Daily Mashriq


افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم ترین پیش رفت

افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم ترین پیش رفت

افغانستان میں چالیس سالہ جنگ زدگی اور اس دوران 17 سال سے جاری طالبان امریکہ جنگ کے خاتمہ اور قیام امن کے بارے میں حالیہ دوحا مذاکرات میں اہم پیش رفت کی خبر ساری دنیا کے امن پسندوں کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ مذاکرات میں افغانستان میں قیام امن کے لیے فریقین کے درمیان معاہدہ کے ایک مسودہ پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اگرچہ فریقین نے سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم دونوں کے ذرائع سے اتفاق کے بارے میں آنے والی خبریں حوصلہ افزا ہیں۔ یہ اتفاق رائے ابتدائی ایشوز پر ہوا ہے۔ ان پر امریکہ ‘ افغان حکومت اور طالبان قیادت کی منظوری کے بعد آگے بڑھا جائے گا اور اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کا اگلا دور فروری کے پہلے ہفتے میں دوحا ہی میں ہو گا اور طالبان کے قطر دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اس اجلاس کی صدارت کریں گے جنہیں طالبان نے امیر امارات کا نائب مقرر کر دیا ہے۔طالبان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں فریق جنگ ختم کرنے پر متفق ہو گئے ہیں اور طے پایا ہے کہ امریکہ 18ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا پر رضا مند ہو گیا ہے۔ ایک معاصر کے مطابق طالبان کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلہ اور طالبان لیڈروں کو بلیک لسٹ سے نکالنے پر بھی رضا مند ہو گیا ہے جس کے باعث طالبان کے نمائندے بین الاقوامی سفر نہیںکر سکتے۔ اس کے مقابلے میں طالبان اس پر رضا مند ہو گئے ہیں کہ وہ القاعدہ اور داعش کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے اور افغانستان کی مستقبل کی حکومت تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ باغیوں سے تعلقات ختم کر دے گی اور پاکستان کے خلاف کام نہیں کرے گی۔ جنگ بندی پر اتفاق اور امریکی فوجوںکی واپسی کے لیے عرصہ کا تعین ایسے بنیادی نکات ہیں جن کی بنا پر فریقین کے افغانستان میں امن قائم کرنے کے ارادے اور نیک نیتی کا یقین کیا جا سکتا ہے۔اس اعتبار سے یہ گزشتہ 17سال کے دوران قیام امن کی اہم ترین پیش رفت ہے۔ تاہم اس کے علاوہ اور بھی دیگر معاملات ہیں جن کے بغیر یہ اتفاقِ رائے مکمل امن کا معاہدہ نہیں کہلا سکتا۔ مثال کے طور پر امریکی فوج کے انخلا کے دوران اور اس کے بعد افغانستان میں امن کی حفاظت‘ افغانستان میں عارضی حکومت کا قیام ‘ افغانستان میں آئینی اصلاحات ‘ امریکہ کی واپسی کے بعد کابل حکومت کی افغان فوج کا قومی فوج میں انجذاب اور دیگر ایسے ہی مسائل۔ طالبان ذرائع کے مطابق عارضی حکومت امریکی فوج کے انخلا کے بعد بنے گی۔ لیکن اس سے پہلے کابل حکومت کے زیرِ انتظام ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں جن میں صدر اشرف غنی بھی امیدوار ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ الغرض اس ابتدائی اتفاقِ رائے کے بعد اور بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ تاہم فریقین دو حا مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پرعزم تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات دو دن کے لیے طے تھے لیکن چھ دن تک جاری رہے ۔ اس دوران یہ مذاکرات جمعہ کے روز ٹوٹنے والے تھے لیکن طالبان کی طرف سے اس امریکی مطالبہ کے تسلیم کیے جانے کی بنا پر جاری رہے کہ انہوں نے داعش کی مذمت کا اعلان کیا۔ البتہ القاعدہ کی مذمت کے مطالبے کے بارے میں کہا کہ وہ پہلے ہی طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخونزاہ کی اطاعت کا اعلان کر چکے ہیں۔ فریقین میں سے کسی نے بھی سرکاری طور پر اس معاہدہ کے مسودہ کا اعلان نہیںکیا ہے اور یہ مسودہ جیسے کہ سطور بالا میںکہا گیا ہے کہ جامع معاہدہ نہیں ہے۔ امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مکمل اتفاقِ رائے تک کوئی اتفاق ِ رائے نہیں۔ تاہم زلمے خیل زاد اس ’’نامکمل‘‘ اتفاق کو مکمل بنانے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ دوحا سے وہ کابل روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو مذاکرات او رمسودہ معاہدہ کے بارے میں اعتماد میں لیں گے۔ زلمے خیل زاد نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اتفاقِ رائے اس وقت تک مکمل اتفاق نہیں جب تک تمام ایشوز پر متفق نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مکمل اتفاق میں بین الافغان مذاکرات یعنی طالبان اور کابل حکومت کے مذاکرات اور جامع جنگ بندی شامل ہیں۔ کابل میںافغان حکومت کی قیادت سے ملاقات کے بعد زلمے خلیل زاد واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ امریکی حکام کو امن مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔ اور ان کی منظوری کے بعد مذاکرات کا اگلا دور شروع ہو نے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پچھلے دنوں ڈیوس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں جب سے انہوں نے 2014ء میں اقتدار سنبھالا ہے 45ہزار سیکورٹی اہل کار ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کی یہ شرح ہولناک صورت حال ظاہر کرتی ہے جب کہ غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تعداد 72رہی۔ اس سے امریکہ کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ افغان فوج مختلف گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں طالبان کے 5 جنوری کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق 2018ء میں دو ہزار دو سوسے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدر اشرف غنی کا بیان اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں ایک بار پھر کشت خون کا بازار گرم ہو سکتا ہے۔ یقینا یہ امکان ہولناک ہے ۔ اگر صدر اشرف غنی کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر بیان کیے ہوئے کہا جائے تو بھی افغانستان میں جنگ ایک حقیقت ہے اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر یا تھوڑے تھوڑے وقفوں سے حملے ایک حقیقت ہیں۔ اس لیے اس دوران افغان معاشرے میں جو باہمی تحفظات اور محدودیت پیدا ہو چکی ہے اس کی بجائے معاشرے کو مربوط کرنے کی شعوری کوشش کی ضرورت اہم سمجھی جانی چاہیے۔ زلمے خلیل زاد کے مطابق دوحا کے حالیہ مذاکرات امن کی طرف اہم پیش رفت ہیں ‘ اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ امن کی طرف حقیقی ابتداء ضرور ہے لیکن محض ابتداء ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق امریکی فوجوں کی اٹھارہ ماہ میں واپسی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس دوران یہ ضروری ہو گا کہ اس امن عمل پر افغان عوام کا اعتماد قائم رکھنے کے لیے امن کو نقصان پہنچانے کے ہر قسم کے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ یہ کہنا اس لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں بدامنی کچھ عناصر کے سیاسی مقاصد کاحصہ ہے اور کچھ عناصر کے لیے بدامنی اور حالت جنگ منفعت کا وسیلہ ہے۔ یہ عناصر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے طالبان اور افغان حکومت دونوں کو نگران رہنا ہو گا۔ آخر کار قیام امن کے جامع معاہدے کی خاطر طالبان اور افغان حکومت کو مل بیٹھ کر کام کرنا ہو گا۔ اس لیے باہمی احترام اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لیے باہمی کوشش کی ضرورت ہو گی۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ امن کی حفاظت ضروری ہو گی۔ جنگ زدگی کے طویل عرصے میں افغانستان میں جو دوریاں پیدا ہو چکی ہیں وہ ایک معاہدے پر دستخط سے یکایک دور نہیںہو جائیں گی۔ خدشات ہیں کہ عبوری حکومت جب بھی قائم ہوتی ہے وہ افغان معاشرے کے مختلف عناصر اور افراد کے درمیان پیدا ہونے والی گرہوںکو فوری طور پر ختم کرنے میںکامیاب نہ ہو سکے گی اس لیے ایک بار پھر افغانستان میںکشت و خون کا بازار گرم ہو سکتا ہے ‘ ایک بار پھر افغانستان کے عوام مصائب کا اور افغانستان کے ہمسایہ ملک تارکین وطن کے مسائل کا شکار ہو سکے ہیں۔ اس کے لیے افغانستان کے ساتھ جن ملکوں کی سرحدیں ملتی ہیں ان کے عناصر پر مشتمل ایک امن فوج افغانستان میں ایک عرصے تک مقیم رہے گی تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ امن کے قائم رکھنے کے لیے تقویت کا باعث ہو گی۔ اس دوران ایک طرف افغانستان میں تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی ماسٹر پلان کے تحت منصوبے شروع کیے جانے ضروری ہونے چاہئیں تاکہ افغان عوام کو اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کا فخر اور اطمینان حاصل ہو اور انہیں روزگار میسر آئے۔ امید کی جانی چاہیے کہ دوحا مذاکرات آگے بڑھیں گے اور اس اہم پیش رفت کے بعد اسے جامع امن معاہدہ تک پہنچانے اور اس پر کامیاب عمل درآمد کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبریں