Daily Mashriq

ہنڈی ، حوالہ کے کاروبار میں اضافہ؟

ہنڈی ، حوالہ کے کاروبار میں اضافہ؟

ہنڈی کے کاروبارمیں روز افزوں اضافہ اس امر پر دال ہے کہ سٹیٹ بنک اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے قاصر ہے جبکہ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے ارکان کی ملی بھگت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ غیر قانونی طورپر رقم بھجوانے اور وصول کرنے کا عمل صرف معیشت ہی کو نقصان نہیںپہنچا رہا بلکہ غیر قانونی ذرائع سے آنے اور بھجوائی جانے والی دولت کے پس پردہ کوئی نہ کوئی غیر قانونی کاروبار بھی وابستہ ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تارکین وطن کو رقم ارسال کرنے میں مشکلات کو دور کرنے کی سنجیدہ مساعی ہونے کے باوجود ہنڈی اورحوالہ سے رقم کی حمل ونقل کی دیگر وجوہات بارے ایک جامع منصوبہ کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان وجوہات وعلل کو کم کیا جاسکے جو لوگوں کو ہنڈی اور حوالہ سے رقم بھجوانے کیلئے کشش کاباعث ہے ۔غیر قانونی طورپر آنے اور جانے والی رقم کی روک تھام کے لئے محولہ اقدامات کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بنک ، ایف آئی اے امیگریشن حکام اور متعلقہ اداروں کوایسے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ کرنسی کا غیر قانونی کاروبار ناممکن بن جائے اس ضمن میں سٹیٹ بنک کا کردار خاص طورپر اہم ہے جو منی چینجرز اور رقم کی ترسیل اور وصولی سے متعلق کاروبار سے منسلک ہیں۔ سٹیٹ بنک کے حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مختلف اوقات میں منی چینجرز کے دفاتر کا اچانک معائنہ کر کے ریکارڈ چیک کریں سٹیٹ بنک کو مارکیٹ میں کر نسی کے سمگلروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے ایک خفیہ فیلڈ فورس قائم کر لینی چاہئے جو کسی بھی قسم کی رقم کی غیر قانونی منتقلی کی بروقت اطلاع دے ۔مستند اطلاع پر مشکوک عناصر کے خلاف کارروائی ہونے لگے اور رقم قبضہ میں لے کر مقدمات قائم کئے جائیں تو ہنڈی حوالہ کے کاروبار کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔سٹیٹ بنک تمام بنکوں کے منیجروں کو اس امر کا پابند بنائے کہ وہ بڑے پیمانے پر کیش رقم کی منتقلی کی فوری اطلاع فراہم کریں ۔ ایف آئی اے کو فعال بنایاجائے کہ وہ کرنسی ڈیلروں سے رقم بٹور کر معاونت کی بجائے انسداد کی اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دے ۔

متعلقہ خبریں