؟ اس سوال کا جواب تو اصولاً لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ خیبر پختونخوا کے محکمے کے لوگ ہی دے سکتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا کام ہی یہی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں لوگوں کی حفظان صحت کے مطابق گوشت اور دودھ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کوششیں کریں ۔ورنہ اس محکمہ کی ضرورت ہی کیا تھی اور عوام کے ٹیکسوں سے اتنے بڑے محکمے کے افسروں اور کارندوں کو تنخواہیں دینے کی ضرورت کیا تھی ۔پشاور شہر کی بات کی جائے تو یہاں مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری زمین کم ہورہی ہے اور آبادی زیادہ ہورہی ہے ۔ زرخیز زمینوں پر غیر قانونی کالونیاں بن چکی ہیں جو تھوڑی بہت زرخیززمین بچ رہی ہے اس پر بہت جلد ٹاؤن شپ کے اشتہار لگ جائیں گے ۔ یہی وہ زمینیں تھیںجہاں لوکل سبزیاں اور پھل لوکل مارکیٹ کو پہنچتے اور انہی زمینوں سے چارہ بھی میسرآتااور اسی چارے کے رہین بھینسوں کے بہت سے باڑے بھی آباد رہتے ۔اب چارہ نہیں ہے ۔زمین جو ہے اس کی قیمت آسمان کو چھورہی ہے ۔دودھ کا کاروبارمنافع بخش ہونے کے باوجود جوکھم بھرا ہوچکا ہے ۔ شہر میں جو چند باڑے تھے انہیں شہر کی حدود سے بے دخل کردیا گیا ہے ۔ گویا دودھ کا کاروبار پشاور اور اس کے مضافات میں کم سے کم سطح پر چلا گیا ہے اور جو بچاہے اس میں بھی انجکشنوں کے ذریعے دودھ نکالنے کا وسیلہ نکال لیا گیا ہے ۔سو یہ دودھ بھی جو کبھی انسان کی صحت کا ضامن تھا اب قاتلوں میں شمار ہونے لگا ہے ۔ فارمی مرغی کا یہ حال ہے کہ اسے ایسٹرائیڈ کھلا کھلا کر چند دنوں میں پال پوس کر ہمارے دسترخوانوں کی زینت بنادیا جاتا ہے ۔ کھلم کھلاچھٹی دے دی گئی ہے کہ جو جس کا دل کرتا ہے کرے ہم کچھ نہیں کہیں گے ۔ یہاں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان آجاتا ہے کہ لائیوسٹاک اللہ کے آسرے پر ہم کھارہے ہیں ۔ جو دودھ ہم پی رہے ہیں اس کا رنگ تو سفید ہے لیکن اندرجاکر وہ کیسے کیسے رنگ بدلتا ہوگا اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ایسے میں اتنے بڑے ادارے کا وجود چہ معنی دارد ؟میری نظر سے کوئی ایسی خبرنہیں گزری کہ جس میں اس ادارے کی جانب سے بنائے کسی ایسے پراجیکٹ کا ذکرہو کہ جس میں شہر کے لوگوں کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ماڈل پولٹری یا ڈیری فارم بنایا گیا ہو یا بنانے کا اعلان ہی کیا گیا ہو۔نچلی سطح پر دیہات میں چھوٹے چھوٹے منصوبے بنائے گئے ہوں ،یا لوگوں کواچھی نسل کی گائے بھینسیں ہی قسطوں میں دی گئی ہوں کہ جس سے وہ کاروبار بھی کرسکتے اور عوا م کو خالص دودھ بھی ملتا۔بڑا عجیب معاملہ ہے ہمارا بھی۔ ہمارا کلیم ہے کہ ہمارا ادارہ ڈویلپمنٹ کاادارہ ہے لیکن گراؤنڈ پر پوچھو تو کچھ بھی نہ پاؤ۔پاکستان میں جتنا بھی دودھ اور گوشت پیدا ہوتا اس میں حکومتی اداروں کا کوئی کردار نہیںبلکہ عوام ہی سب کچھ کررہے ہیں ۔ ان اداروں کا کام بس حفاظتی ٹیکے لگانے سے زیادہ نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دودھ فروشوں کی دکانوںپر چھاپے لگاکر ان کے دودھ کو پاس یا فیل کرسکتا ہے یہ ادارہ ۔بھائی آگے بڑھو مائیکرو لیول پر سکیمیں بناؤ۔زیادہ انڈے دینے والی مرغیا ں آسان قسطوں پر غریبوں کو دو کہ وہ انڈوں اور مرغیوں کی پیداوار بڑھا سکیں ۔اچھی نسل کی گائے بھینسیں اگر تخلیق نہیں کرسکتے تو ہالینڈ آسٹریلیا سے امپورٹ کرکے چھوٹے زمینداروں کے حوالے کرو کہ دودھ کی پیداوار بھی بڑھے اور مویشی بھی زیادہ ہوں ۔ یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے کیا فائدہ ۔ دفتروں میں پراجیکٹ پراجیکٹ کھیلنے سے بہتر ہے ذرا فیلڈ میں نکلو ،دیکھو کہ معروضی حالات کیا ہیں ۔ کہاں کہاں انوسٹمنٹ کی جاسکتی ہے ۔ پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لاؤ۔ڈیپارٹمنٹ کا تجربہ اور پرائیویٹ سیکٹر کا پیسہ مل کر اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے ۔کب تک عوام کو مجبور کرو گے کہ وہ کیمیکل ملا دودھ پیتے رہیں گے ۔ یار ہمارا ملک تو زرعی ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور زرعی ملک تو دوسرے ملکوں کی ڈیری اور لائیوسٹاک کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں آپ اپنے اداروں کو فعال کریں کہ کم ازکم ہمارے اپنے ملک کی ضرورتیں ہی پوری ہوجائیں ۔ مجھے یقین ہے کہ محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ میں بہت اچھے، قابل اور محنتی ریسرچر موجود ہوں گے ،بڑے محنتی افسر بھی کم نہ ہوں گے ،سارا مسئلہ ان سے کام لینے کا ہے۔ تو افسران بالا سے گزارش ہے اپنی زرخیز زمین سے فائدہ اٹھائیں اور اس مسئلہ کو حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں اور ''ثواب دارین ''حاصل کریں ۔

اداریہ