Daily Mashriq


عوام ہوشیار باش

عوام ہوشیار باش

قومی اسمبلی میں ایک رکن کے توجہ دلاؤنوٹس کے جواب میں وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی راناتنویر حسین نے یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں 80فیصد لوگ صاف پانی پینے سے محروم ہیں۔ہم سوچنے لگے کہ یہ باقی کے بیس فیصد کون خوش نصیب لوگ ہیںکہ جنہیں پینے کا صاف پانی میسر ہے کیونکہ منسٹر صاحب نے اس بیس فیصد کے ''محل وقوع ''کے بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی ۔اب اندازوں سے تومعلوم نہیں کیا جاسکتاکہ بھلاہم ان بیس فیصد لوگوںمیں شامل ہیں کہ نہیں ۔وزیرموصوف نے یہ بھی فرمایا کہ پاکستان کے 25شہروں میںسروے کیا گیا جس کے مطابق صرف 31فیصد لوگ صاف پانی پیتے ہیں اور 69فیصد لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔خیریہ سروے تو شہروںسے متعلق ہے یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ دیہات کا کیا حال بلکہ حشرہوتا ہوگا ۔شہروں میں تو پھر بھی میونسپل ادارے عرصے سے کام کررہے ہیں دیہات تو اللہ کے آسرے پرہی چل رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان دنیاکا واحد ملک ہے کہ جہاں پیسے دے کرآلودہ پانی پیا جاتا ہے ۔ یہ بات یقینا قومی اسمبلی میں بیٹھے اراکین کے بھی باعث تشویش ہوگی ۔کیونکہ پاکستان میںعام آدمی چاہے دیہات سے تعلق رکھتا ہو یا شہروںسے خرید کر پانی پینے کا حوصلہ نہیں رکھتا ہے ۔ ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ Tap Waterہی پر گزران کرتے ہیں ۔ ہم عام پاکستانی بڑے دل گردے والے لوگ ہیں ۔ خوب جانتے ہیں کہ پانی کے پائپ پر لگی ٹونٹی سے جو شفاف پانی نکل رہا ہے اس میں بے شماربیماریاں موت کا سامان لیے باہر نکل رہی ہیں ۔اب کوئی بچوںکا رزق پورا کرے، بجلی گیس کے بل جمع کروائے یا باہرجاکردکاندار سے منرل واٹر کی بوتلیں خرید کرلائے ۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ بہت سے علاقوں میں انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پیتے ہیں ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ہم سولہ لاکھ کیوسک میٹھا پانی سمندر برد کرنے کے جرم میں ملوث ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں آلودہ اور کھارے پانی کو صاف کیا جاتا ہے اور ہم اپنے دریاؤں کا میٹھا پانی سمندر کے حوالے کردیتے ہیں ۔ بیشتر بیماریاں ہمیںاسی آلودہ پانی سے لگتی ہیں۔ ہم نے میٹروموٹروے بھی بنالی ،ہم پاک چائنہ کوریڈور کے زرین دور میں جی رہے ہیں لیکن ہمارے اسی فیصد لوگ پانی کی جگہ زہر پی رہے ہیں۔ کتنے دعوے کتنے جھوٹ ہم سے بولے گئے ۔پولیو ویکسین کے نام پر آنے والے ڈالروں کی چکاچوند ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں لیکن عوام کو صاف پانی پلانے کے لیے کوئی ڈونر موجود نہیں سو ڈالر بھی نہیں اس لیے سب خاموش ہیں۔ بھاڑ میں جائے عوام ، ہیپاٹا ئٹس لگتی ہے کہ کوئی اور بیماری ہماری بلاسے ، اشرافیہ پلاسٹک کی بوتل خرید سکتی ہے سو خریدتی رہے گی اور خود کو خواص کے رتبے کے مطابق بیماریوںسے دور رکھے گی۔لیکن یہ کیایہ تو انہونی ہوگئی ۔ اشرافیہ کے حق پر ڈاکہ پڑ گیا۔ انہیں آلودہ پانی پلادیا گیا وہ بھی شفاف رنگ کاآلودہ پانی ، شفاف رنگ کی بوتل میں ۔ سو ہمیں اس خبر کی سنجیدگی سے کوئی غرض نہیں کیونکہ آئندہ دنوںمیں چندایک دونمبر پانی بنانے والی فیکٹریوں کو سیل کردیا جائے گا ۔ ہوسکتا ہے منرل واٹر کے سخت قوانین بھی بن جائیں لیکن مجھے اس سے کیا ۔زیادہ سے زیادہ اس سے کیا ہوگا کہ 20فیصد کی بجائے 25 فیصد لوگوں کو صاف پانی مل جائے گا ۔ وہ اضافی پانچ فیصد بھی قوت خریدرکھنے والے ہوں گے ۔ جوپانی خرید کرپی سکتے ہوں گے ۔ مجھے تو خوشی یا اطمینان اس وقت ہوگا جب سب پاکستانی شفاف ، میٹھا اور غیر آلودہ پانی پی سکیں گے ۔ میں یقین سے کہتاہوں کہ یہ حکومتوں کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ۔ نہ ہی اتنا مہنگا ہوگا کہ اس پر عمل نہ کیا جاسکے ۔ شرط یہ ہے کہ پانی کے آلودہ ہونے کے نقصانات کو کوئی سنجیدہ تو لے۔حالانکہ زندگی اور بقاء تمام دیگر مسائل سے زیادہ اہم ہونا چاہیئے لیکن اتنے اہممسئلے پر آپ کو کسی چینل پر کوئی ڈیبیٹ دکھائی نہیںدے گی۔ جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔عوام بھی بادشاہ لوگ ہیں ۔انہیںوقت ہی میسر نہیں کہ اس پر سوچیں کہ وہ کیا زہر پی رہے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو عوام کو آگاہ ہی کردو کہ ہوش یار باش۔ جس طرح عوام نے گیس اور بجلی کم یابی اور نایابی کے توڑمیںجنریٹر ، یوپی ایس اور سولر انرجی پر انفرادی طور پر انحصار کیا ہے اسی طرح وہ صاف پانی کے حصول کے لیے بھی اپنی مددآپ کے تحت کچھ کرلیں ۔ یار اربوںکھربوں روپے فضول کاموںمیںلگائے جاتے ہیں۔اور کچھ نہیں تو گھریلو استعمال کے واٹرفلٹرز پر ٹیکس ختم کردو یا سبسڈی ہی دے دو کہ لوگ سستے داموں فلٹر خرید کر گھروں میں لگالیں اور اپنے تئیں آلودہ پانی کا کوئی سدباب ہی کردیں۔ نہ ہی ہم کوئی تربیلہ کے بعد کوئی بڑاڈیم بناسکے نہ ہی ہم گیس کے پرانے پائپوںکو اپ گریڈکرسکے نہ ہی ہم عوام کو صاف پانی دے سکے تو پھر حکومت کرنے کا فائدہ کیا ۔ علاج یہاں موجود نہیں ۔ امن یہاں موجود نہیں۔بچے یہاں محفوظ نہیں پھر حکومت کیسی اوراس کی رٹ کیسی ۔ عدالت ہی کو ہر ایشو پر سوموٹو ہی لینا ہے تو حکومت کس کام کی ۔ لگتا ہے پانی کے اس ایشو پر بھی ہمیں عدالت سے ہی امید لگالینی چاہیئے کہ کہیں وہ آلودہ پانی کے اس ایشو پر سوموٹولے لے تو کسی کے کان پر کوئی جوں رینگے ورنہ تو میرا نہیں خیال کے قومی اسمبلی میںپانی کے ایشو کو ڈسکس کرنے کے بعد بھی کوئی اس مسئلے کا سوچے گابھی ۔ بہرحال منرل واٹر کی بوتلوں میں قید پانی میںہم دیکھیںگے کہ بہت جلد آلودگی ختم ہوجائے گی ۔

متعلقہ خبریں