Daily Mashriq


شہدا ء کی قربانیاں رائیگا ںنہ جانے دیں

شہدا ء کی قربانیاں رائیگا ںنہ جانے دیں

با چا خان یو نیور سٹی واقعے کو ایک سال ہو گیا ہے ۔ اس واقعہ میں شہداء اوراُنکے لواحقین داد رسی نہیں کی گئی جسکے وہ مستحق تھے۔یہ واقعہ اے پی ایس کے بعد دوسرا بڑا واقعہ تھا اور ان دو واقعات کی وجہ سے پاکستان کی تا ریخ بدل گئی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مسلح افواج اور قانون نافذکرنے والے اداروں نے اپنا کام مزید زور و شور سے جاری رکھا۔ مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس تقریب میں حکومت کی طرف سے کسی بڑے سرکاری اہل کار ، صوبائی، وفاقی وزیر ، گو رنر ، وزیر اعلیٰ یا سپیکر نے شرکت نہیں کی ۔ شہداء کے لواحقین اورز خمیوں کے زخم اب بھی تا زہ ہیں اور ان لوگوں کو تسلی اور تشفی کی ضرورت تھی۔کسی بڑے سیاسی اور حکومتی اہل کارکے اس تقریب میں شرکت کرنے کے دو نفسیاتی پہلو ہو سکتے تھے ایک یہ کہ دہشت گردوں کو حکومت کے پکے عزم کا پتہ چلتا اور دوسرا یہ کہ شہداء اور زخمیوں کے لواحقین اور ورثاء کو اندازہ ہوجاتاکہ اُنکے پیچھے کوئی ہے۔امریکہ نے لیبیا سے جہاز میں مرے ہوئے مسافروں کے لواحقین کے لئے فی کس 10 ملین ڈالر یعنی فی کس ایک ارب روپے وصول کیے۔ مگر بد قسمتی سے سانحہ با چاخان یو نیور سٹی کے شہداء کے لواحقین کومعمولی رقم دیکر ٹرخایا گیا۔ حال ہی میں شہید حامد حسین کے بھائی اشفاق حسین سے ملاقات ہوئی۔ اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ سب نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اس حا دثے میں تمام شہداء کے لواحقین اور بالخصوص شہید حامد حسین کی بیوہ اور بچوں حا شر حسین اور بچی حسینہ حسین کی بھر پور اخلاقی اور مالی امداد کی جائے گی۔ ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیاکہ شہید حامد حسین کی بیوہ جو گور نمنٹ کالج مانکی صوابی میں زوالوجی کی لیکچرر ہیںاُسکو ریگو لر کیا جائے گا۔شہید کا مقبرہ تعمیر کیاجائے گا۔ اُسکو اعلیٰ سول ایوارڈ دیا جائے گا اور صوابی یو نیورسٹی شہید حامد حسین کے نام سے منسوب کی جائے گی۔اور شہید کا وہ پستول جس سے اُنہوں نے دہشت گردوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا شہیدکے لواحقین کوواپس کیا جائے گا۔ مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کوئی وعدہ سال بعد بھی ایفا نہیں ہوا۔33 سالہ شہید ڈاکٹر حامد حسین، جس نے پشاور یو نیورسٹی سے ایم ایس سی اور بر طانیہ کی برسٹل یونیورسٹی سے آرگینک کیمسٹری میںپی ایچ ڈی کی ڈگری حا صل کی تھی۔ایک انتہائی ذہین اور بہادر انسان تھے۔ حامد حسین کے والد نے حامد حسین کو بیرون ملک تعلیم دلوانے کے لئے حامد حسین نے دہشت گر دوں اور انتہا پسندوں سے دو یدومردانہ وارمقابلہ کرکے ادارے اور طالب علموں کو بچاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔حالانکہ شہید حامد حسین کسی کمرے میں چھپ کر جان بچانے کی کو شش بھی کر سکتے تھے۔مگر اُسکی غیرت اور حمیت نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ طالب علموں کو دہشت گردوں اور انتہااپسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑیں ۔ 

نوبل انعام یافتہ ملالہ یو سف زئی نے شہید کی بیوہ سے فون پر تعزیت بھی کی تھی اور یقین بھی دلایا تھا کہ ملالہ یوسف زئی اپنی استعداد کے مطابق شہید کی بیوہ اور تمام شہداء کی بھر پور مدد کرے گی۔روزشام کو شہید حامد حسین کا چار سالہ بیٹا حاشر حسین، اور ٣ سالہ بیٹی حسینہ حسین اپنی امی سے پو چھتی ہے کہ ابو کہاں گئے ہیں ۔ "وہ کب واپس آئیں گے" ۔شہید کی بیوہ بچوں کو دلاسہ دے کرسلا دیتی ہیں۔شہید حامد حسین کے والد محترم بیک وقت کئی غم کھائے جا رہے ہیں : ایک بیٹے کی شہادت ، دوسری جوان بہو کا غم اور تیسرا دوپوتوں کا غم۔اس وقت ان لوگوں کے زخموں پر مر ہم رکھنے کی ضرورت ہے ۔وفاقی حکومت خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی جنگ کے لئے 35ارب روپے کے فنڈز دے رہی ہے ۔ وہ پیسے اگر اس قسم کے کاموں میں نہیں خرچ ہونگے تو کب خرچ ہونگے۔ سانحہ باچاخان یونیورسٹی، جو اے پی ایس کے بعد سب سے بڑا واقعہ تھا۔اگر شہدا کے لواحقین ، ورثاء اور پسماندہ گان کے ساتھ ہمدردی نہیں کریں گے تو دہشت گر دوں کے حو صلے مزید بلند اور اس ملک میں حق اور سچ کے بول بولنے والے کے جذبات اور احساسات مزید پست ہونگے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواکو چاہیے کہ اس قسم کے واقعات میں شہداء کو فوجیوں کی طرح مراعات ، پنشن ، سول ایوارڈ اور دوسری مراعات دی جائیں۔ اور پسماندہ گان اور لوا حقین کو ذلیل اور رسوا نہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں