Daily Mashriq


معاشرتی تطہیر پر بھی توجہ ہونی چاہئے

معاشرتی تطہیر پر بھی توجہ ہونی چاہئے

قصور کی زینب اور مردان کی عاصمہ کے مقدمات میں حصول انصاف کی منزل کے سامنے آنے والی مشکلات ہمارے معاشرے کا وہ چہرہ ہیں جس کے نمایاں ہونے کے باوجود ہر سطح پر اس سے صرف نظر کرنے کا تسلسل وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر غور کرکے اس کاحل تلاش کئے بناء اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی توقع خلاف حقیقت ہوگی۔ اس طرح کے واقعات کو الجھانے میں میڈیا کا کردار دن بدن منفی ہونا وہ افسوسناک حقیقت ہے جس کا کسی کو ادراک نہیں بجائے اس کے کہ میڈیا سے تحقیقاتی اداروں کو معاونت پر مبنی صورتحال ملے۔ خلاف حقیقت دعوئوں سے تحقیقات کو الجھانے اور اس کو متاثر کرنے کی دانستہ و نادانستہ مساعی سامنے آرہی ہیں جس کے باعث میڈیا سے عوام اور ناظرین کا اعتماد متزلزل ہونا فطری امر ہے۔ میڈیا جو پہلے ہی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کا شکار ہو کر اپنی معروضیت متاثر کر بیٹھا ہے قصور کی زینب سے متعلق بے سر و پا رپورٹوں کی تشہیر کے باعث ناظرین و قارئین میں اپنا مقام کھو رہا ہے ۔ مسئلہ میڈیا کی کریڈیبلٹی کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سے معاشرے کے تقسیم کا شکار ہونے کا اندشہ ہے۔ اس طرح کے ملزموں کو سزا کے سلسلے میں ہماری پارلیمنٹ بھی یکسو نہیں بلکہ اس قسم کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کے طریقہ کار پر اختلاف کا شکارہے۔ اس ضمن میں قانون سازی کی نوبت کب آئے گی اس بارے میں بھی کوئی درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ فی الوقت کے مروج قوانین صورتحال سے قانونی اور عدالتی طور پر نمٹنے کے لئے ناکافی ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ جلد سے جلد ایسے قوانین مرتب کئے جائیں جن میں وسعت ہو۔اگر ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے تویہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم اور پولیس کا نظام بالکل ہی ناکام ہوچکا ہے۔ جہاں با اثر اور بے اثر دونوں ہی قسم کے ملزمان کو قانون سے کھلواڑ یا پھر قانونی پیچیدگیوں میں سے بچنے کی راہیں ملتی ہوں اس معاشرے اور اس ملک میں قانون و عدالت سے خوف کیسے آئے گا؟ المیہ یہ ہے کہ وقفے وقفے سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے تو ہم جاگتے ہیں۔ قصور سکینڈل کے بعد ایسا ہی ہوا' قومی اسمبلی میں چائلڈ پروٹیکشن بل 2015ء منظور کیا گیا' سب قانون سازی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد کی گارنٹی نہیں ہوتی۔ قانون سازی کے باوجود بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ایک سماجی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ گیارہ بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ جنوری 2017ء سے جون 2017ء کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1764 واقعات ہوئے۔ گزشتہ چھ ماہ میں 1067 لڑکیاں اور697لڑکے زیادتی کا شکار بنے۔اس مسئلے پر سیاسی جماعتوں' عوام الناس اور سبھی عناصر کا افسوس اور احتجاج فطری امر ہے لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی آئندہ روک تھام کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ہمارے پارلیمان میں کبھی اس طرح کے ملزموں کو سرعام چوراہے پر لا کر چین' سعودی عرب اور ایران کی طرح سزائیں دینے کا قانون منظور کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا کسی نے شرعی سزائوں کے نفاذ کی بات کی ہے زبانی کلامی اور انفرادی طور پر ہی ایسا ہوتا رہا ہے۔جس ملک میں دہشت گردوں کی پھانسی کی سزائیں روک دی جائیں یا رکوا دی جائیں' جس ملک میں قتل کے ملزمان وی کا نشان بنا کر اس پر پورا اترنے کی مثالیں پیش کرتے ہوں' جس معاشرے میں قانونی معاملات سیاست زدہ کردئیے جائیں اس ملک میں خواہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مظلوم لڑکی ہو یا قصور کی زینب یا اسلام آ باد کی معصوم نوکرانی یا کوئی اور کوئی بھی محفوظ ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہی اس کی توقع رکھنی چاہئے۔ ہمارے تئیں اس طرح کے واقعات صرف مردان اور قصور ہی میں پیش نہیں آئے بلکہ ملک بھر میں روز مرہ کا معمول ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ جہاں اس طرح کے واقعات کے ملزموں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کے لئے قوانین منظور کریں قانون شہادت میں ترمیم کی جائے اس کے ساتھ ساتھ ملک میں اصلاح معاشرہ کی جامع سعی بھی ہونی چاہئے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام معاشرہ نہ کرے معاشرے کے افراد اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائیں تو اس کے کسی شافی حل کی توقع بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ہمیں بحیثیت معاشرہ اس برائی کی روک تھام کے لئے جہاں کوشاں ہونے کی ضرورت ہے وہاں ہمیں اس امر پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں اور اس کی روک تھام میں معاشرے کے افراد کا کردار و عمل ممدو معاون کیوں نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات کی مکمل روک تھام کی توقع بہر حال ممکن نہیں لیکن اس میں کمی لانا اور اس قسم کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دے کر باعث عبرت بنانا زیادہ مشکل نہیں ۔

متعلقہ خبریں