Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

بغداد میں ایک بد معاش شخص نے ایک عورت کو پکڑ لیا اور خنجر نکال کر اس کے گلے پر رکھ دیا ۔ لوگ دور سے ڈر سہم کر تماشہ دیکھ رہے تھے ، مگرکسی کی جرأت نہیں تھی کہ وہ عورت کو اس بد معاش کی چنگل سے آزاد کراتے ۔ اتنے میں ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا ۔ وہ اس بد معاش کے قریب ہوئے ۔ اس کے کان میں کچھ کہا اور آگے بڑھ گئے ۔

بزرگ کی بات سن کر اس بد معاش پرلرزہ طاری ہوگیا اور ایک دم بے ہوش کو کر گر پڑا خنجر ہاتھ سے دور گر گیا اور وہ عورت وہاں سے بھاگ گئی ۔ لوگ بھی سارے حیران تھے کہ یہ کیا ماجرہ ہوا ، جب بد معاش ہوش میں آیا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ '' یہ بزرگ کون تھے ؟ ''۔

اسی دوران حاضرین میں سے کسی نے پکار کر کہا کہ ''یہ زمانے کے ولی کامل حضرت بشر حافی ہیں ''۔ لوگوںنے پوچھا کہ انہوں نے تیرے کان میں کیا کہا کہ تو بے ہوش کر گر پڑا ۔ اس شخص نے کہا کہ انہوں نے بس اتنا ہی کہا کہ ''تیرے اس فعل کو خدا پاک دیکھ رہا ہے ''یہ سن کر میں خوف سے کانپ اٹھا اور مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا ، مجھے احساس ہوا کہ میں کتنا بے شرم اور بے حیا ہوں کہ مجھے میرا رب دیکھ رہا ہے اور میں پھر بھی بے حیائی کا کام کر رہا ہوں ۔ بس مجھے اس احساس نے تڑپا کر گرایا اور میں بے ہوش ہوگیا ۔

کہتے ہیں کہ وہ بد معاش نہایت چیخیں مار مار کر روتاتھا ۔ اس خوف کی وجہ سے اس کو بخار ہوا اور ہو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی وفات ہوگئی ۔ لوگ خداسے محبت کرنے کے دعوے بھی کرتے ہیں اور گناہوں پر قائم بھی رہتے ہیں اور ندامت بھی محسوس نہیں کرتے الٹا اپنے غلط کاموں کے لیے جواز تلاشتے ہیں ۔ حالانکہ ''جو کرتا ہے چھپ چھپ کر اہل جہاں سے ۔۔۔کوئی دیکھ رہا ہے تجھے آسمان سے ''۔

(عبرت آموز واقعات)

سعید بن عاصکا ہاتھ سخاوت میں بہت مشہور تھا ، جب بھی ان کے پاس کوئی سائل آتا تو آپ ان کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتے ، اگر کچھ نہ ہوتا تو کسی سے قرض لے کر اس کی حاجت برا ری فرماتے ، چنانچہ جب ان کا انتقال ہوا تو اس قسم کے بہت سے قرض آ پ کے ذمے واجب الادا تھے ، کسی طرح سے وقت کے امیر المومنین کو معلوم ہوگیا تو انہوں نے ان کے صاحبزادے عامر بن سعید کے پاس وافر مقدار میں رقم بھیج دی اور کہلوادیا کہ اسے تقسیم کر کے اپنے والد محترم کا قرض اتارو۔

عامر بن سعید نے وہ رقم جوں کی توں واپس کردی اور کہا اگرمیںیہ رقم لے لیتا ہوں تومیرے والد کی سخاوت پر حرف آئے گا ۔ امیرالمومنین نے دریافت کیا کہ پھر تمہارے والد کا قرض کس طرح ادا ہوگا ؟ عامر بن سعید نے فرمایا : امیر المومنین ! آپ ان کا مکان قیمتاً خرید لیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے والد کا مکان فروخت کر کے اس کی قیمت قرض داروں میں تقسیم کردی ۔ (مخزن اخلاق)

متعلقہ خبریں