Daily Mashriq

تفتیش کریں !!

تفتیش کریں !!

کیا ضروری ہے کہ ہر ایک بات کے پیچھے کسی سازش کا سایہ موجود ہو ۔ کیا ضروری ہے کہ ہر ایک آواز کے زیرلب اور کئی آوازیں بھی سُنائی دیں ۔ کیا ضروری ہے کہ ہر ایک حادثہ کسی تخریب کار دماغ سے جا ملتا ہو ۔ کیا ضروری ہے کہ انسان کا انسانیت سے گرجانا ، کسی اور کے کہنے پر ہو ۔ کیا ضروری ہے کہ احساس کے دیئے کا بجھ جانا سازش کی کسی تیز ہوا کے باعث ہو ۔کیا ضروری ہے کہ سیاست دانوں کی ہر ایک بات میں ہی کوئی ایسی بات ہو جس کا پتا چلانا ضروی ہو ۔ میں سوچتی ہوں کہ یہ سب ہو کیا ضروری ہے ۔ اوریہ سب نہ ہو اس کا بھی کا امکان ہے ۔ کیا ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو ۔ اس وقت ہم سب زینب کو بھول کر ، اتنے بچوں کو بھول کر اور اس سب کو بھول کو جو قصور میںہوا ، ہوتا رہا اور شاید اس کے بعد بھی ہوتا رہے گا ، ڈاکٹر شاہد مسعود کے پیچھے لگ گئے ہیں ۔ میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو ذاتی طور پر نہیں جانتی ۔ انکی صحافت اور طبیعت کے بارے میں اسی لیئے کوئی تبصرہ بھی نہیں کر سکتی ۔ لیکن اگر کسی کو ڈاکٹر شاہد مسعود سے اختلاف ہو یا انہیں اس بات کے لیے تیا ر کیا گیا ہو کہ باتوں کا رُخ اس جانب سے موڑ دیں کہ قصور میں کیا ہورہا ہے تو انہیں بھی یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ بات صرف اس حد تک محدود نہیں ہے ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ ذاتی عناد پر نا پسند یدگی کی قیمت کیا ہونی چاہیئے اس بات کا تعین کرنا اس وقت بہت ضروری ہے ۔ بینک اکائونٹس کی موجودگی یا غیر موجودگی کے حوالے سے بھی جو بات چیت ہورہی ہے اور حقائق کا اصل کیا ہے یا اُسے کیا شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ، ہر قسم کے امکان کو فی الحال رد نہیں کیا جا سکتا ۔ اس سارے معاملے میں تفتیش کی ضرورت ہے ۔ اس تفتیش کی جو ہمیں درحقیقت یہ بتا سکے کہ آخر قصور میں ہی بار بار یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود جن باتوں کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ان میں کوئی حقیقت ہے یا قصور کی اکثریت ذہنی طور پر بیمار ہو چکی ہے اور یہ ان کا ذاتی فعل ہے ۔ ہر دو صورتوں میں کسی بھی صوبائی وزیر داخلہ یا وزیر اعلیٰ کی مرضی اور دبائو کی گنجائش نہیں ۔ انہیں اپنی مالی بے ضابطگیوں تک ہی محدود رہنا چاہیئے ۔ رانا ثناء اللہ کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ انہیں کسی طور بھی مناسب حدود میں قید تصور نہیں کیا جا سکتا اور ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ایسے کاموں میں ملوث ہے جس میں ان کے بارے میں بات کرنے سے بھی زباں کٹتی محسوس ہوتی ہے ۔ میں اس معاملے پر سوچوں تو دل کٹنے لگتا ہے اور اگر نہ سوچوں تب بھی نہ زینب کا چہرہ دماغ سے نکلتا ہے اور نہ احساس کا درد کسی طور کم ہوتا ہے ۔ ہر لمحہ یہی لگتا ہے کہ دل کے صحن میں کوئی ماتم برپا ہے ۔ یہ درست ہے کہ میرے ملک میں ایسے لوگ ہی مسلسل حکمران ہیں جن کے لیے نہ انسانی جان کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی عوام کی عزت ووقار ، ان کے دُکھ دردان کے لئے کسی بھی قسم کی اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ درحقیقت درندے ہیں افسوس یہ ہے کہ انہیں ہم نے خود اپنے لیے منتخب کیا ہے ۔ ہم میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو آج تک اس ساری بات کو نہیں سمجھے ۔ قصور میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں زینب کو اگر واقعی انصاف مل گیا ہے تو بہت اچھی بات ہے اور اگر یہتراشیدہ انصاف ہے تو میں اپنی اس بچی کے دُکھ کو کبھی بھول نہیں سکتی ۔ میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصرہوں کہ ہم اس ساری صورتحال میں دراصل کیا چاہتے ہیں ۔ ہم زینب کو انصاف دلانا بھی چاہتے ہیں اور اس کیفیت کا اُپائے چاہتے ہیں یا بس اپنی آنکھوں میں خود ہی دھول جھونکنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہم واقعی اس باپ کے چہرے کا دُکھ پڑھ سکتے ہیں یا رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف کے چہروں کی مسکراہٹ ہی ہمارے لیے کافی ہے ۔ جس نظام کے پروردہ وہ صاحب ہیں جو ڈی جی فرانزک ہیں اسی نظام کے پروردہ ہر ایک محکمے کے اعلیٰ افسران ہیں ۔ یہ لوگ میرٹ کے قاتلان ہیں اور ان کے کاندھوں سے یہ لاش کبھی بھی اتاری نہیں جا سکتی ۔ زینب چلی گئی ۔ وہ کبھی نہیں لوٹے گی ۔ وہ کبھی نہیں بولے گی ۔ اس کی تکلیف اب خاموش ہوگئی اور اس کے ماں کے سینے کی مستقل دھونکنی بن گئی ۔ زینب کو یہاں انصاف ملے نہ ملے زینب کو اب کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ وہ جہاں ہے اس کے چہرے کی مسکراہٹ اب اور بھی روشن ہوگئی ہے ۔ اس کی آنکھوں کے ستارے بھی خوش ہیں ، لیکن فکر قصور کے اور بچوں کی ہے ۔ پاکستان کے اور بچوں کی ہے ۔ یہ جو ایک دوسرے کو پہلے بچاتے رہے ہیں اور آج بھی پردہ دار ہیں ، ان کے ہاتھوں سے یہ خون دھلے گا کیسے ؟ میں زینب کو نہیں جانتی تھی اور آج میری گود زینب کے نام سے سمٹ جاتی ہے ، انکے دل کیسے سکون پاتے ہیں یا انکے داغ اتنے ہیں کہ انہیں اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ بینک اکائونٹس نہیں ہیں یا ہیں اس کا فیصلہ بھی تفتیش کے ذریعے ہونا چاہیئے لیکن کچھ ہوگا نہیں ۔ شاہد مسعود نے کوئی ایسی انہونی بات نہیں کی ہے ۔ یہ سب دنیا میں ہورہا ہے ۔ اورتیسری دنیا کے بچے ان گھنائونے جرائم میں استعمال ہورہے ہیں ، تفتیش کریں ، اصل تفتیش ورنہ زینب تو ہر ایک کے گھر میں ہے ۔

متعلقہ خبریں