Daily Mashriq


چند خاندانوں کی جمہوریت

چند خاندانوں کی جمہوریت

پاکستان جمہوریت اور 22 کروڑ عوام کو چند ہزار وڈیروں، سرمایہ داروں، کا رخانہ داروں سیاست دانوں نے یر غمال بنا یا ہے اور 70 سال سے عسکری اور سیاسی حکمران پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی قسمت سے کھیل رہے ہیں۔ ا فسوس کا مقام ہے کہ ان حکمرانوں نے کچھ بھی نہیں کیا کہ پاکستان کو ما یو سیوں کے بھنور سے نکال سکیں اور عوام کی قسمت بدل سکیں۔ بے تحا شا قدرتی اور بشری وسائل کے با وجود بھی نااہل حکمرانوں نے پاکستان کے با شعور عوام کو پستیوں میںدھکیلا ہوا ہے ۔اگر مزید تجزیہ کریں تو نااہل قیادت کے بحران کی وجہ سے پاکستان اقتصادی، سفارتی بُحران کا سامنا کر رہا ہے۔ تو یہ گنے چُنیخاندان تقریباً 7 ہزار مُنظم سرمایہ داروں ، کا رخانہ داروں ، جاگیر داروں ، نوابوں پر مشتمل ہے جو آبادی کا 0.0028 فی صد بھی نہیں بنتا مگر انہوں نے22کروڑ عوام کو یر غمال بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اور پاکستان کے بعددنیا میں 120ریاستیں وجود میں آئیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ان ریاستوں میں پاکستان صحت، زراعت، صنعت، روزگار ، افراط زر اور مہنگائی اقتصادیات اور دوسرے سماجی اقتصادی اعشاریوں کے لحاظ سے سب سے نیچے ہے۔جسکی اصل وجہ پاکستان کے سیاست دانوں اور فوجی آمروں اور افسر شاہی کی ناقصکار کردگی ہے۔ کبھی ایک کی باری اور کبھی دوسرے کی باری، یہ خاندان اور روایتی سیاست دان پاکستان کے عوام کو اقتدار کے نیٹ میں گھسنے نہیں دیتے۔ ان خاندانوں میں بھٹو خاندان( سر شاہنواز بھٹو، پھر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، غنوی بھٹو ، بلاول بھٹو زرداری اور فاطمہ بھٹو)، شریف خاندان ( نواز شریف تین دفعہ وزیر اعظم ، شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب، نواز شریف کی اہلیہ قومی اسمبلی ممبر، مریم نواز اور اُنکے شریک حیات کیپٹن صفدر قومی اسمبلی ممبر، حمزہ شریف ممبرصوبائی اسمبلی )با چا خان فیملی( خان عبدالغفار خان ، ڈاکٹر خان ، پھر ان کے بیٹے ولی خان ، بہونسیم ولی خان، فر زندولی خان اسفند یار ولی اور اب اسفندیار ولی کا بیٹا ایمل اور بھانجا امیر حیدر ہو تی)مولانا مُفتی محمود فیملی( مُفتی محمود صا حب وزیر اعلیٰ سرحد، پھر مولانا فضل الرحمان ، بھائی عطاء الرحمان اور اب ان کا بیٹا اور داماد) شیر پائو فیملی ( حیات محمد خان شیر پائو، شہادت کے بعد بھائی آفتاب شیر پائو، اور اب فر زند آفتاب احمدشیر پائو سکندر شیر پائو ، سینئر وزیر )ارباب فیملی( ارباب نیار سابق وفاقی وزیر، ارباب جہانگیر سابق زیر اعلیٰ ، بیٹا ارباب عا لم گیر سابق وفاقی وزیرمواصلات اور انکی اہلیہ عا صمہ عالم گیر)ہوتی فیملی(محمد علی خان سابق وزیر تعلیم، عبد الغفور ہوتی سابق ریلوے وزیر)چو دھری فیملی(چو دھری ظہور الٰہی ، چو دھری شجاعت حسین، چو دھری پر ویز الٰہی، چو دھری وجاہت حسین اور اب چو دھری مونس الٰہی)سیف اللہ فیملی( بیگم