Daily Mashriq


ملتان، پر ہلادعہد سے میٹروبس تک

ملتان، پر ہلادعہد سے میٹروبس تک

28ارب 88کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ملتان میٹرو بس منصوبہ مکمل ہوا ، منگل کے روز وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے بر دار خورد وزیر اعلیٰ پنجاب شہبا ز شریف اور سرکاری لائو لشکر کے ہمراہ ملتان پہنچے اور منصوبے کا افتتاح کیا ۔ ملتان کے لوگوں پر منگل کا دن کیسا گزرا ، یہ دریافت کرنے یا بتانے کی ضرورت نہیں ۔ شیر جنگل میں کیٹ واک کیلئے نکلتا ہے تو ہوکا عالم ہوتا ہے ۔ ایک ملتانی کے طور پر مجھے بہت خوشی ہے کہ میرے جنم شہر ملتان کا شمار اب دنیا کے ان درجن بھر ترقی یافتہ شہروں میں ہوگا جہاں میٹروبس چلتی ہیں ۔ ایک دوست غلام رسول گورمانی نے ملتان میں میٹروبس منصوبے کے افتتاح پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ''ملتان میں میٹروبس چلنے کی خبر سے نشتر ہسپتال کے ایک ایک بیڈ پر ڈالے گئے تین تین مریضوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ ''دروغ بر گردن راوی کچھ مریضوں نے تو باقاعدہ بھنگڑا بھی ڈالا اور اگر ان کے معا لجین مداخلت نہ کرتے تو یہ بھنگڑا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا ۔ پانچ سے سات ہزار سال قدیم تاریخ کے حامل ملتان کو بہت سارے اعزازات حاصل ہیں ۔ یہ وہی ملتان ہے جہاں اس خطے میں سب سے پہلے تو حید پرستوں کی دانش گاہ راجہ پرہلا دنے تعمیر کی ۔ ملتان میں ہی سکندر اعظم کو زہرمیں بجھا وہ تیرلگاجواسے میدان جنگ سے وطن واپس لے جانے کا سبب بنا اورپھر وہ زندگی سے ہار گئے ۔ ملتان میں ہی حضرت شاہ شمس سبز واری کا مزار ہے آپ حضرت شاہ شمس تبریز مرشد مولانا روم کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ یہیں حضرت بہائوا لدین زکریا ملتانی کی خانقاہ ہے ۔ 32سال کی عمر میں شہید کر دیئے جانے والے سلسلہ سہر ورد یہ کے بانی حضرت شیخ شہاب الدین کے شاگر د رشید اور خلیفہ مجاز یوں دنیا بھر میں سلسلہ سہر و ردیہ کا خانقاہی وعملی مرکز ملتان ہی بنا۔ دارا شکوہ کے دوست عزیز شہید حضرت موسیٰ پاک کا مزار ملتان میں ہی ہے ۔ 1973کا دستور بنانے والی قومی اسمبلی کے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کا تعلق ملتان سے ہی تھا ۔ پاکستان کی پہلی سینیٹ کے وائس چیئرمین مخدوم سجاد حسین قریشی اسی سر زمین سے تھے ۔ پانچ دہائیوں تک ترقی پسندو ں کی سیاست کے سرخیل اور نیشنل عوامی پارٹی و پاکستان نیشنل پارٹی کے سیکر ٹری جنرل سید محمد قسور گردیزی مرحوم بھی ملتانی تھے ۔ درجنوں بلکہ سینکڑوں حوالے ہیں اس شہر کے کس کا ذکر کیجئے کسے چھوڑ یئے ۔ دیوان ساون مل اور مول راج اسی دھرتی کے فرزند تھے ۔ محقق و تاریخ دان مولوی عبدالحق حضرت مولانا نور احمدفریدی ۔ حفیظ خان ، حید ر گردیزی ، عزیز نیازی ، عاطف محمود قریشی ، اشفاق احمد خان ، سحر ملتانی ، علامہ رحمت اللہ طارق کیسے کیسے صاحبان کلام و علم اس سر زمین سے اُٹھے اور علم و ادب کے آسما نوں پر جگمگا ئے ۔ ہمارے مر شدی سید یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمو د قریشی کا تعلق بھی ملتانی خاندانوں سے ہے ۔ (شاندار تاریخ ، قدیم ثقافت و تہذیب اور علم و ادب کے تاریخی موڑ کے حامل اس شہر کومدینتہ الاولیا ء کہا جاتا ہے۔ ملتان کا کوئی محلہ ہی ایسا ہوگا جہاں کسی خانقاہ کا جلتا چراغ روشنی نہ بکھیر رہا ہو ۔ تلاش رزق میں ہجرتوں کا بوجھ اُٹھائے ملتانیوں کے دل میں ملتان بستا ہے ۔ ملتان کے بطن سے خانیوال ، وہاڑی اور لو دھراں کے اضلاع تخلیق کئے گئے بظاہر یہ اضلاع انتظامی ضروررتوںکے پیش نظر بنائے گئے مگر انتظامی مرکزیت سے زیادہ ملتان کی مرکز یت کو تعمیر کرنا مقصود تھا ۔ مگر ملتا ن والے جب سرائیکی صوبے کی بات کرتے ہیں تو ان پر فتوئوں کی چاندماری شروع ہو جاتی ہے ، 28ارب 88کروڑ روپے کا میٹروبس منصوبہ اس شہر میں مکمل ہوا ہے ۔ جس میں قائم پرویز الٰہی انسی ٹیوٹ آف کارڈ یالوجی کا 30کروڑ کا سالانہ بجٹ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے 2008ء سے 2013ء کے درمیان بتدریج کم کرتے ہوئے 10کروڑ روپے سالانہ کر دیا ۔ امراض قلب کا یہ ہسپتال جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں کے ساتھ خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اور بنوں ، جبکہ بلوچستان کے ژوب لورالائی اور ملحقہ علاقوں کے ساتھ سند ھ کے ان علاقوں کے مریضوں کا بوجھ بھی اُٹھا ئے ہوئے ہے جو جنوبی پنجاب سے ملحقہ ہیں ۔ لوگوں کے احتجاج کے باوجودہ اس ہسپتال کا پرویز الٰہی دور والا بجٹ بحال کر نے سے نکار کر دیا گیا ۔ ملتان میں ہی نشتر ہسپتال و میڈیکل کالج ہے کبھی یہ ہسپتال اور میڈیکل کالج جنوبی ایشیاء کے بہترین اداروں میں شمار ہوتا تھا مگر اب بدترین حالات کا شکار ہے ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض پڑے ہیں سی ٹی سکین ، ایکسرے وغیرہ کی مشینیں سال میں گیارہ ماہ خراب رہتی ہیں۔ یہی حالت چائلڈ ہسپتال اور فاطمہ جناح ہسپتال کی ہے ۔ شہر میں نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے نظار ے ہلکی سی بارش پر دیکھنے میں آتے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی کمی بیماریاں پھیلا رہی ہے ، بہا ئو الدین زکریا یونیورسٹی ذوالفقا ر علی بھٹو نے بنائی تھی ۔لیگی حکومت نے خواتین یو نیورسٹی گرلز ڈگری کالج کی عمارت میں بنا کر احسان عظیم کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کے نام سے بنی زرعی یونیورسٹی ڈھونڈنے سے نہیں ملتی ۔ اجڑی گلیاں دکھ ویرانی اور ابتر صورتحال کا شکار ملتان میں اب میٹرو بس چلے گی ۔ ہر درد ہر مرض اور ہر محرومی کا علاج میٹرو بس سے ہوگا اتفاق فونڈری کے لوہے منشا گروپ کے سیمنٹ اور ترک پارٹنر کے منصوبے پر 28ارب 88کروڑ خرچ کرنے والے میٹرو بس کا 95فیصد عملہ لاہو ر سے لے کر آئے ۔ یہاں تک کہ میٹرو کے ر وٹ اور اسٹیشنو ں پر صفائی کا ٹھیکہ بھی ترک کمپنی کی لاہوری پارٹنر کمپنی کو دیا گیا ۔ پاکستان میں 58فیصد کے لگ بھگ لوگ خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرتے ہیں ان 58فیصد میںسے 23فیصد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے ۔ جدید تعلیم اور طبی سہولتوں کا فقدان ہے ۔ کاش کسی نے بنیادی ضرورتوں پر توجہ دی ہوتی ۔ سستے سفر کے اس منصوبے کا سالانہ بوجھ عوام پر ہی پڑے گا۔ اندازے کے مطابق 3کروڑ روپے ماہوار سبسڈی سے چلے گی ملتان میٹرو بس یعنی 36کروڑ روپے سالانہ پر ۔ لیکن ملتان کے ابتر حالات اور مسائل سے ان اہل اقتدار کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ تاجر حکمران ظاہری لش پش کو ترقی سمجھتے ہیں ۔ سو ملتان نے ترقی کرلی میٹروبس چل گئی ۔ مگر ملتا ن سمیت پورے جنوبی پنجا ب کے وسائل لاہور میں جھونک دینے والے کہتے ہیں جس نے نیا پاکستان دیکھنا ہو ملتان میں آکر دیکھ لے ۔ جی ہاں دیکھ لیجئے ۔ ہر دکھ اور غم کامداوا ہے میٹر و بس باقی رہے نام اللہ کا ۔

متعلقہ خبریں