Daily Mashriq


درندوں سے بنت حوا کے تحفظ کا مسئلہ

درندوں سے بنت حوا کے تحفظ کا مسئلہ

موجودہ حالات میں والدین اپنے بچوں کے حوالے سے جس عدم تحفظ کا شکار ہیں یہ فطری امر ہے ۔ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے اور بچوں سے زیادتی کے حوالے سے کم ہی میڈیا پر کوئی خبر آتی ہے خاص طور پر پختون معاشرے میں تو اس کا تصور ہی نہیں علاوہ ازیں بھی اس قسم کے واقعات کو سب کے سامنے لا نا اس لئے بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا کہ حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا الٹا بد نامی آڑے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں متاثرہ فریق کی پولیس سے رجوع کرنے کی شرح تو نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس طرح کے واقعے کو تو اپنے آپ سے بھی مخفی کرنے کی سعی ہوتی ہے یوں ایک نا خوشگوار واقعہ زندگی کا روگ بن جاتا ہے اور رد عمل میں نفسیاتی گھٹن کاشکار ہونا فطری امر ہے جس سے ساری زندگی نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ بھیڑیوں کے خوف سے لڑکیوں کو گھر پر بھی نہیں بٹھایا جاسکتا البتہ ماں باپ پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کی تربیت اس طرح سے کریں کہ وہ حالات کو بھانپ سکیں۔ لڑکیوں میں خود اعتمادی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے اس طرح کے بھیڑیوں کو حوصلہ ملتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گرلز سکولوں میں سائیکالوجی کی عمومی تعلیم دی جائے اور بچیوں کو اتنا پر اعتماد بنایا جائے کہ کوئی ان کو کمزور جان کر حوصلہ نہ پائے۔ ماں باپ اورعزیز و اقارب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لڑکیوں کے غیر معروف اداروں میں ملازمت کے حصول سے قبل اس کے ماحول کے بارے میں ابتدائی اور ضروری معلومات کے حصول کے بعد بچیوں کو ملازمت پر جانے کی اجازت دیں۔ اگرچہ ایسا کرنا مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر کوشش کی جائے تو حصول معلومات زیادہ مشکل نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس طرح کے اداروں کا رجسٹرڈ نہ ہونا بھی بڑا مسئلہ ہے اور نہ ہی متعلقہ ادارے کسی ایسے اداروں سے تعرض رکھتے ہیں۔ علاقہ پولیس سے تو اس امر کی توقع ہی نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ اس سطح پر بھی کچھ کرے۔ اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لئے جہاں رپورٹ ہونے والے اس قسم کے واقعات میں ملوث کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دلوانا ضروری ہے وہاں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اس قسم کے واقعات کے متاثرین کی حکومت عملی طور پر سر پرستی کرے اور ان کو مزید دھمکی دینے اور ہراساں کرنے والوں سے بچایا جائے۔ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں ایک بھی ایسے واقعہ کی آسانی سے مثال نہیں دی جاسکتی جس کے تمام کرداروں کو قانون کے مطابق سزا دی گئی ہو۔ یہی وہ کمزوری ہے جو اس طرح کے عناصر کے لئے حوصلے کا باعث ہے۔ جو بے خوف ہو کر بنت حوا کی عزتوں سے کھیلتے ہیں۔

متعلقہ خبریں