کلثوم سیف اللہ، ایم این اے، سلیم سیف اللہ، ایم این اے اور ایم پی اے، ہمایوں سیف اللہ ، انور سیف اللہ)،لغاری فیملی (فاروق احمد خان لغاری ، سابق صدر ، اویس لغاری وفاقی وزیر، ایم پی اے اور ایم این اے)مر وت فیملی( حبیب اللہ خان جسٹس مغربی پاکستان، شاہ نواز خان، سابق چیف جسٹس کے پی کے)مزاری فیملی (بلخ شیر مزاری وزیر اعظم، شیر باز خان مزاری قائد حزب اختلاف، شوکت مزاری سابق ایم پی اے پنجاب اسمبلی سپیکر، شیریں مزاری ایم این اے ) سومرو خاندان ( خان بہادر اللہ بخش سومرو ، دو دفعہ سندھ کے وزیر اعلیٰ،الٰہی بخش سومرو، سپیکر قومی اسمبلی وفاقی وزیر،رحیم بخش سومرو وزیر سندھ، محمد میاں سومرو وزیر اعظم ، صدرپاکستان،سینیٹر و گو رنر سندھ)زرداری فیملی( حاکم زرداری ، آصف زرداری، بلاول زرداری، فر یال تالپور، ازراء پلیجو)ترین فیملی( ایوب خان صدر پاکستان فیلڈ مارشل، گوہر ایوب، عمر ایوب ، یوسف ایوب)رائو فیملی ( رائو محمد ہاشم خان، رائو محمد اجمل خان، رائو سکندر اقبال، رائو قیصر علی خان، رائو محمد افضال) قاضی فیملی( قاضی عبدالمجید عابد، ٤ بار وفاقی وزیر، فہمیدہ مرزا، سپیکر قومی اسمبلی، تین دفعہ ایم این اے، ذوالفقار مر زا،صوبائی وزیر، پیر فیملی( پیر مظہرا لحق ، کئی بار وزیر، ما روی مظہر ، صوبائی وزیر سندھ، پیر زادہ فیملی( شریف ا لدین پیر زادہ فیملی، 1973 آئین کے آر کیٹک، دفاقی وزیر قانون، عبد الحفیظ پیر زادہ، سابق وزیر تعلیم، نون فیملی( فیروزخان نون وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب، انور خان نون ، سابق ایم این اے، امجد خان نون ، ضلع ناظم، وقارالنساء نون بھٹو خاندان کی قانونی مشیر، منہاس فیملی( اکبر خان، فو رسٹر جنرل، افتخار خان ، پہلے نامزد چیف آف آرمی سٹاف، عفت لیاقت علی وفاقی وزیر، ریاض احمد صوبائی وزیر پنجاب، میاں فیملی آف باغبانپو رہ( جسٹس میاں شاہ دین ، سر میاں محد شفیع، صدرآل انڈیا مسلم لیگ ، میاں شاہ نواز، میاں افتخار الدین سابق سیاست دان ، (گبول فیملی) اللہ بخش گبول ممبربمبئی اور سندھ قانون ساز اسمبلی ، دو دفعہ کراچی کے میئر، نبیل گبول، سابق وفاقی وزیر جہاز رانی،( جدون فیملی) اقبال جدون وزیر اعلیٰ سرحد، امان اللہ جدون ، وزیر پٹرولیم،( کھر فیملی ) مصطفی کھر، وزیر اعلیٰ پنجاب ، غلام ربانی کھر ایم این اے، حنا ربانی کھر ، سابق وزیر خارجہ، (خٹک فیملی) حبیب اللہ خٹک، علی قلی خان ، فوجی جنرل، غلام فاروق خان ، قانون ساز، نصراللہ خٹک وزیر اعلیٰ سر حد، یوسف خٹک ، اجمل خٹک ، پر ویز خٹک ( وزیر اعلیٰ کے پی ، کھو کر خاندان ، بگتی خاندان ، مگسی خاندان ، اچکزئی فیملی، پرنس اورنگ زیب فیملی، ترہ کئی خاندان، جتوئی خاندان اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی خاندان ہیں جو پاکستان پر 70 سال سے حکومت کر رہے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ان خاندانوں کے علاوہ ٢٢ کروڑ عوام میں کوئی اور لیڈر نہیں جو ملک میں عام انتخابات اور کسی پا رٹی قیادت کے لئے اہل ہو۔

متعلقہ خبریں