Daily Mashriq


بھارت کی بے بس مسلمان لڑکیاں

بھارت کی بے بس مسلمان لڑکیاں

ایک عرصہ سے بھارت میں مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کو زبردستی ہندو بنانے کی باقاعدہ مہم شروع کردی گئی ہے اور بھارت کے صوبہ اترپردیش سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ایک رکن اسمبلی اس مہم کی نگرانی کررہے ہیں اور مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے ہندومت اختیار کرنے پر مجبور کرنے والے مہاسبھائی ہندو غنڈوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ پولیس کو ان واقعات کی رپورٹ درج نہ کرنے اور رپورٹ درج کرانے پر اصرار کرنے والے لڑکیوں کے والدین اور رشتہ داروں پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے ان کو بھی حوالات میں بند کردینے کی غیر تحریری ہدایت دے دی گئی ہے۔مسلمان لڑکیوںکو اغوا کرکے زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے سب سے زیادہ واقعات اترپردیش یعنی یوپی میں ہورہے ہیں۔ جہاں بی جے پی کے رکن اسمبلی یوگی ادیاناتھ جو ہندو یووا باہنی کی بھی سرپرستی کرتے ہیں، اس کی باقاعدہ نگرانی اور سرپرستی کررہے ہیں۔ بھارتی اخبارات نے یوپی کے ایک گائوں خوشی نگرسے ایک ایسی ہی زبردستی اغوا کرکے ہندو بنائی جانے والی لڑکی زبیدہ جس کی ایک ہندو نوجوان سے زبردستی شادی کردی گئی،اس کی دکھ بھری داستان شائع کی ہے ،زبیدہ تک رسائی حاصل کرنے والی ہندو صحافی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اسے 3سال قبل جب اغوا کیاگیا تو اس کی عمر صرف 13 سال تھی ، اسے اغو اکرنے والے غنڈے نے اسے اپنے منہ بولے دادا، دادی کے گھر میں چھپادیا،اور جب اس کے والدین اسے تلاش کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچے تو گھر والوں نے اس کی وہاں موجودگی سے صاف انکار کردیا ،بعد میں اسے زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیاگیا اور اس کانام امیشہ رکھ دیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اترپردیش کے جس گائوں میں یہ واقعہ ہواہے وہاں مسلمانوں کے گنے چنے ہی گھر ہیں اور ان کی لڑکی کو اغوا کرکے اس کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے والے لوگ گائوں کی بااثر ٹھاکر فیملی کے لوگ ہیں۔زبیدہ کے گھر والوں نے اس کے اغوا کے بعد اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس کے اغوا کا مقدمہ درج کرادیاتھا ، زبیدہ کے والدین کی جانب سے اس کے اغوا کے واقعے کی رپورٹ2013 میں درج کرائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق رامیشور ٹھاکر اور اس کے بیٹوں اروند اور ناگن ٹھاکر نے مل کر کمسن زبیدہ کو اغوا کیا اور پھر اسے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرکے اس سے شادی کی ہے ،زبیدہ کے والدین نے رپورٹ میں یہ بھی درج کرایا ہے کہ زبیدہ کو اغوا کرنے والے رامیشور سنگھ کے ہندو یووا باہنی کے دوستوں نے اسے کمسن زبیدہ کو اغواکرنے کی ترغیب دی اور اغوا کے لیے مدد بھی بہم پہنچائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2014 سے اکتوبر2016 کے دوران یوپی کے صرف ایک ضلع میں 389 لڑکیوں کے غائب ہوجانے یا اغوا کئے جانے کی رپورٹیں درج کرائی گئیں ،لیکن پولیس نے ان میں سے کسی بھی واقعے میں کسی لڑکی کو بازیاب کرانے میں کوئی مدد نہیں کی۔ان کا موقف یہ ہے کہ لڑکیاں اپنی مرضی سے اپنے دوست لڑکوں کے ساتھ گھروں سے بھاگتی ہیں، کیونکہ ان کے والدین کسی بھی صورت میں انہیں اس طرح ہندو لڑکوں سے شادیاں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ایس پی پولیس بھرت کمار یادیو کاکہناہے کہ جب لڑکیوں کے والدین ان کو پسند کی شادی کی اجازت نہیں دیتے اور معاملہ ہمارے پاس آتاہے تو عام طورپر لڑکیوں کی عمر کم ہوتی ہے یا ان کے پاس اپنی عمر ثابت کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہوتا، ایسی صورت میں ہم انہیں ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے ان کا بیان قلمبند کرکے انہیں اپنی مرضی کے لڑکے والوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ایس پی پولیس بھرت کمار یادیو کے اس بیان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے انہیں ہندو بنانے کے اس مکروہ کام میں بھارت کی پولیس بھی ہندو غنڈوں کی بھرپور پشت پناہی کرتے ہوئے ہندو یووا باہنی اور بی جے پی کے منصوبوں کی تکمیل میں مدد دے رہی ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت خوشی نگر نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صرف خوشی نگر سے درجنوں مسلمان لڑکیوں کو زبردستی اغوا کرکے زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیاجاچکاہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت خوشی نگر نے اپنی تحقیقی رپورٹ یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادیو کو جنوری 2016 میں پیش کی تھی جس میں باقاعدہ طورپر اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے انہیں ہندو بنانے کا یہ قابل نفرت جرم ہندویووا باہنی کے غنڈے کررہے ہیں اور کوئی انہیں لگام دینے کو تیار نہیں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر محمد سلیمان کاکہناہے کہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرنے اور انہیں ہندو بنانے کے تمام واقعات میں ہندو یووا باہنی کے غنڈے ملوث ہیں ، ان کاکہناہے کہ ان واقعات میں اضافے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہندویووا باہنی کی پہنچ بہت ہی بااثراور حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں تک ہے بلکہ تھانے سے عدالتوں تک ہر جگہ ان کے اپنے آدمی اور ہمدرد بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب مسلمان بہت ہی پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں اس لیے ان کی آواز سننے والا اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی موثر انتظام اب تک نہیں ہوسکاہے۔

متعلقہ خبریں