Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت مخریق کاشمار یہودی علماء میں ہوتا تھا ۔نہایت صالح عالم تھے ، ابھی ایما ن نہیں لائے تھے کہ غزوہ احد پیش آگیا ۔ یہ اپنے قبیلے بنو نضیر کے پاس گئے اور کہا ' ' تم لوگوں نے محمد ۖ سے عہد کیا ہے ۔ تم کو ہر طرح سے ان کی مدد کرنی چاہیے ۔جب ان کی مدد تم پر فرض ہے تو تم کو پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے ۔ ''
یہودیوں نے کہا آج ہفتہ کادن ہے اور تم کو معلوم ہے کہ بنی اسرائیل ہفتہ (یوم السبت ) کو تلوار نہیں اٹھا سکتے ، پھر ہم کیو نکر ان کی مدد کر سکتے ہیں ؟ ''
حضرت مخریق نے فرمایا :
یہ تمہارا عذر لنگ ہے ، سنیچر و نیچر کچھ نہیں ہوتا ۔ حضرت مخریق چونکہ دل سے رسول اکرم ۖ کے شیدائی تھے ، اس لیے انہوں نے تلوار لی اور بڑے جوش سے مسجد نبوی میں پہنچ کر مجاہدین کی جماعت میں شامل ہوگئے ۔ آپ میدان احد میں اپنی جان کی پرواکیے بغیر رسول اکرم ۖ پر قربان ہونے کے لیے لڑتے رہے ،یہاں تک کہ وہ جنگ کرتے ہوئے رسول اقدس ۖ کے لیے شہید ہوگئے ۔ احد کے میدان میں جب یہ زخمی ہوگئے تو انہوں نے اپنی جائید اد ، باغ اور مال و اسباب رسول اقدس ۖ کو وصیت کر دیا ۔ اس میں کئی بڑے بڑے باغات المیث الصائقہ ، الد لال ، حسن جر فہ ، الا عواف ، مشربہ ام ابراہیم تھے ۔
( تجر ید جلد 2صفحہ 70اصابہ جلد 3صفحہ 366)امام غزالی نے ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان شخص 20سال تک عبادت میں لگا رہا ،پھر شیطان نے گناہ اس کے لئے مزین کر دیے اور وہ 20سال تک گناہوں میں پڑا رہا،پھر ایک دن اس نے اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھا تو داڑھی میں سفید بال نظر آیا،اب سوچنے لگا اور اسی حالت میں اس نے التجا کی کہ الہٰی !میںنے 20سال تک آپ کی اطاعت کی اور 20 سال نافرمانی کی اگر اب میں آپ کی جانب لوٹ آؤں تو کیا آپ مجھے قبول کریں گے؟اس کو غیب سے آواز آئی کہ تو نے ہم سے محبت کی تو ہم نے بھی تجھ سے محبت کی اور جب تو نے ہمیں چھوڑ دیا تو ہم نے تجھے مہلت دی اور اگر تو دوبارہ ہماری جانب رخ کرے گا تو ہم دوبارہ تجھے قبول کر لیں گے۔
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ثابت بنانی کے پاس موجود تھا ۔ حضرت حمید الطویل بھی موجود تھے ، تو حضرت ثابت نے حضرت حمید سے پوچھا کہ کیا انبیا کے علاوہ بھی کوئی اپنی قبر میں نماز پڑھے گا ؟ حضرت حمید نے فر مایا کسی اور کے لیے تو ہم نے نہیں سنا ، تو حضرت ثابت نے یوں دعا کی کہ اے اللہ ! اگر تو نے انبیا ء کے سوا بھی کسی کو قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تو مجھے بھی قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دینا ، حضرت جبیر فرماتے ہیں کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے اپنے ہاتھو ں سے حضرت ثابت کو ان کی قبر میں اتارا ، جب ہم قبرکے اوپر کچی اینٹیں برابر کر رہے تھے ، اس وقت ایک اینٹ قبر میں گر گئی تو میں نے اپنی آنکھوںسے دیکھا کہ حضرت ثابت قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں ۔
(ایمان افروز واقعات)

اداریہ