Daily Mashriq


جنسی تعلیم کاڈھنڈورا

جنسی تعلیم کاڈھنڈورا

کسی بھی معاشرے کے نوجوانوں کا بے راہ روی اختیار کرنا اور کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے واقعات کا رونما ہونا کسی المیے سے کم نہیں ہوتا ،اگر اس طرح کے واقعات اسلامی معاشرے میں سامنے آئیں تو اس کی شدت اور بھی بڑھ جاتی ہے ،سماج میں جب ایسے واقعات سامنے آئیں تو ہونا یہ چاہئے کہ بے راہ روی کے واقعات کے اسباب پر غور کیا جائے،مثال کے طورپرجو شخص بھی غلط کاری کا مرتکب ہوتا ہے اس کے اسباب کوئی فحش واقعہ ،کسی فلم کا سین ،غلط خیالات یا کم از کم آس پاس کا ماحول جو برے دوست کی صحبت کی صورت بھی ہو سکتاہے وہ بھی جذبات بھڑکانے کا سبب بنتاہے، اس سلسلے میں سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے کہ غلط کاری کی طرف دھیان بھی نہ جائے ،گھر کے بڑے افرادبچوں کے دوستوں پر خاص نظر رکھیںاور بچوں کے موبائل فون ،لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے مثبت استعمال پر بھی کڑی نگاہ رکھیں تو امیدکی جا سکتی ہے کہ ہمارے بچے اور ہمارا معاشرہ جنسی بے راہ روی سے بچا رہے گا ۔اگر اس کے بر عکس ہم مغر ب کی نقالی میں جنسی تعلیم کے فروغ میں لگ جائیں گے تو خدشہ ہے کہ یہ وبا کم ہونے کے بجائے شدت اختیار کر جائے جس طرح کہ مغرب میں اختیار کر گئی ہے ۔اہل مغرب نے جو جنسی آگاہی کے نام پر تعلیم شروع کی ہے اس کے نتائج سے پوری دنیا واقف ہے ۔

ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ کی طر ف سے یہ سوال بار باراٹھایا جاتا ہے کہ اگر دورجدید میں ہمیں جنسی بے راہ روی کو روکنا ہے تو اس کے لیے جنسی تعلیم لازمی کردینی چاہیے۔ یہ ایک منفی فکر کی علامت ہے۔ تعلیمی نصاب میں الگ سے جنسی تعلیم فراہم کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ خودبہت بڑا مسئلہ ہے۔ مسئلے کا اصل حل تعلیمی حکمت عملی ہے۔ جب تک ہم اپنے نصاب کے اندر خاندان کی اہمیت، خاندان کے حقوق اور فرائض کو شامل نہیں کریں گے، اس وقت تک یہ سمجھنا کہ اگر بچوں کو یہ بات سمجھا دی جائے کہ جنسی امراض کیا ہوتے ہیں اور ان سے کس طرح سے بچا جائے، اس سے ایک باعفت اور باعصمت معاشرہ وجود میں آجائے گا تو یہ سراسر ایک واہمہ ہے۔ یہ صداقت سے خالی مفروضہ ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے فکری زاویے کو تبدیل کرنا ہوگا ۔ جس چیز کو اسلام نے حرام قرار دے دیا ہو آخر اس کو ''محفوظ '' کہہ کر کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ یہ اختیار فرد یا معاشرے یا ریاست کو کس نے دیا ہے؟ گویا جو بات مغرب کہہ رہا ہے ہم اسے کسی بھی انداز میں کہیں، وہ نقصان ، خرابی اور تباہی کی طرف ہی لے کر جائے گی۔

مسئلے کو اصولی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہمیں خاندان کی اہمیت کو اپنے نصاب میں شامل کرنا ہوگا۔اسلام میںجہاں کہیں بھی جنس سے متعلق بات کی گئی ہے اس کا انداز تعلیمی اور اسلوب اخلاقی ہے۔ اسلامی فقہ طہارت، بلوغ اور اس سے وابستہ مسائل کا ذکر کرتا ہے اور ہر موقع پر حلال اور اخلاقی طریقوں پر زور دیتا ہے اور لذت کے حرام طریقوں کو فحش سے تعبیر کرتا ہے۔ احادیث بار بار اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ یوم الحساب میں جو سوالات پوچھے جائیں گے ان میں سے ایک کا تعلق جوانی گزارنے سے ہے اور دوسرے کا معاشی معاملات سے۔

جنس کے حوالے سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم جب بھی جنس کی بات کرتے ہیں تو اسے ہم عام طور پر خواتین سے وابستہ کردیتے ہیں لیکن انسانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنسی تعلق ان دو اکائیوں کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ جن میں سے ایک اکائی ایسی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہرلحاظ سے پرکشش بنایا ہے۔ اس بنا پر ہمارا ادب ہو یا زمینی حقائق، وہ اس کا انکار نہیں کرسکتے ہیں لیکن اس بنا پر صنفِ نازک کو کمرشلائز کردینا، اس کو شو پیس بنا دینا، یہ لازمی طور پر ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ اس سے لازماً بچنا چاہیے۔ اسی طرح مرد کو بھی حسن دیا گیا ہے۔ اس میں بھی کشش پائی جاتی ہے لیکن اگر مقابلتاً دیکھا جائے تو ہمارے ادب اور شعر کا مرکز اگر کوئی رہا ہے تو وہ خاتون ہی رہی ہے اور اس میں دونوں پہلو شامل رہے ہیں ، جمال کے بھی اور جنس کے بھی۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلامی تصورِ حیات کی روشنی میں مرد اور عورت دونوں کے بارے میں بجاے جنسِ محض ہونے کے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی مخلوق کی حیثیت سے جسے اخلاقی وظیفے سے آراستہ کیا گیا ہے، غور کیا جائے۔ گویا برتری اور فضیلت کی بنیاد نہ محض جنسی کشش ہو، نہ کسی کا مؤنث یا مذکر ہونا بلکہ اخلاقی تفضیل۔ یہی وہ فضیلت و برتری ہے جسے قرآن کریم نے مختلف مقامات پر وضاحت سے بیان کیا ہے۔ خصوصاً سورہ احزاب میں جہاں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اخلاقی طرزِعمل کی بنیاد پر اجر و انعام کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔

بچوں میں جنس کے بارے میں فطری طور پر تجسس ہوتا ہے جسے نہ دبانے کی ضرورت ہے نہ ابھارنے کی، بلکہ تعلیمی نفسیات کی روشنی میں عمر کے مرحلے کے لحاظ سے تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ عصمت و عفت کی تعلیم اور شرم و حیا کا تصور دراصل جنسی تعلیم ہی کے اجزا ہیں۔ اس کے برخلاف تصاویر بنا کر پانچویں اور چھٹی جماعت کے یااس سے بھی کم عمر کے بچوں کو تولیدی عمل سے آگاہ کرنا انہیں پریشان خیالی اور بے راہ روی کی طرف لے جانے کا ایک بہت ''کامیاب'' طریقہ ہے جس سے لازمی طور پر بچنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں